اے این پی کی پاکستان سٹاک ایکسچینج پر دہشتگرد حملے کی مذمت

ملک کا وزیراعظم جب اسمبلی پر ایک عالمی دہشتگرد کو شہید قرار دے، وہ حکومت دہشتگردی ختم نہیں کرسکتی، اسفندیارولی خان

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے پاکستان سٹاک ایکسچینج پردہشت گردوں کی جانب سے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ ملکی سلامتی اور معیشت پر حملے کے مترادف ہے۔

باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی سربراہ اسفندیارولی خان نے جرات و بہاردی سے دہشت گردوں کی کوشش کو ناکام بنانے والے اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم دہشتگرد حملے میں شہید پولیس اہلکار اور دیگر افراد کے اہل خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے۔

نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عملدرآمد نہ کرنے سے دہشتگرد مزید متحرک ہورہے ہیں

اسفندیارولی خان نے کہا کہ جب ملک کا وزیراعظم ایک عالمی دہشتگرد کو اسمبلی کے فلور پر شہید قرار دیتا ہے تو ایسی حکومت دراصل ان شہداء اور غازیوں کی توہین کرتا ہے جنہوں نے اس مٹی کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ موجودہ حکومت میں اتنی طاقت ہی نہیں کہ دہشتگرد کو دہشتگرد کہہ سکے لیکن ہم ببانگ دہل روز اول سے اس ناسور کے سامنے کھڑے رہے ہیں اور آج بھی اسی موقف کے ساتھ کھڑے ہیں۔

پی ٹی آئی حکومت اس وقت بھی دہشتگردوں کیلئے دفاتر کا مطالبہ کررہے تھے اور آج بھی ان میں دہشتگردوں کے خلاف کھڑا ہونے کی جرات نہیں۔ ہم نے اپنے رہنمائوں اور کارکنان کی قربانیاں دی اور آج جو اہلکار شہید ہوئے ہیں انکے خاندان کا دکھ درد اے این پی سے زیادہ کوئی محسوس نہیں کرسکتا۔

اے این پی سربراہ نے ایک بار پھر اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان ایک کاغذ کا ٹکڑا بنادیا گیا ہے اور آج بھی کہتے ہیں کہ جب تک نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل نہیں کیا جاتا، دہشتگردی کا قلع قمع نہیں کیا جاسکتا۔

موجودہ حکومت میں اتنی طاقت ہی نہیں کہ دہشتگرد کو دہشتگرد کہہ سکے

اے این پی سربراہ نے پولیس اہلکار سمیت واقعے میں شہید افراد کیلئے شہداء پیکج کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہیروز یہی اہلکار ہیں اور جو لوگ دہشتگردوں کو اپنا ہیرو سمجھتے ہیں وہ دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑسکتے ہیں نہ جیت سکتے ہیں۔

اسفندیارولی خان نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگرد خیبر پختونخوا سمیت ملک کے دیگر صوبوں میں دوبارہ متحرک اور منظم ہورہے ہیں لیکن حکومتی ایوانوںمیں اقتدار پر رہنے اور اپنی کرسی بچانے کی جنگ جاری ہے جبکہ ملک کی سالمیت اور بقا کے بارے میں کوئی سوچ و فکر موجود ہی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں

چیک پوسٹ حملہ، خیبرپختونخواحکومت کا پی ٹی ایم رہنماؤں کیخلاف کیس واپس لینے کا فیصلہ

صوبائی حکومت موجودہ صورتحال کے تناظر میں کیس واپس لینا چاہتی ہے، عدالت میں درخواست …