اپوزیشن مطالبات اپنی جگہ،اے این پی کا ملک بھر میں شفاف انتخابات کرانیکا مطالبہ

ان ہاؤس تبدیلی حل نہیں، مسائل کا حل بغیر کسی مداخلت کے انتخابات میں ہے،عوامی نیشنل پارٹی اپوزیشن کا حصہ ہے،افغان لویہ جرگہ کی حمایت کرتے ہیں،پاکستان مثبت سہولت کار کا کردار ادا کرے، امیر حیدر خان ہوتی

پشاور(نمائندہ خصوصی) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر امیرحیدرخان ہوتی نے کہا ہے کہ ملک کے مسائل کا حل ان ہائوس تبدیلی میں نہیں بلکہ ملک میں صاف، شفاف اور بغیرکسی مداخلت کے انتخابات ہونے چاہیے۔ باچاخان مرکز پشاور میں مرکزی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیرحیدرخان ہوتی نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو فاصلے ختم کرنے ہوں گے، اے این پی اپوزیشن کا حصہ ہے اور ان فاصلوں کو ختم کرنے کیلئے ہر ممکن کوششیں کرے گی۔

ملک کی معاشی صورتحال بارے انہوں نے کہا کہ معیشت کورونا سے پہلے ہی مشکلات کا شکار تھا،لیکن حکومت معاشی تباہی کی ذمہ داری کورونا پر ڈال رہی ہے،حکومتی اعداد و شمار کے مطابق مارچ تک غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا،جی ڈی پی 2019-20 میں 3000ارب روپے کی کمی کا سامنا ہے،ایف بی آر کے ٹارگٹ میں 900ارب روپے کی کمی ہے،نان ٹیکس ریونیو میں 102ارب روپے کی کمی کا سامنا ہے،حکومت نے آئی ایم ایف کے کہنے پر اس سال کیلئے 4963ارب روپے ریونیو ہدف رکھا جو غیرحقیقی ہے۔اس ہدف کو پورا کرنے کیلئے یا تو مزید قرضہ لینا پڑے گا یا ترقیاتی منصوبے روکنے ہوں گے۔کاروباری طبقے کیلئے شرح سود زیادہ سے زیادہ 4فیصد کرنا چاہیے۔

امیرحیدرخان ہوتی کا کہنا تھا کہ عمران خان کہتے تھے، ممبران کو فنڈز دینا سیاسی رشوت ہے، آج حکومتی اراکین کو فنڈز مل رہے ہیں اپوزیشن کو نظرانداز کیا جارہا ہے،اراکین کو دی جانیوالی رقم تعلیم اور صحت کے شعبوں پر خرچ کیا جائے۔

صوبائی حقوق بارے انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم اور صوبائی خودمختاری کا ہر فورم پر دفاع کرتے رہیں گے۔مرکزاور خیبرپختونخوا میں ایک ہی جماعت کی حکومت کے باوجود بجلی کا خالص منافع نہیں دیا جارہا۔اے این پی فوری طور پر نئے این ایف سے ایوارڈ کے اجراء کا مطالبہ کرتی ہے۔ضم اضلاع کے مالی ، قانونی اور انتظامی معاملات کو فوری طور پر حل کیا جائے۔

افغان امن عمل کے بارے میں اے این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر امیرحیدرخان ہوتی نے کہا کہ افغان لویہ جرگہ کی حمایت کرتے ہیں،پاکستان مثبت سہولت کار کا کردار ادا کرے۔افغان امن میں امریکا اور دیگر عالمی قوتیں افغانستان میں امن لانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔پاک افغان تجارت کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ،سرحد کھلتا نہیں، جب کھلتا ہے تو دھماکے ہوتے ہیںکچھ قوتیں پاک افغان بہتر تعلقات نہیں چاہتے اور اعتماد کا فقدان ختم کرنے کے خلاف ہیں۔افغانستان کے ساتھ تجارت کیلئے عوام کو سہولیات فراہم کئے جائیں۔کرتارپور دروازے کھلنا اچھی بات ہے لیکن افغان بارڈر پر وہی سہولت یہاں کیوں نہیں دی جاتی؟ملک میں میڈیا کی آزادی اور سیاسی انتقام بارے انہوں نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں عدلیہ پر وار کیا جاتا ہے، میڈیا پر بھی وار کئے جارہے ہیں جس کی تازہ مثالیں میرشکیل الرحمان کی گرفتاری اور مطیع اللہ جان کا اغوا ہے۔ اے این پی میڈیا کی آزادی کیلئے اپنی صحافتی برادری کے ساتھ کھڑی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

نیب نے شہباز شریف کو گرفتار کر لیا

لاہور: لاہورہائی کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کی درخواست ضمانت مسترد کر …

%d bloggers like this: