سینیٹ، کالاباغ اور آکوڑی ڈیم منصوبوں پر اپوزیشن کا شدید احتجاج

اسلام آباد(آن لائن؍این این آئی) ایوان بالا میں وقفہ سوالات کے دوران اپوزیشن اراکین کا کالا باغ ڈیم اور آکوڑی ڈیم کے منصوبوں پر شدید احتجاج کیا ہے ،ڈیسک کے سامنے جمع ہوگئے اور نامنظور نامنظور کے نعرے لگائے ،ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنے لگا۔جس پر وزیر مملکت علی محمد خان نے کہاکہ موجودہ حکومت کالا باغ ڈیم کا منصوبہ شروع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی ہے ایسے تمام منصوبے مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری کے بعد شروع ہونگے ،اجلاس میں اراکین نے انسانی حقوق کمیشن کی عدم تشکیل پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔

منگل کے روز وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر گیان چند نے ضمنی سوال کرتے ہوئے کہاکہ وزارت آبی وسائل میں ابھی تک اقلیتی برادری سے تعلق کوئی بھی ملازم نہیں ہے جس پر وزیر پارلیمانی امور نے بتایاکہ اقلیتی برادری کا 5 فیصد کوتہ مختص ہے اور اس پر عمل درآمد کیا جائے گا.

اس موقع پر سینیٹر سستی پلیجو نے وفاقی وزیر آبی وسائل کی عدم موجودگی پر احتجاج کرتے ہوئے کہاکہ وزیر موصوف ٹی وی پر بیٹھ کر باتیں کرتے رہے ہیں مگر ایوان میں موجود نہیں ہیں انہوںنے کہاکہ وزارت آبی وسائل میں اقلیتوں کو محروم رکھا گیا ہے یہ طریقہ کار درست نہیں ہے جس پر وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہاکہ اگر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کو صوبوں کے حقوق کا اتنا خیال ہے تو اپنے دور میں کیا کرتے رہے ہیں ہم بھاگنے والے نہیں ہیں بلکہ سب کو بھگائیں گے۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ وفاقی وزیر کی عدم موجودگی کی وجہ سے سوالوں کے درست جواب نہیں مل رہے ہیں انہوںنے کہاکہ خیبر پختونخوا کے حصے کا پانی دیگر صوبے استعمال کر رہے ہیں اور وفاق نے پانی کے عوض معاوضہ ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی مگر 1991سے لیکر آج تک خیبر پختونخوا کو کوئی معاوضہ نہیں ملا ہے جس پر وزیر مملکت نے کہاکہ یہ بہت اہم سوال ہے انہوںنے کہاک 1991کے معاہدے کے مطابق ہ خیبر پختونخوا کو پانی کا پورا حصہ ملتا ہے اگر پانی کی کمی آتی ہے تو اس سے تمام صوبے متاثر ہوتے ہیں.

انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت جلد ہی ٹیلی میٹرنگ سسٹم نصب کرے گی۔ سینیٹر میر کبیر محمد احمد شاہی نے ضمنی سوال کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان کو اس کے حصے کا پانی نہیں ملتا ہے سینٹر میاں عتیق شیخ کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے کہاکہ پاکستان میں پانی کی زیر زمین سطح مسلسل کم ہورہی ہے اور اب تک 1ہزار کیوبک فٹ پانی کی سطح کم ہوئی ہے انہوںنے کاکہ گذشتہ کئی عشروں میں حکومتوں نے پانی کی زیر زمین کمی پوری کرنے کیلئے بہت کم اقدامات کئے ہیں.

انہوں نے کہاکہ پانی بچانے کیلئے عوامی شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہاکہ حکومت کو بلوچستان میں پانی کی کمی پوری کرنے کیلئے اقدامات کرنے چاہیے جس پر وزیر مملکت نے کہاکہ ایوان بالا میں پانی پر بحث ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ پانی کی تقسیم کے حوالے سے ارسا کے فارمولے کی سندھ اور پنجاب نے مخالفت ہے۔ سینیٹر جہانزیب جمالدینی نے کہاکہ اگر چھوٹے یا میڈیم سائز کے ڈیم بلوچستان میں بنائے جاتے تو اس سے پانی کو محفوظ رکھا جاسکتا ہے سینیٹر میاں عتیق شیخ کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت علی محمد خان نے کہاکہ حکومت پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کیلئے بھرپور اقدامات کر رہی ہے.

وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہاکہ بلوچستان میں کاریز کا منصوبہ جاری ہے زراعت کے شعبے میں جدید تحقیق پر عمل درآمد کیا جارہا ہے اگر ہم اپنی زمینوں کو لیزر لیول کرلیں تو موجودہ پانی ہمارے لئے کافی ہے.

انہوں نے کہاکہ پہلے مرحلے پر 500زرعی فارم بنا رہے ہیں جو میں نجی شعبہ بھی شامل ہوگااس منصوبے سے پاکستان کے چھوٹے کسانوں کو بہت زیادہ فائدہ پہنچے گاسینیٹر جہانزیب جمالدینی نے کہاکہ بلوچستان میں چھوٹے ڈیمز تیاری کے قریب ہیں مگر اب ان کو گرانٹ نہیں مل رہے ہیں جس کی وجہ سے یہ ڈیمز تاخیر کا شکار ہورہے ہیں جس پر وزیر مملکت نے کہاکہ جو ڈیمز مکمل ہونے کے قریب ہیں ان کو فنڈز فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔

سینیٹر رانا محمود الحسن کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کہاکہ مردم شماری کے نتائج مکمل کئے جارہے ہیں اس وقت خیبر پختونخوا اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کیلئے حلقہ بندیاں مکمل ہونے کے قریب ہیں.

انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں حلقہ بندیوں کا کام بلوچستان ہائیکورٹ کے حکم امتناعی کی وجہ سے بند ہے ۔سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہاکہ اس وقت ملک میں انسانی حقوق کمیشن کے ارکان کا تعین نہیں کیا گیا ہے اور ملک میں انسانی حقوق پر کوئی کام نہیں ہورہا ہے یہ حکومت کی مجرمانہ غفلت ہے ۔

وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہاکہ آج ملک میں نہ تو ڈاکو راج ہے اور نہ ہی ریپیسٹ راج ہے حکومت نے قومی اسمبلی سے قرارداد منظور کراوائی ہے کہ بچوں سے زیادتیوں کرنے والوں کو سرعام پھانسی دی جائے .

انہوں نے کہاکہ حکومت نے انسانی حقوق کمیشن کے اراکین کی تقرری کیلئے مارچ 2019میں کام شروع کیا اورہم اس میں عمر کی حد 65 سال رکھنا چاہتے تھے تاہم اس پر ایک ممبر علی نواز چوہان اسلام آباد ہائی کورٹ چلے گئے تاہم یکم ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہاہے کہ اس پر نظر ثانی کریں اس وجہ سے تاخیر ہوئی ہے .

انہوں نے کہاکہ انسانی حقوق کمیشن مکمل طور پر خود مختار ہوگا سینیٹر رخسانہ زبیری نے کہاکہ یہ حکومت کی نااہلی ہے یہ ایک سال سے زائد ہوگیا ہے اب تک انسانی حقوق کمیشن کی تشکیل نہیں ہوسکی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ایسے کمیشن کی تشکیل کا کام پارلیمنٹ ہائوس کا کرنا چاہیے سینیٹر کلثوم پروین نے کہاکہ حکومت عمر کا تنازع نہ بنائے جس پر وزیر مملکت نے کہاکہ اصلاحات کرنا حکومت کا حق ہے ۔

سینیٹر مشتاق احمد خان نے ضمنی سوال کرتے ہوئے کہاکہ کالا باغ ڈیم اور آکوڑی ڈیم پر ہمارے شدید تحفظات ہیں یہ ڈیمز خیبر پختونخوا کی معیشت کو تباہ کردیں گے یہ ہمارے پانی کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے جس پر وزیر مملکت علی محمد خان نے کہاکہ کالا باغ ڈیم کی رپورٹ 1988سے ہے موجودہ حکومت نے اس حوالے سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے.

انہوں نے کہاکہ کالا باغ ڈیم یا آکوڑی ڈیم سمیت کوئی بھی ڈیم صوبوں کی مشاورت کے بغیر نہیں بنایا جائے گا ایوان میں سیاست نہ کریں انہوںنے کہاکہ ایسا کوئی بھی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے کہ کالاباغ ڈیم بنایا جائے گاتاہم حکومتی جواب پر اپوزیشن اراکین مطمئن نہ ہوئے اور ایوان میں شدید احتجاج کرتے ہوئے چیرمین ڈائس کے سامنے جمع ہوگئے ۔

اس موقع پر چیرمین سینیٹ نے رولنگ دیتے ہوئے کہاکہ جب تک چاروں صوبے اور مشترکہ مفادات کونسل کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر راضی نہیں ہونگے اس وقت تک اس ڈیم کی تعمیر نہیں ہوگی اس موقع پر چیرمین سینیٹ نے کہاکہ احتجاج کرنا اپوزیشن کا حق ہے تاہم یہ طریقہ کار درست نہیں ہے اس وقت پوری قوم ہمیں دیکھ رہی ہے۔

اس موقع پر سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہاکہ ہمیں ایوان کا ماحول درست رکھنا چاہیے انہوںنے کہاکہ کالا باغ ڈیم پر تمام صوبوں کی قراردادیں موجود ہیں انہوںنے کہاکہ خیبر پختونخوا ،صوبہ سندہ اور بلوچستان کالا باغ ڈیم کے مخالف ہیں اور جب اس پر تمام صوبے متفق ہوں تو اس پر عمل درآمد ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس وقت تین صوبے کالا باغ ڈیم کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں یہ منصوبہ عمل درآمد کیلئے تیار نہیں ہے.

اس موقع پر وزیر اعظم کے مشیر ڈاکٹڑ بابر اعوان نے کہاکہ اس ایوان کو پورے پاکستان میں بہت احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ تمام متنازعہ منصوبوں کے بارے میں مشترکہ مفادات کونسل میں فیصلہ ہوگااور وہی فیصلہ قوم کیلئے قابل قبول ہوگا۔

سینیٹڑ سسی پلیجو نے کہاکہ اس وقت ملک میں خواتین کو بہت زیادہ مسائل کا سامنا ہے لاہور کا وقعہ بربریت کی مثال ہے اس وقت جو قوانین موجود ہیں اس پر عمل درآمد نہیں ہورہا ہے جس پر وزیر مملکت علی محمد خان نے کہاکہ ایسے واقعات کیلئے سنجیدہ اقدامات کی ضورت ہے اور اس میں قوانین کی تبدیلی بے حد ضروری ہے.

انہوں نے کہاکہ بچوں اور بچیوں سے زیادتیوں میں ملوث مجرموں کو چوک پر سز دینی چاہیے انہوںنے کہاکہ وزارت انسانی حقوق تمام معاملات کا بغور جائزہ لیتی ہے اور یہ مسلسل جدوجہد ہے ہمیں ایمرجنسی کی بنیاد پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں نے سی سی پی او لاہور کی معافی کو مسترد کرتے ہوئے حکومت سے انہیں فوری عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کردیا جبکہ زیادتی کے واقعات میں ملوث ملزمان کو سرے عام پھانسی کی سزا دینے کے معاملہ پر سیاسی جماعتیں تقسیم دکھائی دیں ، پاکستان پیپلزپارٹی نے زیادتی کے ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کی سزا کی مخالفت کردی۔

منگل کو چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ اجلاس میں سانحہ موٹروے پر تفصیلی بحث ہوئی جس میں اپوزیشن نے حکومت پر شدید تنقید کی ۔ مسلم لیگ (ن )کے سینیٹر پرویز رشید نے کہاکہ سانحہ موٹر وے کے مجرموں کو گرفتار کرنے کی بجائے متاثرہ خاتون کو کہا گیاکہ گھر سے کیوں نکلی؟۔ انہوںنے کہاکہ سی سی پی او لاہور کو برطرف کیا جائے۔

سینیٹر آصف کرمانی نے کہا کہ عمر شیخ کی صورت میں پنجاب میں نوری نتھ بیٹھا ہوا ہے، سی سی پی او کی معافی نہیں استعفیٰ چاہئے۔ پیپلزپارٹی کے سینیٹر رضا ربانی اور شیری رحمان نے زیادتی کے ملزمان کو سرعام پھانسی کی سزا دینے کی مخالفت کی۔ میاں رضا ربانی نے کہا کہ سرعام پھانسی دینا زیادتی کے واقعات روکنے کا حل نہیں۔ سرعام پھانسی سے معاشرے میں ظلم کو مزید فروغ ملے گا۔انہوں نے بھی سی سی پی لاہور کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ۔

شیری رحمن نے کہاکہ سرعام پھانسیوں سے کبھی جرائم میں کمی نہیں ہوئی،جب ہم کہتے ہیں کہ سر عام پھانسی کیوں دی جائے تو کہا جاتا ہے کہ یورپی یونین کے کہنے پر سرعام پھانسیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔

ایم کیوایم کے بیرسٹر سیف نے کہا کہ زینب کیس کی طرح سانحہ موٹروے پر بھی سیاست کی گئی ہے؟ کیا پولیس اور عدالتی نظام میں خرابیاں ڈھائی سال میں پیدا ہوئیں؟سانحہ ماڈل ٹاون میں کیا ہوا؟ ان پولیس افسران کا کیا احتساب ہوا؟ اگر سی سی پی او کو لٹکانے سے مسائل حل ہوتے ہیں تو کلمہ چوک پر لٹکا دیں،سانحہ موٹروے پر بحث میں دیگر حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے بھی حصہ لیا اور زیادتی میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں

پرائمری سکولز کھولنے کا حتمی فیصلہ این سی اوسی میں ہوگا، شفقت محمود

لاہور( این این آئی) وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروںکو …

%d bloggers like this: