صوبائی حکومت اپنے حقوق لینے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے،ایمل ولی خان

پشاور(نمائندہ خصوصی) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کی حکومت صوبائی حقوق لینے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے، مرکزی حکومت بجلی کا خالص منافع نہیں دے رہا اور صوبائی حکومت میں لینے کی صلاحیت ہی نہیں۔

باچاخان مرکز پشاور میں سانحہ بابڑہ کے 72سال مکمل ہونے پر مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ صوبائی حقوق اور صوبائی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا۔ ڈیڑھ روپے سے پیدا ہونیوالی ہماری اپنی بجلی بھی ہمیں نہیں دی جارہی۔ ہمارا صوبہ 6000میگاواٹ بجلی پیدا کررہی ہے جبکہ ہماری ضرورت صرف 3000میگاواٹ ہے۔ صوبہ بھر میں بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ کے خلاف آج عوام سراپا احتجاج ہے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم چھوٹے صوبوں کے حقوق کی ضامن ہے،بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات میں اے پی سی بلانے پر اتفاق ہوا اور ہم پھر کہیں گے کہ کسی بھی صورت 18ویں آئینی ترمیم رول بیک نہیں ہونے دیں گے۔

اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم صوبائی معاملہ ہے، یکساں نصاب تعلیم کو مسترد کرتے ہیں۔ون یونٹ یا صدارتی نظام کے خلاف باچاخان کے پیروکار میدان میں کھڑے ہوں گے۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی ان ہائوس تبدیلی کی حمایت نہیں کرتی، ہم نئے شفاف انتخابات کا مطالبہ کرتے ہیں کیونکہ موجودہ حکومت عوامی مینڈیٹ نہیں رکھتی اور یہ سلیکٹڈ حکومت ہے۔

اے این پی کے صوبائی صدر نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگرد ایک بار پھر منظم ہورہے ہیں، حکومت سوئی ہوئی ہے۔دہشتگرد مختلف علاقوں میں چندے اکھٹا کرنے میں مصروف ہیں اور حکومتی نمائندے نظر نہیں آرہے۔اب بار اگر دہشتگردی شروع ہوئی تو اسے روکنا ممکن نہیں ہوگا۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ دہشتگردوں کے روک تھام کیلئے فوری سنجیدہ اقدامات اٹھائے جائیں۔ تقریب میں اے این پی کے مرکزی و صوبائی قائدین نے بھی شرکت کی اور سانحہ بابڑہ کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کی گئی۔

اس موقع پر خیبرپختونخوا کے نامور اداکاروں نے سانحہ بابڑہ کے ایک کردار ’’سپین ملنگ‘‘ پر تھیٹر ڈرامہ بھی پیش کیا اور آخر میں بابڑہ کے حوالے سے ملی نغمے پیش کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں

اے این پی بلوچستان کے انفارمیشن سیکرٹری اسدخان اچکزئی مبینہ طور پر اغواء

اسد خان صوبائی مجلس عاملہ اور صوبائی کونسل کے اجلاس میں شرکت کیلئے چمن سے …

%d bloggers like this: