کورونا وائرس سے صورتحال سنگین، چین میں 24گھنٹوں کے دوران مزید 242 افراد ہلاک

کورونا وائرس سے صورتحال سنگین، چین میں 24گھنٹوں کے دوران مزید 242 افراد ہلاک

وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار 355 ،دنیا بھر کے 28 ملکوں میں مریضوں کی تعداد 60 ہزار سے زائد ہوگئی ، جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت پر مستقل پابندی کا فیصلہ

صوبہ ہبئی میں ناقص انتظامات پر پارٹی سیکرٹری عہدے سے بر طرف،چین کے 10 صوبوں میں تمام سرکاری اور غیرسرکاری سرگرمیوں پر پابندی عائد ، شہری گھروں میں رہنے پر مجبور

بیجنگ(آن لائن)کورونا وائرس سے صورتحال سنگین، چین میں ایک ہی دن میں مزید 242 افرادہلاک ہوگئے، مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار 355 ہوگئی۔چین میں کورونا وائرس سے 60 ہزار سے زائد افراد متاثر ہیں۔ چین نے صوبہ ہبئی میں کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ناقص انتظامات پر پارٹی سیکرٹری جیانگ چاو لنگ کو عہدے سے بر طرف کر دیا۔

دنیا بھر میں 28 ملکوں میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 60 ہزار سے زائد ہوگئی ہے۔ جن میں چین، جاپان، سنگاپور، تھائی لینڈ، جنوبی کوریا، ہانگ کانگ، آسٹریلیا، امریکہ، ملائشیائ، جرمنی، تائیوان، ماکاؤ، ویتنام، فرانس، متحدہ عرب امارات، کینیڈا، فلپائن، بھارت، برطانیہ، روس، اٹلی، نیپال، کمبوڈیا، سری لنکا، فن لینڈ، سویڈن، بیلجیئم اور اسپین شامل ہیں۔

چین کے کم سے کم 10 صوبوں میں تمام سرکاری اور غیرسرکاری سرگرمیوں پر پابندی عائد ہے اور لوگ اپنے گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ تمام تعلیمی ادارے، دفاتر اور فیکٹریاں بند ہیں۔ فرانس، امریکہ، برطانیہ، مصر، کینیا، روانڈا اور روس نے چین کیلئے اپنی پروازیں بند کر رکھی ہیں۔

دوسری جانب چین کے صدر شی جن پنگ کی قیادت میں بنائی گئی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت کے مسئلے سے نمٹنا ہو گا اور اس پر ’مستقل طور پر پابندی عائد کرنا ہو گی۔ خدشہ ہے کہ صوبہ ہوبے کے شہر ووہان میں جانوروں کی مارکیٹ سے اس وائرس کی ابتدا ہوئی تھی ،ادھر جاپان میں لنگر انداز بحری جہاز میں کرونا متاثرین کی تعداد 203 تک پہنچ گئی۔

چین سے لندن آنیوالے ایک شخص میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق کی گئی ہے۔ برطانیہ میں کرونا کے مریضوں کی تعداد 9 ہوگئی۔سپین کے شہر بارسلو نا میں سالانہ موبائل ورلڈ کانگریس کا سالانہ ایونٹ کرونا وائرس کی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا۔

Google+ Linkedin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

*
*
*