افغان امن عمل، معاہدے پر دستخط کل ہوں گے

دوحہ میں تقریب منعقد ہو گی، دستخط کے بعد دہائیوں سے جاری جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا،طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات بھی جلد شروع ہونے کا عندیہ، معاہدے سے افغانستان میں امن کیلئے راستہ ہموار ہوگا،نیٹو

ایک ہفتے کی جنگ بندی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان کا اپنے جنگجوئوں پر کنٹرول ہے اور وہ معاہدے کی کامیابی کیلئے سنجیدہ ہیں ، معاہدے کے بعد واشنگٹن، افغانستان سے اپنے فوجیوں کی نصف تعداد کم کرے گا، رپورٹ

دوحہ(این این آئی)امریکا اور افغان طالبان کے مابین امن کے قیام کے لئے تاریخی معاہدے پر کل (ہفتہ کو ) دستخط کئے جائیں گے، جس کے نتیجے میں دہائیوں سے جاری جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اس اتفاق رائے کی کامیابی پر آگے بڑھنے کے لئے امریکا اور طالبان کے درمیان معاہدہ متوقع ہے اور طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات بھی بہت جلد شروع ہوجائیں گے

خیال رہے کہ افغانستان میں دو دہائیوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا اور طالبان کے درمیان گزشتہ ایک برس سے مذاکرات جاری ہیں جن میں درمیان میں تعطل بھی آیا، لیکن پھر دوبارہ آغاز ہوا اور اب ایک ہفتے کی جنگ بندی کی کامیابی کی صورت میں معاہدے کو حتمی شکل دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کی جنگ بندی سے یہ ظاہر ہوگا کہ طالبان کا اپنے جنگجوئوں پر کنٹرول ہے اور معاہدے کی کامیابی کے لیے سنجیدہ ہیں جبکہ معاہدے کے بعد واشنگٹن، افغانستان سے اپنے فوجیوں کی نصف تعداد کم کرے گا جو اس وقت 12 ہزار سے 13 ہزار تک ہے۔

امریکا اور طالبان کی جانب سے معاہدے کے لیے رضامندی کے اعلان پر عالمی برادری کی جانب سے خیرمقدمی کے بیانات سامنے آئے ہیں اور نیٹو کا کہنا تھا کہ معاہدے سے افغانستان میں امن کے لیے راستہ ہموار ہوگا۔پاکستان نے امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا اور دونوں فریقین کی جانب سے معاہدے کے حوالے سے بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں گزشتہ 18 برس سے جنگ جاری رہے اور اس وقت امریکا کے 13 ہزار اور نیٹو کے ہزاروں فوجی موجود ہیں جو 11 ستمبر 2001 میں امریکا میں ہونے والے حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔

یاد رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان تقریبا ایک سال سے جاری مذاکرات ستمبر 2019 میں اپنے حتمی مراحل میں داخل ہوگئے تھے تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کی جانب سے مبینہ تشدد کو جواز بناتے ہوئے اس عمل کو ‘مردہ’ قرار دے دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں

حکومتی دعووں کی قلعی کھلنے لگی، فی خاندان 12ہزار کا دعوی،8ہزار روپے پہلے سے مل رہے ہیں

پشاور(نمائندہ خصوصی) حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے لاک ڈاؤن کے بعد غریب اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔