افغان لویہ جرگہ، 400طالبان قیدیوں کی رہائی کی منظوری

3دن جاری رہنے والے جرگے میں افغانستان کے34صوبوں سے 3400افرادنے شرکت کی، قیدیوں کو قومی اور بین الاقوامی ضمانت پر رہائی دی جائیگی،پڑوسی ممالک افغانستان میں قیام امن کیلئے تعاون کریں،چیئرمین جرگہ

کابل (این این آئی)افغانستان میں لویہ جرگہ نے ملک میں بین الافغان امن مذاکرات کے آغاز کی راہ ہموار کرنے کے لیے ان 400 افغان طالبان قیدیوں کی رہائی کی منظوری دے دی ہے جو سنگین جرائم کے مقدمات میں قید تھے۔

لویہ جرگے نے آخری دن ایک 25 نکاتی قرارداد کی منظوری دی جس میں امن عمل میں تیزی لانے کے لیے تجاویز بھی دی گئیں، ہائی کونسل برائے نیشنل ریکونسیلی ایشن کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے کہا ہے کہ جرگے کا فیصلہ افغان عوام کے لیے بہت اہم ہے تاہم افغان طالبان بھی یاد رکھیں وہ جنگ مسلط کر کے جیت نہیں سکتے۔ان کو لگتا ہے کہ وہ جنگ کر کے جیت جائیں گے، لیکن یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ گذشتہ 40 برسوں میں افغانستان میں ہونے والی جنگیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ وہ نہیں جیت سکتے۔ ہم عوام کے مشورے اور تجاویز لینے کے پابند ہیں اور اس جرگے کے فیصلہ کی قدر کرتے ہیں۔

افغانستان اس وقت تاریخ کے انتہائی نازک موڑ پر کھڑا ہے اور یہ فیصلہ افغان عوام کے لیے زندگی یا موت کا فیصلہ ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اتوار کو لویہ جرگے کا اختتامی سیشن افغانستان میں سرکاری اور نجی ٹی وی چینلز پر براہِ راست نشر کیا گیا۔لویہ جرگے نے آخری دن ایک 25 نکاتی قرارداد کی منظوری دی جس میں امن عمل میں تیزی لانے کے لیے تجاویز بھی دی گئیں۔

جرگے کی سیکریٹری عاطفہ طیب نے کہا کہ لویہ جرگہ کے ارکان امن عمل کا خیرمقدم اور اس کی حمایت کرتے ہیں تاکہ ایک پائیدار اور باوقار امن آ سکے جو ملک میں استحکام اور تحفظ لائے گا۔قرارداد کی دوسری شق پڑھتے ہوئے جرگے کی سیکریٹری کا کہنا تھا کہ امن مذاکرات کی راہ میں حائل رکاوٹ دور کرنے، خونریزی روکنے اور عوام کے قومی مفاد کی خاطر جرگہ بقیہ چار سو طالبان قیدیوں کی رہائی کی منظوری دیتا ہے۔تین دن جاری رہنے والے لویہ جرگے میں افغانستان کے 34 صوبوں سے تقریبا 3400 افراد نے شرکت کی۔

لویہ جرگہ سے اپنے خطاب میں ہائی کونسل برائے نیشنل ریکونسیلی ایشن کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ جرگے کا فیصلہ افغان عوام کے لیے بہت اہم ہے اور افغان طالبان کو تنبیہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ جنگ مسلط کر کے جیت نہیں سکتے۔ان کو لگتا ہے کہ وہ جنگ کر کے جیت جائیں گے، لیکن یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ گذشتہ 40 برسوں میں افغانستان میں ہونے والی جنگیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ وہ نہیں جیت سکتے۔لویا جرگہ کا انعقاد کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے عبداللہ عبداللہ نے کہاکہ ہم عوام کے مشورے اور تجاویز لینے کے پابند ہیں اور اس جرگے کے فیصلہ کی قدر کرتے ہیں۔ افغانستان اس وقت تاریخ کے انتہائی نازک موڑ پر کھڑا ہے اور یہ فیصلہ افغان عوام کے لیے زندگی یا موت کا فیصلہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں

خیبر پختونخوا حکومت کا دلیپ کمار کے گھر اور کپور حویلی کو خریدنے کا فیصلہ

پشاور : خیبر پختونخوا حکومت نے دلیپ کمار اور کپور حویلی کو خریدنے کا فیصلہ …

%d bloggers like this: