افغان امن مذاکرات،جامع جنگ بندی اور خواتین کے حقوق کی پاسداری پر زور

ابھی بہت سے چیلنجز درپیش ہوں گے،طرفین کا تمام نکات پر اتفاق نہیں بھی ہوتا تو انھیں ان پر سمجھوتہ کرنا چاہئے اور افہام وتفہیم سے کام لینا چاہئے،

دوحہ ؍ واشنگٹن(ایجنسیاں)افغان امن مذاکرات کے آغازپرجامع جنگ بندی اور خواتین کے حقوق کی پاسداری پر زوردیتے ہوئے شرکا ء نے کہاہے کہ ابھی بہت سے چیلنجز درپیش ہوں گے، اگر طرفین کا تمام نکات پر اتفاق نہیں بھی ہوتا تو انھیں ان پر سمجھوتہ کرنا چاہیے اور افہام وتفہیم سے کام لینا چاہیے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغان حکومت اور طالبان مزاحمت کاروں کے وفود کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن مذاکرات جاری ہیں۔

اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے متحارب فریقوں پر زوردیا کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور ایک جامع امن معاہدہ طے کریں۔ البتہ انھوں نے یہ بات تسلیم کی کہ ابھی بہت سے چیلنجز درپیش ہوں گے۔انھوں نے کہا کہ آپ کا سیاسی نظام آپ کا اپنا انتخاب کردہ ہوگا اور اس کو آپ نے خود ہی بنانا ہے۔ہم اس بات میں پختہ یقین رکھتے ہیں کہ تمام افغانوں کے حقوق کے تحفظ کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ تشدد کے چکر کو توڑیں۔

مائیک پومپیو نے طالبان اور حکومت کے وفود کو خبردار کیا کہ امریکا کی جانب سے مستقبل میں افغانستان کی مالی امداد کا انحصار ان کے انتخاب اور عمل پر ہوگا۔امریکا کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے صحافیوں سے گفتگو میں مذاکرات میں ترجیحات کی وضاحت کی کہ پہلے دہشت گردی کی روک تھام ایک بڑی شرط تھی لیکن اقلیتوں اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کو مستقبل میں کانگریس کی منظور کردہ کی کسی بھی فنڈنگ میں اہمیت حاصل ہوگی اور اب خالی چیک نہیں دیا جائے گا۔افغان امن کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے اس موقع پر کہا کہ اگر طرفین کا تمام نکات پر اتفاق نہیں بھی ہوتا تو انھیں ان پر سمجھوتا کرنا چاہیے اور افہام وتفہیم سے کام لینا چاہیے۔

انھوں نے کہاکہ میرا وفد دوحا میں ہے۔یہ ایک ایسے سیاسی نظام کی نمایندگی کرتا ہے جس کو مختلف ثقافتی ، سماجی اور نسلی پس منظر رکھنے والے لاکھوں مرد وخواتین کی حمایت حاصل ہے۔طالبان وفد کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر اخوند نے اپنی تقریر میں کہا کہ افغانستان میں ایک اسلامی نظام ہونا چاہیے۔ملک کے تمام قبائل اور نسلی اقلیتیں اس کے مطابق بلاتفریق زندگیاں گزاریں اور باہمی بھائی چارے اور محبت سے رہیں۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ صدر منتخب ہونے کے لیے ان مذاکرات کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں اور وہ فریقین کے درمیان امن ڈیل کو جنگ زدہ ملک کی مالی اعانت سے مشروط کرنا چاہتے ہیں۔اس ترغیب سے بین الافغان مذاکرات اگر کامیاب ہوجاتے ہیں تو ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ صدر امریکا منتخب ہونے کے لیے ان سے سیاسی فائدہ بھی اٹھا سکتے ہیں۔متحارب فریقوں کے درمیان ان پہلے بالمشافہ مذاکرات سے قبل مختلف ملکوں اور گروپوں نے ان سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں فوری طور پر جامع جنگ بندی کریں تاکہ امن عمل کو احسن طریقے سے آگے بڑھایا جاسکے۔ اس کے علاوہ وہ خواتین کے حقوق کے تحفظ سے متعلق ایک سمجھوتے پر دست خط کریں۔ادھر امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کا عمل اپنے راستے پر ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک بیان میں زلمے خلیل نے کہا کہ غیر ملکی فوجیوں کا انخلا مکمل ہونے سے پہلے جامع جنگ بندی بھی ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ افغان امن عمل کے لیے ہم اپنے حصے کا کام کریں گے اور افغانوں کو اپنے حصے کا کام کرنا ہوگا۔امریکی نمائندہ خصوصی نے مزید کہا کہ بین الافغان مذاکرات شروع ہو چکے ہیں، اگلا مرحلہ مذاکرات میں آگے بڑھنے اور آگے بڑھ کر ایک فریم ورک کے حتمی نتیجے تک پہنچنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ افغانستان میں امن چاہتے ہیں انہیں ملکی مفاد اور عوام کی خواہشات کو دیکھنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں

بلوچستان میں پرائمری اسکولز کھولنے کی تاریخ میں 15 دن کی توسیع کا اعلان

کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے پرائمری اسکولز کھولنے کی تاریخ میں 15 دن کی توسیع کا …

%d bloggers like this: