اقوام متحدہ میں بھارت نے اُسامہ کو شہید کہنے پرعمران خان کو آڑے ہاتھوں لے لیا

وزیراعظم پاکستان کی اقوام متحدہ میں تقریر پر انڈیا کا شدید ردعمل،تقریر کوجھوٹ، ذاتی حملوں اورایک نیا سفارتی زوال قرار دے دیا

نیویارک( ویب ڈیسک) بھارت نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں گذشتہ روز کیے گئے خطاب کو ’ایک نیا سفارتی زوال‘ قرار دیتے ہوئے اسے ’جھوٹ، ذاتی حملوں، جنگ کے جذبات کو بھڑکانے اور پاکستان میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم اورسرحد پار دہشت گردی پر پردہ ڈالنے‘ کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔

جمعے کی رات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان نے انڈیا پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انڈیا میں ریاست اسلاموفوبیا کو فروغ دے رہی ہے اور یہ کہ دنیا میں اسلاموفوبیا کے خاتمے کے لیے ایک عالمی دن مقرر کیا جانا چاہیے۔اپنی تقریر میں عمران خان نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ’انسانی حقوق کی خلاف ورزی، انڈیا میں مذہبی اقلیتوں پر مظالم اور آر ایس ایس کے ہندو توا ایجنڈے کو بڑھانے‘ جیسے معاملات پر بات کی تھی۔

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی جنرل اسمبلی میں خطاب سے قبل ہی اقوامِ متحدہ میں انڈیا کے مستقل نمائندے ٹی ایس تیرومرتی نے عمران خان کے بیان پر اپنا شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’منہ توڑ جواب کا حق ابھی محفوظ ہے۔‘یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی تقریر کے آغاز میں ہی اقوام متحدہ میں انڈین مشن کے فرسٹ سیکریٹری میجیتو وینیتو جنرل اسمبلی سے باہر چلے گئے تھے۔تاہم اس کے بعد انڈیا نے اپنا ’جواب دینے کا حق‘ استعمال کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کی تقریر پر اپنا ردعمل دیا ہے۔

فرسٹ سیکریٹری کا کہنا تھا کہ ’جموں و کشمیر انڈیا کا اٹوٹ انگ اور ناقابل تقسیم حصہ ہے۔ انڈیا کی جانب سے جموں کشمیر میں لاگو کیے جانے والے نئے قوانین کا نفاذ مکمل طور پر انڈیا کا اندرونی معاملہ ہے۔ کشمیر میں صرف ایک یہ تنازع ہے اور وہ یہ کہ اس کا ایک حصہ اب بھی پاکستان کے غیر قانونی قبضے میں ہے۔ انڈیا مطالبہ کرتا ہے کہ پاکستان تمام غیر قانونی قبضہ والے علاقوں کو چھوڑ دے۔‘میجیتو وینیتو کا کہنا تھا کہ ’یہ (پاکستان) وہ ملک ہے جو خطرناک اور عالمی دہشت گردوں کو اپنے ریاستی فنڈز میں سے فنڈ مہیا کرتا ہے۔

آج ہم نے جس لیڈر (عمران خان) کو سُنا ہے یہ وہی شخص ہیں جنھوں نے اسامہ بن لادن کو اپنی پارلیمنٹ میں شہید کہا تھا۔‘’انھوں (عمران خان) نے سنہ 2019 میں امریکہ میں اعتراف کیا کہ اُن کے ملک میں اب بھی 30 سے 40 دہشت گرد موجود ہیں جنھیں نے پاکستان میں تربیت حاصل کی تھی اور جو افغانستان اور جموں و کشمیر میں لڑتے ہیں۔ پاکستان اپنی مذہبی اقلیتیوں بشمول مسیحی اور سکھوں کو منظم طریقے سے تباہ کر رہا ہے۔‘انھوں نے پاکستان میں مسلمان مذہبی فرقوں پر ہونے والے حملوں کے معاملے کو اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’یہ (پاکستان) وہ ملک ہے جہاں ایسے مسلمانوں کے قتل کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جو اکثریتی فرقے سے تعلق نہیں رکھتے۔

‘ان کا مزید کہنا تھا کہ’اس اجتماع (اقوام متحدہ) نے ایک ایسے شخص کی بات سُنی جس کے پاس نہ تو اپنے کامیابیوں کے زمرے میں دکھانے کے لیے کچھ تھا اور نہ ہی دنیا کو دینے کے لیے اچھی تجاویز۔ اس کے بجائے ہم نے (اس تقریر میں) جھوٹ، غلط معلومات اور بددیانتی دیکھی۔‘اقوام متحدہ میں انڈین مشن کے فرسٹ سیکریٹری کا کہنا تھا کہ ’پاکستان ایک ہی صورت میں دیگر عام ممالک جیسا بن سکتا ہے اور اس کا واحد راستہ دہشت گردی کے لیے اپنی اخلاقی، مالی اور مادی حمایت ترک کرنا ہے، اپنی اقلیتوں سمیت اپنی آبادی کو درپیش مسائل پر توجہ دے اور اپنے عزائم کے بڑھاوے کے لیے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کو استعمال نہ کرے۔

یہ بھی پڑھیں

آلو، ٹماٹر اوردودھ سمیت 14 اشیائے ضروریہ مزید مہنگی

اسلام آباد(ایجنسیاں) ملک میں ایک ہفتے کے دوران 14 اشیا ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ …

%d bloggers like this: