بین الافغان مذاکرات شروع، پاکستان سمیت مختلف ممالک کا خیر مقدم

افغان حکومت اور طالبان کے مابین پہلے امن مذاکرات کی تقریب قطر میں منعقد ہوئی ،افغان طالبان کی جانب سے مذاکرات کی قیادت طالبان کے چیف جسٹس مولوی عبدالحکیم نے کی، پاکستانی ایمبیسڈر محمد صادق بھی شریک

دوحہ (این این آئی)افغان حکومت اور طالبان کے مابین مہینوں کی تاخیر کے بعد پہلے امن مذاکرات خلیجی ریاست قطر میں شروع ہو گئے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق افغان حکومت کے وفد کے سربراہ عبد اللہ عبد اللہ نے کہاکہ وہ منصفانہ اور باوقار امن کے خواہاں ہیں۔

افغان طالبان نے بھی ان مذاکرات کے لیے اکیس رکنی ٹیم کا اعلان کیا ہے۔ طالبان کی جانب سے ان مذاکرات کی قیادت طالبان کے چیف جسٹس مولوی عبدالحکیم کریں گے۔مولوی عبدالحکیم کو افغان طالبان قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اورطالبان تنظیم کے اندر جنگ کے بارے اکثر فتوے انھی کی جانب سے جاری ہوتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات کے لیے مولوی عبدالحکیم کو مکمل اختیار دیا گیا ہے۔

عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ مولوی عبدالحکیم افغان طالبان میں سخت گیر موقف رکھنے والے رہنما ہیں لیکن ان کے بعض قریبی ذرائع کا کہنا تھا کہ مولوی عبدالحکیم اصولی موقف اور اکثر مشکل مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ طالبان میں متعدد مرتبہ مشکل مراحل آئے جنھیں مولوی عبدالحکیم نے حل کر دیا تھا۔اس سے قبل انٹرا افغانستان مذاکرات کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قومی مفاہمت کی اعلی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ افغانی آئین پر مبنی حکومت کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں تاہم حکمرانی کے فقدان کی وجہ سے تلخ زندگی کا تجربہ کیا ہے مذاکرات کے آغاز کے دن کو مشکلات کے اختتام کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم 40 سال سے جاری خونریزی روکنے کے لیے مذاکرات میں اچھے مقصد سے شامل ہوئے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں

پشاورمیں پولیس اہلکار کی مبینہ فائرنگ سے نوجوان جاں بحق

پشاور: پشاور میں تھانہ ناصر باغ پولیس کی حدود میں پولیس اہلکار کی مبینہ فائرنگ …

%d bloggers like this: