نیٹو وزارتی اجلاس، افغانستان سے فوجی انخلا کا فیصلہ موخر

فوجی اتحاد تب ہی نکلے گا جب سکیورٹی حالات اجازت دینگے، اب اس بات پر توجہ دی جارہی ہے کہ ہم کس طرح سے امن مذاکرات کی حمایت کرسکتے ہیں، واشنگٹن کوئی حتمی فیصلہ لینے سے قبل کابل سے مشورہ کرتا رہے گا، امریکی سیکرٹری خارجہ

وا شنگٹن ؍ آکلینڈ( آن لائن )امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کے تحت 30 ممالک پر مشتمل شمالی اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) نے یکم مئی تک تمام غیر ملکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بارے میں اپنے فیصلے کو موخر کردیا ہے تاہم امریکی صدر نے افغا ن صدر اشرف غنی کو یقین دلایا کہ واشنگٹن کوئی حتمی فیصلہ لینے سے پہلے کابل سے مشورہ کرتا رہے گا۔

امریکا کے سیکرٹری خارجہ انٹونیو بلنکن نے افغان صدر اشرف غنی سے ٹیلیفون پر اسٹولٹن برگ کے اس بیان کے بعد کہا کہ فوجی اتحاد تب ہی افغانستان سے نکلے گا جب سکیورٹی حالات اجازت دیں گے۔انہوں نے نیٹو وزرائے دفاع کی کانفرنس کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ‘ہم صرف اس وقت وہاں سے نکلیں گے جب وقت صحیح ہوگا اور اب اس بات پر توجہ دی جارہی ہے کہ ہم کس طرح سے امن مذاکرات کی حمایت کرسکتے ہیں۔

توقع کی جارہی تھی کہ ورچوئل کانفرنس میں یکم مئی کو واپسی کی آخری تاریخ پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا جو گزشتہ سال کے اوائل میں طے شدہ امریکا-طالبان معاہدے کے تحت طے ہوا تھا۔ جمعرات کی سہ پہر دو روزہ کانفرنس ختم ہونے کے فورا بعد ہی پینٹاگون نے واشنگٹن میں ایک رپورٹ جاری کی جس میں اسٹولٹن برگ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وزرا نے افغانستان کی صورتحال اور امن عمل کی پیشرفت پر بھی تبادلہ خیال کیا اور ‘اپنے فیصلے کو موخر کرنے’ کا فیصلہ سنایا۔

اسٹولٹن برگ نے اپنی ورچوئل نیوز کانفرنس میں کہا کہ اتحاد کے وزرائے دفاع نے عراق میں نیٹو مشن کے لیے فوجیوں کی تعداد 500 سے بڑھا کر 4000 کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اتحاد نے افغانستان کے بارے میں فیصلے کا اعلان کیوں نہیں کیا اس کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں بہت ساری الجھنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس کے کوئی آسان آپشنز نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر ہم نے اپنی موجودگی کے مستقبل کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے لیکن جیسے ہی مئی کی پہلی تاریخ قریب آرہی ہے نیٹو اتحادیوں کے آنے والے ہفتوں میں قریبی مشاورت اور ہم آہنگی جاری رہے گی۔اسٹولٹن برگ نے طالبان رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ امن معاہدے میں تشدد کو کم کرنے، دہشت گرد گروہوں سے قطع تعلق کرنے اور افغان حکومت کے ساتھ دیانتداری سے بات چیت کے لیے اپنے وعدوں پر عمل پیرا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ امن عمل سالوں کے مصائب اور تشدد کے خاتمے اور دیرپا امن لانے کا بہترین موقع ہے، یہ افغان عوام کے لیے خطے کی سلامتی اور اپنی سلامتی کے لیے اہم ہے۔ دوسری جانب نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم جسینڈا آرڈرن نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ وہ افغانستان میں 20 سال سے جاری جنگ میں خدمات انجام دینے کے بعد وہاں تعینات اپنے باقی ماندہ فوجی اہلکاروں کو مئی میں واپس وطن بلا رہی ہیں۔

افغانستان میں نیوزی لینڈ ڈیفنس فورس (این زیڈ ڈی ایف)کی20سال سے موجودگی کے بعد اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بیرونِ ملک فوج کی تعیناتی ختم کریں۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی اندرونی طاقتوں کے درمیان مذاکرات سے واضح ہوتا ہے کہ شورش زدہ ملک میں داخلی امن پائیدار سیاسی حل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اس لیے افغانستان میں نیوزی لینڈ کی فوج کی مزید ضرورت نہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ن لیگ کا الیکشن کمیشن سے وزیراعظم اور عثمان بزدار کیخلاف کارروائی کا مطالبہ

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے الیکشن کمیشن …