ویڈیو گیمز لڑکوں میں ڈپریشن کا خطرہ کم کرتی ہیں، برطانوی تحقیق

لندن (این این آئی)11سال کی عمر میں ویڈیو گیمز کھیلنے کے عادی لڑکوں میں آنے والے برسوں میں ڈپریشن کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی‘لندن کالج یونیورسٹی کی اس تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ جو بچیاں اپنا زیادہ وقت سوشل میڈیا پر گزارتی ہیں، ان میں ڈپریشن کی علامات کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔دونوں کو اکٹھا کیا جائے تو نتائج سے پتا چلتا ہے کہ اسکرین کے سامنے مختلف انداز سے گزارے جانے والا وقت کس طرح بچوں کی ذہنی صحت پر مثبت یا منفی انداز سے اثرات مرتب کرسکتا ہے۔

جریدے سائیکولوجیکل میڈیسن میں شائع تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا تھا کہ سکرینوں سے ہمیں مختلف اقسام کی سرگرمیوں کا حصہ بننے کا موقع ملتا ہے، اس حوالے سے گائیڈلائنز یہ مدنظر رکھ کر مرتب کرنی چاہیے کہ مختلف سرگرمیاں کس حد تک ذہنی صحت پر اثرات مرتب کرتی ہیں‘انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہم یہ تصدیق نہیں کرسکتے کہ گیمز کھیلنے سے ذہنی صحت بہتر ہوتی ہے، تاہم نتائج سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ یہ اتنی نقصان دہ عادت نہیں بلکہ اس کے کچھ فوائد بھی ہیں، بالخصوص وبا کے دوران۔

انہوں نے مزید کہا کہ ویڈیو گیمز بچوں اور نوجوانوں کے لیے ایک سماجی پلیٹ فارم ثابت ہوسکتی ہیں‘ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بچوں اور بالغ افراد کے بیٹھنے کے وقت کا دورانیہ کم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ جسمانی اور ذہنی صحت ٹھیک رہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسکرینیں بذات خود نقصان دہ ہیں۔

اس تحقیق میں 11 ہزار سے زائد بچوں کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا تھا جن پر 2000 سے 2002 کے درمیان ایک تحقیق کی گئی تھی‘ان بچوں سے سوشل میڈیا، ویڈیو گیمز کھیلنے یا انٹرنیٹ کے استعمال کے حوالے سے سوالات پوچھے گئے تھے جبکہ 14 سال کی عمر میں ان میں ڈپریشن کی علامات کو جاننے کی بھی کوشش کی گئی۔تحقیق ٹیم نے دیگر عناصر جیسے سماجی و معاشی حیثیت، جسمانی سرگرمیوں کی سطح اور دیگر کو بھی مدنظر رکھا تھا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لڑکے زیادہ ویڈیو گیمز کھیلنے کے عادی ہوتے ہیں ان میں اگلے 3 برسوں میں ڈپریشن کی علامات کا خطرہ 24 فیصد تک کم ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

دو ریاستی حل اسرائیل اور فلسطین کے مستقبل کیلئے بہترہے، امریکہ

نئی انتظامیہ فلسطینیوں کی امداد کی بحالی کیلئے اقدامات کا ارادہ رکھتی ہے، وزیر خارجہ …