چین میں پاکستانی طلبہ کو کچھ ہوا تو کون ذمہ دارہوگا،اسلام آباد ہائیکورٹ

چین میں پاکستانی طلبہ کو کچھ ہوا تو کون ذمہ دارہوگا،اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد (ویب ڈسک) چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزارت خارجہ کوفوری طورپربچوں کے والدین کومطمئن کرنے کی ہدایت کردی۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق کروناوائرس کے پھیلاؤکے بعد چین میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے درخواست سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس اطہرمن اللہ نے سماعت کی۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کچھ طلبہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے ای میل کے ذریعے رابطہ کیا ہے۔

والدین کی جانب سے کہا گیا کہ باقی ممالک اپنے شہریوں کونکال رہے ہیں، 24 ممالک نے اپنے طلبہ کونکالا ہے، کوئی وزیر مشیر وہاں آج تک نہیں گیا، کمروں سے بچے باہرنہیں جا سکتے ہمارے بچوں کو پتہ نہیں کہاں رکھا گیا ہے، یونیورسٹی نے لیٹر دے دیئے لیکن پاکستانی حکومت بچوں کو واپس نہیں لارہی، جس طرح کی خوراک وہ چاہتے ہیں ان کونہیں دی جارہی، بچے مشکلات میں ہیں، کیا بچے اپریل تک وہاں پھنسے رہیں گے، اگربچوں کے ساتھ کچھ ہو گیا تو کون ذمہ دارہوگا، بچوں کو چین سے واپس لانے کے لیے حکومت کو حکم دیا جائے۔

دفترخارجہ کے حکام نے کہا کہ ہم میکنزم بنا رہے ہیں کہ روزانہ دن گیارہ بجے ہم ملاقات کریں گے، 620 طلبہ ایک جگہ 1094 طلبہ ووہان میں موجود ہیں، ہر روزہم چینی سفیرسے ملاقات کرکے اقدامات اٹھا رہے ہیں، 64 ہزارمریض ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے خوف ہے، پاکستان میں اب تک 24 ہزارمسافر آچکے ہیں لیکن ووہان سے نہیں آئے۔

چیس جسٹس نے استفسارکیا کہ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ باقی ملک طلبہ کو نکال رہے ہیں، کیا ہماری اہلیت نہیں، پالیسی کے معالات میں ہم مداخلت نہیں کریں گے، کم از کم یہ کر سکتے ہیں کہ طلبہ ڈائریکٹ ریاست کے ساتھ رابطہ کر سکیں، حتمی فیصلہ ریاست پاکستان نے کرنا ہے۔

حکام وزارت خارجہ نے کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ ہم ہرطلبہ سے رابطہ کریں گے۔ ہمارے دوآفیسر ووہان پہنچ چکے ہیں اور وہ وہاں پرہی رہیں گے۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ وزیراعظم اورکابینہ اس حوالے سے اقدامات اٹھا رہے ہیں، 20 کروڑپاکستانی یہاں پرہیں ان کی حفاظت بھی ضروری ہے، ریاست کہہ رہی ہے بچے ہمارے ہیں ہرلحاظ سے حفاظت کی جائے گی۔

عدالت نے وزارت خارجہ کوفوری طورپربچوں کے والدین کو مطمئن کرنے کے لیے میکنزم بنانے سمیت معاون خصوصی اوورسیز زلفی بخاری کوطلبہ کے والدین کی ملاقات کرانے کی ہدایت کی۔ عدالت نے وزارت خارجہ کو موبائل فون، ای میل، واٹس ایپ پبلک کرنے سمیت وزارت خارجہ فوری فوکل پرسن مقرر کرے۔

اس سے قبل چین میں موجود پاکستان طلبہ نے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کو ای میل کے ذریعے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ ای میل میں استدعا کی گئی کہ حکومت کو ہمیں ووہان سے واپس لانے کا حکم دیا جائے۔

Google+ Linkedin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

*
*
*