اے پی سی، اپوزیشن جماعتیں تاحال کوئی لائحہ عمل مرتب نہ کرسکیں

اسلام آباد (آن لائن)اپوزیشن جماعتیں 20 ستمبر کو ہونے والی کل جماعتی کانفرنس کے حوالے سے ابھی تک واضح لائحہ عمل مرتب نہیں کر سکیں اور حزب مخالف کی دوبڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اے پی سی کے موقع پر کسی بھی قسم کے تحریری معاہدے سے انکار کر دیا ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ اے پی سی کے موقع پر جو قرار دادیں منظور ہوں انہی پر دستخط کو معاہدہ سمجھا جائے۔

ذرائع کے مطابق حزب مخالف کی چھوٹی جماعتیں بشمور جے یو آئی (ف)کا موقف ہے کہ اے پی سی میں دو ٹوک ایجنڈا یہ ہونا چاہیے کہ کیونکہ یہ حکومت جعلی مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار میں آئی اس وجہ سے تمام اپوزیشن جماعتیں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہو جائیں اس سے حکومت پر دباؤ بڑھے گا اور ان کے سینکڑوں نشستوں پر دوبارہ انتخابات کرانا بڑا چیلنج ہوگا لیکن مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی اسے ماننے کو تیار نہیں اور ان کا موقف ہے کہ حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لئے رابطہ مہم شروع کیا جائے اور اس کے لئے احتجاج اور جلسے جلوسوں کا شیڈول مرتب کر کے اے پی میں اس کا اعلان کر دیا جائے.

حکومت کے خلاف دو سے تین قرار دادیں منظور کی جائیں لیکن تحریری طور پر دونوں بڑی جماعتیں کوئی معاہدہ کرنے کو تیار نہیں جس کا مطالبہ مولانا فضل الرحمن نے مسلم لیگ (ن) کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا تھا البتہ متفقہ قرار داد لانے کے حوالے سے رہبر کمیٹی کا مشاورت کا عمل جاری ہے۔

دوسری طرف مسلم لیگ (ن) ابھی تک مریم نواز کی اے پی سی میں شرکت کا فیصلہ نہیں کر سکی اور ان کے نام کے معاملے پر تذبذب کا شکار ہے،نواز شریف مریم نواز کی اے پی سی میں شمولیت چاہتے ہیں جبکہ شہباز شریف اس کی سخت مخالفت کررہا ہے جس کی وجہ سے ابھی تک مریم نواز کا نام پیپلز پارٹی کو دی جانے والی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں

نیب نے شہباز شریف کو گرفتار کر لیا

لاہور: لاہورہائی کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کی درخواست ضمانت مسترد کر …

%d bloggers like this: