نئی امریکی انتظامیہ کیساتھ مختلف معاملات پر ملکر کام کرنے کیلئے تیار ہیں، دفتر خارجہ

اسلام آباد (این این آئی)ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ نے کہا ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ علاقائی امن و سلامتی سمیت مختلف معاملات پر ملکر کام کرنے کے لئے تیار ہیں، امریکہ ایران جوہری معاہدے پر بات چیت کے حامی ہیں۔

جمعرات کو ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ شاہین تھری کی کامیاب لانچنگ پر آرمڈ فورسز اور سائیندانوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعظم نے امریکہ کے نئے صدر جوزف بائیڈن کو ٹویٹ میں مبارکباد دی ہے۔

انہوں نے کہاکہ امریکی انتظامیہ کے ساتھ علاقائی امن،معاشی تعلقات اور موسمیاتی تبدیلیوں جیسے معاملات میں کام کرنے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر ترکی کی حمایت پر شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ترک اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے فروغ کیلئے تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے کہاکہ وزیر خارجہ نے نگورنو کاراباغ کے معاملے پر آذربائجان کے ہم منصب کو مبارکباد دی۔ انہوںنے کہاکہ آذربائیجان کے وزیر خارجہ کا کشمیر کے معاملے پر پاکستانی مؤقف کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان ترکی اور آذربائیجان سہ فریقی اجلاس کے بعد تینوں وزرائے خارجہ نے اسلام آباد ڈیکلریشن پر دستخط کئے۔

انہوں نے کہاکہ حزبِ وحدت اسلامی افغانستان کے لیڈر استاد کریم خلیلی نے پاکستان کا دورہ کیا۔ انہوںنے کہاکہ انکا دورہ افغانستان میں امن کیلیے پاکستانی کوششوں کا حصہ ہے،وزیر خارجہ نے سعودی اور قطری ہم منصبوں سے بات کی۔

انہوں نے کہاکہ ہوزیر خارجہ نے جی سی سی فورم کو مضبوط بنانے پر بات کی،بھارتی صحافی ارنب گوسوامی کے انکشافات کے بعد بی جے پی کا پاکستان مخالف ڈیزائن مکمل بے نقاب ہوا ہے۔ انہوںنے کہاکہ امید رکھتے ہیں کہ عالمی برادری صورتحال پر بھارت کو جواب دہ کرے،پاکستانی ہندو فیملی کے گیارہ افراد پراسرار طور پر مارے گئے۔ ،انکے اہلخانہ نے گذشتہ روز وزیر خارجہ کو قرارداد پیش کی،انکے اہلخانہ کا مؤقف ہے کہ اس واقعے میں بھارتی ایجنسی را ملوث ہے۔

انہوں نے کہاکہ بھارت نے پوسٹ مارٹم اور دیگر تفصیلات فراہم نہیں کی،شیریں مذاری نے اس معاملے پر اقوام متحدہ انسانی حقوق کمشنر کے نام خط لکھا ہے۔ انہوںنے کہاکہ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھارت اس معاملے پر تحقیقات سے آگاہ کرے ،مقبوضہ کشمیر میں 535 روز سے محاصرہ جاری ہے۔

انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں جاری محاصرہ عالمی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان شبیر احمد شاہ کو چھ سال پرانے کیس میں گرفتار کرنے کی شدید مذمت کرتا ہے، انہوںنے کہاکہ پاکستان نے کشمیری لیڈر یاسین ملک کی رہائی کیلئے اقوام متحدہ انسانی حقوق اداروں سے رابطہ کیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کشمیری رہنماؤں کی رہائی کے حوالے سے رپورٹ مرتب کی ہے۔انہوںنے کہاکہ برطانوی پارلیمنٹ میں بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بحث ہونا اہم پیش رفت ہے۔

ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ یاسین ملک کی صحت کافی خراب ہے، مقبوضہ کشمیر میں حریت قیادت کو حراست میں رکھا گیا ہے،عالمی قوانین کے برخلاف حریت اور کشمیری قیادت کے ساتھ سلوک کیا جارہا ہے،یاسین ملک کے خلاف پرانے مقدمات کھولے جارہے ہیں،یاسین ملک اس وقت تہاڑ جیل میں ہیں ان کو علاج کی سخت ضرورت ہے،کشمیری قیادت کے خلاف بی جے پی آر ایس ایس حکومت کا سلوک انتہاء پسندی پر مبنی ہے،پاکستان عالمی برادری پر زور دیتا آیا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ سعودی عرب سمیت کہیں بھی سفیر کی تقرری انتظامی معاملہ ہے، ھم انتظامی معاملات پر تبصرہ نہیں کرتے۔

انہوں نے کہاکہ یو اے ای ویزے کب بحال ابھی علم نہیں،یو اے ای یا کسی دوسرے عرب ملک کی لیڈرشپ کے نجی دورہ پاکستان بارے کوئی علم نہیں، حکومت پاکستان نے کورونا ویکسین کی خریداری کے لئے خصوصی کابینہ کمیٹی بنائی ہے۔

ترجمان دفترخارجہ نے کہاکہ حکومت پاکستان نے کوویڈ 19 کی ویکسین کی درآمدکے حوالے سے ایک خصوصی کمیٹی قائم کی ہے ۔

انہوں نے کہ کہ براڈ شیٹ کے حوالے سے اٹارنی جنرل یا نیب بتا سکتے ہیں،براڈ شیٹ کو ادائیگیوں کا معاملہ اٹارنی جنرل اور نیب سے متعلق ہے، ان سے استفسار کیا جائے،ایران جوہری معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا موقف بڑا واضح ہے، ہم سمجھتے ہیں معاملات مزاکرات سے حل ہوں،سلامتی کونسل کی تیس کمیٹیاں ہیں جن کی چیرمین شپ معمول کا عمل ہے۔ انہوںنے کہاکہ بھارت کا سلامتی کونسل قراردادوں کی خلاف ورزی پوری دنیا کے علم میں ہے،بھارت کی پاکستان میں ریاستی دہشت گردی سے عالمی برادری آگاہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ حکومت پاکستان باقاعدگی سے عافیہ صدیقی کے معاملہ اور حقوق پر امریکی انتظامیہ سے رابطے میں رہتی ہے، بھارت کی موجودہ حکومت انتہائی غیر ذمہ دار ہے،ان کے اقدامات خطے کے امن کو خراب کرسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

وزیراعظم کے پارلیمنٹ میں ڈیرے، گلے، شکوے اور یقین دہانیاں

زبانی کلامی وعدوں کا وقت اب ختم ہو چکا ، مسائل کو حل نہ کیا …