قومی اسمبلی،سی پیک اتھارٹی مکمل بااختیار، اراکین کیخلاف قانونی کارروائی نہیں ہوگی، بل پیش

اتھارٹی کے ملازمین سول ملازمین تصور نہیں ہوں گے، مفاد کا ٹکراؤ رکھنے والا کوئی بھی شخص چیئرپرسن رکن اور ای ڈی نہیں بن سکے گا ،بل کا متن، ڈپٹی سپیکر نے بلز متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھجوا دیئے،اپوزیشن کا بل کی کاپیاں نہ دینے پرشدید احتجاج

اسلام آباد(آن لائن ) پاک چین اقتصادی راہداری( سی پیک ) اتھارٹی کے قیام کا بل 2020 اور سینیٹ شفاف انتخابات اور دہری شہریت والوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت سے متعلق 26 ویں آئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش کر دئیے گئے ۔

جمعرا ت کو ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری کی صدارت میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں سینیٹ شفاف انتخابات اور دہری شہریت والوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت سے متعلق آئین میں ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا ۔بل وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے قومی اسمبلی میںپیش کیا ۔

اجلاس کے دوران سی پیک اتھارٹی کے قیام کا بل بھی ایوان میں پیش کیا گیا ۔بل کے متن میں کہاگیا ہے کہ اتھارٹی چین پاکستان اقتصادی راہداری کی تمام سرگرمیوں سے متعلقہ بلا رکاوٹ اطلاق کے لیے منصوبہ بندی کرے گی۔ اتھارٹی چیئرمین، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر آپریشنز یا ایگزیکٹو ڈائریکٹر ریسرچ اور 6 دیگر اراکین پر مشتمل ہو گی۔

چیرپرسن اتھارٹی کا کنوینیر اور سربراہ ہو گا جس کا تقرر حکومت 4 سال کے لیے کرے گی۔ چیئرمین کو مزید 4 سال کے لیے دوبارہ مقرر بھی کیا جا سکے گا۔ اتھارٹی کے اراکین کا تقرر وزیراعظم کی جانب سے 4 سال کی مدت کے لیے ہو گا۔ اراکین بھی دوبارہ تقرری کے اہل ہوں گے۔ چیئرپرسن اور اراکین کی شرائط و ضوابط کا تعین وزیراعظم کرے گا۔

چیئرپرسن سی پیک کمیٹیاں اور ذیلی کمیٹیاں تشکیل کر سکے گا۔ اتھارٹی کا اجلاس بلا سکے گا۔ اتھارٹی ہر مالی سال میں سہ ماہی بنیادوں پر اجلاس کرے گی۔ کورم کل اراکین کا دو تہائی ہو گا۔ مفاد کا ٹکراو رکھنے والا کوئی بھی شخص چیرپرسن رکن اور ای ڈی نہیں بن سکے گا۔ متن میں کہا گیا ہے کہ سی پیک کاروباری کونسل بھی قائم کی جائے گی۔ سی پیک فنڈ بھی وزارت خزانہ کی منظوری سے قائم ہو گا۔ اتھارٹہلی کے حسابات کی جانچ پڑتال آڈیٹر جنرل کرے گا۔ اتھارٹی کے ملازمین سول ملازمین تصور نہیں ہوں گے۔

اتھارٹی کے چیرپرسن اور اراکین کے خلاف قانونی کاروائی نہیں کی جا سکے گی۔ اس موقع پر ڈپٹی سپیکر نے دونوں بل متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھجوا دیئے ۔اپوزیشن کی جانب سے بل کی کاپیاں نہ دینے پراحتجاج کیا گیا ۔مسلم لیگ ن کے خواجہ آصف نے سی پیک اتھارٹی بل پر بولنے کی کوشش کی لیکن سپیکر نے انہیں بولنے کی اجازت نہیں دی ۔

دوسری جانب قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پی آتی آئی کے ارکان بھی ادویات کی قیمتوں میں اضافے پر پھٹ پڑے۔قومی اسمبلی میں ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا معاملہ زیر بحث تھا، اس دوران وزیر مملکت علی محمد خان نے کہا کہ کوئی فارماسیوٹیکل کمپنی حکومت کی اجازت کے بغیر کسی دوائی کی قیمت میں اضافہ نہیں کر سکتی، ماضی میں حکومتوں نے فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو قیمتیں بڑھانے کا اختیار دیا، یہ اختیار دینے سے عوام کو کیا فائدہ ہوا ؟، وزارت اور ڈریپ کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ پورے ملک میں قیمتوں پر نظر رکھ سکے۔

تحریک انصاف کے خواجہ شیراز نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں میں 5 سے 10 فی صد اضافہ ہوا ہے، یہ ملبہ ماضی کی حکومت پر مت ڈالا جائے ،قیمتوں میں کمی کا اعلان کریں۔حکومتی جماعت کے ایک اور رکن نور عالم خان نے کہا کہ اس حکومت میں 3 مرتبہ دوائیں مہنگی ہوئی ہیں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ عوام کے لیے چیزیں مہنگی ہوں اور ہم خاموش رہیں۔

ریاض فتیانہ نے کہا کہ یہ کہا گیا تھا کہ پرانی ادویات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوگا مگر اس پر عمل نہ ہوا ،اگر کیمیکل کی امپورٹ ڈیوٹی کم کردی جاتی تو ادویات کی قیمت میں اضافہ نہ ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں

جے یو آئی کا کورونا فنڈ میں تحریک انصاف کی کرپشن منظر عام پر لانے کا دعویٰ

آڈٹ رپورٹ کے مطابق من پسند افراد کو ٹھیکے دیئے گئے، 6 کروڑ 55 لاکھ …