وزیراعظم کا افغانستان سے تجارت کرنیوالوں کیلئے بارڈر مارکیٹیں کھولنے کا اعلان

مہمند : وزیراعظم عمران‌ خان نے کہا ہے کہ اسمگلنگ پاکستان کو تباہ کررہی ہے، صنعتیں آگے نہیں بڑھ رہیں، افغانستان سے تجارت کرنیوالوں کیلئے بارڈرمارکیٹس کھول رہے ہیں،افغانستان میں امن سے قبائلی علاقوں میں خوشحالی آئے گی۔

مہمند میں قبائلی عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کی جانب اچھا اقدام کیا گیا ہے۔طالبان اور حکومت میں مفاہمتی عمل شروع ہوا ہے۔ ہماری دعا ہے افغانستان میں امن ہو۔

عمران‌ خان نے کہا کہ پیچھے رہ جانیوالےوالوں میں قبائلی علاقے سب سے نمایاں ہیں، ماضی میں قبائلی علاقے کے ووٹ سے کوئی اقتدار میں نہیں آتا تھا، جو پارٹی اندرون سندھ سے آتی ہے وہ کراچی کیلئے کچھ نہیں کرتی۔

ان کا کہنا تھا کہ پوری کوشش ہے کہ زیادہ سےزیادہ فنڈ قبائلی علاقوں پر خرچ کریں، صوبوں نے وعدہ کیا تھا کہ 3فیصد این ایف سی ایوارڈقبائلی علاقوں کو دیں گے ، افسوس ہے ہمیں حکومت ملی تو تین صوبے قبائلی اضلاع کے لیے تین فیصد فنڈز دینے کو تیار نہیں جس کے باعث ترقیاتی کاموں میں مشکلات درپیش ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ  خیبر پختونخوا نے قبائلی علاقوں کو اپنا شیئر دے دیا،باقی کہتے ہیں برے حالات ہیں،وسطی پنجاب سے ن لیگ آئی اس نے جنوبی پنجاب پر توجہ نہیں دی، میری پوری کوشش ہےقبائلی علاقوں اور بلوچستان کو پورافنڈ ملے، قبائلی علاقوں کیلئے فنڈز کی فراہمی کیلئے پورا زور لگارہےہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ جو عناصر خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں کاانضمام نہیں وہ افراتفری پھیلانے کی پوری کوشش کررہےہیں، خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں کے انضمام روکنے کیلئے رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں ، اسمگلنگ پاکستان کو تباہی کررہی ہے، صنعتیں آگے نہیں بڑھ رہیں۔

انھوں نے مزید کہا بارڈر مارکیٹس کھولنے کی تیاری کررہےہیں ، افغانستان سے تجارت کرنیوالوں کیلئے بارڈرمارکیٹس کھول رہے ہیں، افغان حکومت اور طالبان میں امن مذاکرات کی کامیابی کیلئے دعاگو ہیں، ایسے عناصر موجود ہیں جو نہیں چاہتے افغانستان میں امن ہو۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن سے قبائلی علاقوں میں بڑی تبدیلی آئے گی ، تجارت کے راستے کھلیں گے، افغان امن عمل کامیاب ہواتو خطے میں خوشحالی اور ترقی آئے گی۔

عمران خان نے کہا کہ قبائلی علاقوں کی ترقی کیلئے کے پی حکومت کی ہر قسم کی مدد کی جائےگی ، 70سالوں میں قبائلی علاقوں میں سب سےزیادہ غربت ہے، قبائلی علاقوں میں تعلیم اور روزگار کے مواقع کم ہیں، ہماری کوشش ہے قبائلی علاقوں میں زیتون کے درخت لگائے جائیں، درخت ہم لگارہے ہیں،اگلے 4،3 سال تک اتنی آمدنی ہوگی جس کا اندازا نہیں، زیتون کے درخت لگانےسے ایکسپورٹ بھی بڑھے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک دشمن قوتیں مختلف طریقوں سے انتشار پھیلانے کی کوشش کرتی ہیں، افغانستان میں امن سے علاقائی ترقی کا نیا دور شروع ہوگا ،کمزور طبقے کو آگے لانے کا مطلب ان علاقوں کو آگے لے جانا ہے جو پیچھے رہ گئے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا بارڈر مارکیٹس کھولنے کی تیاری کررہےہیں ، افغانستان سے تجارت کرنیوالوں کیلئے بارڈرمارکیٹس کھول رہے ہیں، افغان حکومت اور طالبان میں امن مذاکرات کی کامیابی کیلئے دعاگو ہیں، ایسے عناصر موجود ہیں جو نہیں چاہتے افغانستان میں امن ہو۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن سے قبائلی علاقوں میں بڑی تبدیلی آئے گی ، تجارت کے راستے کھلیں گے، افغان امن عمل کامیاب ہواتو خطے میں خوشحالی اور ترقی آئے گی۔

عمران خان نے کہا کہ قبائلی علاقوں کی ترقی کیلئے  خیبر پختونخوا حکومت کی ہر قسم کی مدد کی جائےگی ، 70سالوں میں قبائلی علاقوں میں سب سےزیادہ غربت ہے، قبائلی علاقوں میں تعلیم اور روزگار کے مواقع کم ہیں، ہماری کوشش ہے قبائلی علاقوں میں زیتون کے درخت لگائے جائیں، درخت ہم لگارہے ہیں،اگلے 4،3 سال تک اتنی آمدنی ہوگی جس کا اندازا نہیں، زیتون کے درخت لگانےسے ایکسپورٹ بھی بڑھے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک دشمن قوتیں مختلف طریقوں سے انتشار پھیلانے کی کوشش کرتی ہیں، افغانستان میں امن سے علاقائی ترقی کا نیا دور شروع ہوگا ،کمزور طبقے کو آگے لانے کا مطلب ان علاقوں کو آگے لے جانا ہے جو پیچھے رہ گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ضم اضلاع کو سالانہ 110ارب روپے کا حساب دیا جائے‘ملک دین خیل قومی کونسل

انضمام کے بعد عوام کوامید تھی کہ پسماندہ علاقوں میں ترقی و خوشحالی کا دور …

%d bloggers like this: