ضم اضلاع کے عوام کو دہائیوں تک نظر انداز کیا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ

وزیراعظم نئے اضلاع میں انٹرنیٹ سروس کی بحالی پرکام کریں، اب ان علاقوں کی نوجوانوں کو آئینی حقوق سے مزید محروم نہیں رکھا جا سکتا

اسلام آباد(این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ مل کر ضم شدہ علاقوں میں انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا معاملہ حل کریں۔نئے علاقوں میں انٹرنیٹ سروس کی بحالی سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ نے تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے،

چیف جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے 3 صفحات پر مشتمل تحریری حکم میں کہا گیا کہ ٹیکنالوجی کی شعبے میں ترقی کے بعد انٹرنیٹ تک رسائی بنیادی آئینی حقوق میں شامل ہے، ضم شدہ علاقوں کے لوگوں نے بہت کچھ سہہ لیا، دہائیوں تک انہیں نظر انداز کیا گیا ، اب ضم شدہ علاقوں کی نوجوانوں کو آئینی حقوق سے مزید محروم نہیں رکھا جا سکتا۔

عدالت نے تحریری حکم میں کہا کہ وزیراعظم اور وفاقی کابینہ خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ مل کر معاملہ حل کریں، فیصلے کی کاپی سیکرٹری داخلہ وفاقی کابینہ کو پیش کریں، امید ہے کابینہ ضروری اقدامات لے گی، ضم شدہ علاقوں کے عوام کو بنیادی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، امن و امان کی خراب صورتحال اور سکیورٹی کے نام پر ضم شدہ اضلاع میں انٹرنیٹ بند رکھا گیا

عوام اور مسلح افواج کی قربانیوں سے اب امن و امان بحال ہو چکا، ضم علاقوں میں ریاست کی رِٹ بحال ہوئی، فاٹا اب خیبر پختونخوا کا حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں

اسد خان اچکزئی کی غائبانہ نماز جنازہ کل باچا خان مرکز پشاور میں ادا کی جائے گی

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے ترجمان اسد خان اچکزئی کی غائبانہ نماز جنازہ کل …