سپریم کورٹ نے وفاقی وزیر خسرو بختیار کی نااہلی کیلئے دائر درخواست مسترد کردی

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور وفاقی وزیر خسرو بختیار اور ان کے بھائی و وزیر خزانہ پنجاب ہاشم جواں بخت کی نااہلی کے لیے دائر درخواست مسترد کردی۔

عدالت عظمیٰ کی لاہور رجسٹر میں جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس امین الدین خان پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے احسن عابد ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے درخواست گزار کا مؤقف نظر انداز کرکے وزرا کی نااہلی کی درخواستیں مسترد کیں، جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عدالت عالیہ کا تحریری حکم دکھائیں، ہمیں تو عدالتی حکم میں کوئی غلطی نظر نہیں آئی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ الیکشن ایکٹ کی دفعہ 143 اور 145 کے تحت آپ نے مدمقابل امیدوارں کو فریق نہیں بنایا تھا۔

اس پر درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ خسرو بختیار اور ہاشم جواں بخت نے کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپائے، جس پر جسٹس امین نے پوچھا کہ آپ نے ان کے خلاف انتخابی عزرداری دائر کی۔

ساتھ ہی جسٹس منصور نے یہ کہا کہ آپ کو انتخابی درخواست دائر کرنے کا قانونی تقاضہ پورا کرنا چاہیے تھا۔

بعد ازاں عدالت نے خسرو بختیار اور ہاشم جواں بخت کی نااہلی کے لیے دائر درخواست کو مسترد کردیا۔
خیال رہے کہ مخدوم خسرو بختیار نے 2018 کے عام انتخابات میں این اے-177 رحیم یار خان اور مخدوم ہاشم جواں بخت نے پی پی-259 رحیم یار خان سے انتخاب میں حصہ لیا تھا اور کامیابی حاصل کی تھی۔

خسرو بختیار اس وقت وفاقی وزیر اقتصادی امور اور ان کے بھائی مخدوم ہاشم جواں بخت صوبائی وزیر خزانہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

سیز فائر کی خلاف ورزیوں پر بھارتی سفیر کی دفتر خارجہ طلبی

اسلام آباد: بھارتی فورسز کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی سنگین …

%d bloggers like this: