تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ آسان نہیں تھا،شفقت محمود

اسلام آباد(آن لائن) وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ آسان نہیں تھا، طلبہ کواجتماع سے گریز کرنا ہوگا۔ اساتذہ کو پڑھانے کے ساتھ ساتھ ایس او پیز پر بھی عمل کروانا ہو گا،چھ ماہ بعد تعلیمی ادارے کھلنے کے بعد وفاقی وزیر شفقت محمود نے اسلام آباد کے سرکاری اسکول کا دورہ کیا، اور تعلیمی ادارے کھلنے پر صورت حال کا جائزہ لیا ،وفاقی وزیر تعلیم نے متعلقہ انتظامیہ کو ایس او پیز پر عمل درآمد ہرصورت یقینی بنانے پر زور دیا۔

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا اس موقع پر کہنا تھا کہ کہا کہ چھ ماہ بعد تعلیمی ادارے کھل گئے ، ہمیں طلبہ کی اسکولوں میں واپسی پر خوشی ہے، کورونا سے بچاو کیلئے ایس او پیز پرعمل درآمد ضروری ہے،ضلعی انتظامیہ اسکولوں میں کورونا سے بچاو کے انتظامات کاجائزہ لے گی۔

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ مرحلہ وار بچوں کی تعداد بڑھائی جائے، اسکول آنے اور جانے کا مرحلہ بھی بہت اہم ہے، کورونا سے بچا کے لیے ہرممکن کوششیں کررہے ہیں ،صوبائی حکومتیں بھی کوشش کررہی ہیں کہ ایس او پیز پر عملدرآمد ہو ،ایس او پیز پرعملدرآمد نہ کرنے پرپہلے وارننگ، پھر ادارہ بند کر دیا جائے گا،اساتذہ نے پڑھانے کے ساتھ ساتھ ایس او پیز پر عملدرآمد بھی کروانا ہے، ملک میں 215 کے قریب یونیورسٹیز ہیں،ہر یونیورسٹی میں ہوسٹل ہیں،ہوسٹلز میں بھی ایس او پیز کو مد نظر رکھا جائے، شفقت محمود نے کہا کہ مرحلہ وار بچوں کی تعداد بڑھائی جائے، سکول آنے اور جانے کا مرحلہ بھی بہت اہم ہے۔دریں اثناء وفاقی سیکرٹری تعلیم فرح حامد نے ایف سکس کے ماڈل تعلیمی اداروں کا دورہ کیا .

اس موقع پر ان کا کہناتھا کہ ایس او پیز پر لازمی عملدرآمد کریں، ایس او پیز بارے لاپرواہی نہ کریں کہ دوبارہ تعلیمی ادارے بند کرنا پڑیں ۔سیکرٹری تعلیم فرح حامد نے کلاسز میں موجود بچوں سے ایس او پیز بارے پوچھا۔

یہ بھی پڑھیں

بلوچستان میں پرائمری اسکولز کھولنے کی تاریخ میں 15 دن کی توسیع کا اعلان

کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے پرائمری اسکولز کھولنے کی تاریخ میں 15 دن کی توسیع کا …

%d bloggers like this: