سینیٹ الیکشن میں سرپرائز دیں گے،پی ڈی ایم

ایوانِ بالا کے انتخابات میں کامیابی کیلئے اپوزیشن اتحادمتحرک ، چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کی یوسف رضا گیلانی،شاہد خاقان عباسی اور راجہ پرویز اشرف کے ہمراہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات ، سینیٹ الیکشن اور دیگر امورپر تبادلہ خیال

اسلام آباد (این این آئی)سینیٹ انتخابات میں کامیابی کیلئے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ متحرک ہوگئی ہے، دیگر جماعتوں کے ارکان قومی اسمبلی کے علاوہ آپس میں بھی ملاقاتوں کے سلسلے تیز ہوگئے ہیں، اس حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زر داری نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کے ہمراہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ان کی رہائشگاہ پر ملاقات کی جس میں سینٹ انتخابات ، ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال سمیت مختلف امورپر تبادلہ خیال کیا گیا ۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زر داری نے کہاکہ ہم صدر پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمن کے پاس آئے ہیں، سید یوسف رضا گیلانی اسلام آباد اور فرحت اللہ بابر خیبرپختونخوا سے ٹیکنوکریٹ سیٹ پر مشترکہ امیدوار ہیں،پہلے مرحلے کے ضمنی انتخابات میں پی ڈی ایم نے خیبر سے پشین تک حکومت کو ہروایا ہے،کرم اور ڈسکہ میں جہاں بالترتیب مولانا فضل الرحمن اور مسلم لیگ ن کے امیدوار جیت رہے تھے دھاندلی کی،امید رکھتے ہیں پی ڈی ایم کے امیدوار اچھے نتائج دیں گے۔

انہوں نے کہاکہ یہ امیدوار اس کٹھ پتلی حکومت کو گھر بھیجنے میں مدد گار ثابت ہوں گے،پی ڈی ایم نے حکومت کو ہر میدان میں چیلنج کر رکھا ہے،ضمنی انتخابات میں پی ڈی ایم نے حکومت کو شکست دی ہے،عوام حکومت نہیں پی ڈی ایم کے ساتھ ہے ،سینیٹ الیکشن ثابت کریگا اراکین پارلیمان حکومت نہیں پی ڈی ایم کے ساتھ ہیں،سینیٹ الیکشن میں پی ڈی ایم امیدوار سرپرائزنگ نتائج دینگے۔

انہوں نے کہاکہ چاہتے ہیں دھاندلی کی پیداوار حکومت گھر واپس جائے،چاہتے ہیں عوام دشمن حکومت گھر جائے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ بلاول بھٹو‘یوسف رضا گیلانی، فرحت اللہ بابر کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے ہمیں عزت بخشی۔ انہوںنے کہاکہ پوری قوم کیلئے خوشخبری ہے کہ پی ڈی ایم مرکز اور چاروں صوبوں

میں متحد ہے،پی ڈی ایم اتحاد سے مشترکہ طور پر سینیٹ الیکشن لڑ رہی ہے، اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہاکہ مخالفین کو امید تھی کہ پی ڈی ایم کی جماعتیں ایک دوسرے کے ووٹ توڑیں گی،ایسا نہیں ہوا اور بڑے نظم سے جماعتیں آگے بڑھ رہی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ گذشتہ روز اسلام آباد میں ہمارے تین نوجوانوں کو شہید کیا گیا،جہاں امن اور معیشت نہیں ہو گی تو ایسے حکمرانون کو ناکام تصور کیا جائے گا،ایسے حالات میں ایسے حکمرانوں سے خلاصی قوم اور ملک کی بڑی خدمت ہو گی۔

انہوں نے کہاکہ سینیٹ الیکشن کے بعد سربراہی اجلاس ہوگا ،آئندہ کی حکمت عملی پھر طے کی جائے گی‘ صحافی نے سوال کیاکہ اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار ہوگئی یا نہیں ‘ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ یوسف رضا گیلانی اس سوال کا جواب دے چکے ہیں ‘ صحافی نے سوال کیاکہ آپ کیا کہتے ہیں جس پر مولانا فضل الرحمن نے جواب دینے سے گریز کیا ۔

صحافی نے سوال کیاکہ اے این پی بلوچستان حکومت کے ساتھ ملکر الیکشن لڑ رہی ہے کیا یہ دوہرا معیار نہیں ‘ مولانا فضل الرحمن نے کہ اکہ یہ سوال آپ کو دوسال پہلے کرنا چاہئے تھا آپ نے دیر کر دی ہے ‘ بلاول بھٹو زر داری نے کہاکہ ہم کے پی کے میں جماعت اسلامی سمیت ساری اپوزیشن کو متحد کرچکے ہیں ‘

انہوں نے کہاکہ پنجاب میں مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کی مفاہمت کا نتیجہ ن لیگ کی زیادہ سیٹوں کی صورت میں نکالا ہے ،ایم کیو ایم کراچی کو لاوارث چھوڑنے پر حکومت سے ناراض ہے ‘ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ تحریک اور الیکشن کی حکمت عملی الگ الگ ہوتی ہے ،تحریک جاری رہے گی ۔دوسری جانب پیپلزپارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے مولانا فضل الرحمان کو 2 مارچ کو ہونے والے عشائیے میں شرکت کی دعوت دی جسے مولانا فضل الرحمان نے قبول کرلیا۔

یہ بھی پڑھیں

لاہور ہائیکورٹ،مریم نواز کی عبوری ضمانت کیس کی سماعت کل ہو گی

لاہور (آن لائن)لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ کے روبرو مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر …