عمران خان ہمارا مقابلہ تمہارے ساتھ نہیں بلکہ تمہیں لانے والوں سے ہے‘نواز شریف کا ویڈیو لنک خطاب

ہم اداروں کے دشمن نہیں ہیں‘ اداروں کا احترام کرتے ہیں، آج بھی سٹیبلشمنٹ موجودہ نااہل حکومت کی پشت پناہی سے باز آجائے تو پھر انکی عزت ہو گی‘سربراہ جے یو آئی‘ ملک کے قانون بنائے جارہے تھے تو اس وقت یہ نہیں کہا گیا تھا کہ بلوچوں کی تاریخ خون سے لکھی جائیگی ‘جلسے سے اختر مینگل کا خطاب

کوئٹہ(آن لائن؍این این آئی) پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)کی جانب سے کوئٹہ میں بھی کامیاب جلسے کی صورت میں سیاسی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا جس میں اپوزیشن جماعتوں کے کارکنوں نے بڑی تعداد میں بھر پور شرکت کی ‘جلسے سے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید پر سیاسی امور میں مداخلت اور 2018کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا انہیں اپنے کیے کا جواب دینا ہو گا ان کا کہنا تھا کہ اب ووٹ کی عزت کوئی پامال نہیں کر سکے گا اور کوئی ووٹ کی عزت کی طرف میلی آنکھ سے بھی نہیں دیکھ سکے گا

انہوں نے کہا کہ یہ جذبہ میں نے گوجرانوالہ، کراچی اور اب کوئٹہ میں دیکھا ہے‘سابق وزیر اعظم نے کہا کہ میرے بہنوں اور بھائیو اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہوں انہوں نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ پاکستان کے عوام ایک ہی قافلے کا حصہ بن گئے ہیں اس دوران انہوں نے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ پر پابندی کی مذمت کی۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں لوگ آج بھی اٹھائے جا رہے ہیں کوئی پتا نہیں انہیں آسمان کھا گیا یا زمین نکل گئی۔

انہوں نے موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کا طوفان آ چکا ہے‘ آٹا، چینی اور روٹی کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں‘ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہم ان حالات کی طرف کیسے پہنچیں ہیں۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ بعض لوگوں کو نواز شریف کیوں پسند نہیں؟ کیونکہ وہ ڈکٹیشن نہیں لیتا، وہ آپ کا منتخب نمائندہ ہے۔ پھر ایک لاحاصل تفتیش کے بعد فیصلہ ہوا کہ نواز شریف کو نااہل کردو‘اسے عمر بھر کے لیے نااہل کردو‘ اس کے بھائی شہباز شریف، اس کی بیٹی مریم نواز اور مسلم لیگ کے ساتھیوں کو جیل بھیج دو۔

انہوں نے نواز شریف کو نشان عبرت بناتے بناتے ملک کو عبرت کا نشانہ بنا دیا۔نواز شریف نے کہا کہ انتخابات سے قبل زبردستی لوگوں کو پی ٹی آئی میں شامل کرایا گیا، پولنگ ایجنٹس کو باہر نکال دیا اور آر ٹی ایس بند کرکے اپنی مرضی کے نتائج جاری کرنا شروع کردیے اور ایک نااہل اور نالائق شخص کو دھانددلی سے وزیر اعظم کی کرسی پر لا بٹھایا۔

اس موقع پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ کراچی کے جلسے سے گھبرا کر انھوں نے ہوٹل کے کمرے کے دروازے کو توڑا جہاں مریم نواز اور کیپٹن صفدر ٹھہرے ہوئے تھے۔نہ روایات نہ قدریں، یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے‘انہوں نے کہا کہ اس سے میرے بیانیے کو مزید تقویت دی کہ یہاں ریاست کے اوپر ایک اور ریاست قائم ہو چکی ہے۔انہوںنے پوچھا کہ سیکٹر کمانڈر کون ہے، وہ کس کے حکم پر ایف آئی آر کٹواتا ہے، وہ کس کے حکم پر آئی جی اور ایڈیشنل آئی جی کو اغوا کراتا ہے، جس کی خبر خود وزیر اعلیٰ کو بھی نہیں ہے‘اپنے خطاب کے دوران نواز شریف مزید کہتے ہیں کہ پی ڈی ایم پاک فوج کے مقدس ادارے کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنے والوں کے خلاف اٹھی ہے۔

چند لوگ اپنے گھناؤنے مقاصد کے لیے آئین اور قانون توڑتے ہیں اور خود کو بچانے کے لیے نام فوج کا استعمال کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس سے فوج کا دور دور سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس سے بدنامی کس کی ہوتی ہے؟ فوج کی ہوتی ہے۔اسی لیے میں نام لے کر ان کرداروں کو ظاہر کرتا ہوں تاکہ اس کا دھبہ فوج پر نہ لگے، ملک پر یہ داغ نہ لگے۔

ان کا کہنا تھا کہ کارگل میں رسوائی کا فیصلہ فوج کا نہیں تھا، چند مفاد پرست جرنیلوں کا تھا۔پرویز مشریف کے اکانٹس میں اربوں روپے پڑے ہیں مگر نیب سمیت کی کی ہمت نہیں کہ تحقیقات کرائیں۔ا نہوںنے کہا کہ چند کرداروں نے میری حکومت کے خلاف دھرنے دلوائے‘اب تمام سوالوں کے جواب قمر جاوید باجوہ اور جنرل فیض حمید کو دینے ہیں۔جنرل قمر باجوہ آپ کو دھاندلی اور اس حکومت کی تمام ناکامیوں کا حساب دینا ہے۔ اس قوم کو مہنگائی اور غربت کی طرف دھکیلنے کا حساب دینا ہے۔جنرل فیض حمید آپ کو جواب دینا ہے کہ کیوں آپ نے ایک حاضر جواب جج کے گھر جا کر دبا ڈالا‘ کیوں اسے وقت سے پہلے چیف جسٹس بننے کا کہا۔ کیوں آپ نے نواز شریف اور مریم نواز کو الیکشن تک جیل میں رکھنے کا کہا۔ آپ کی کون سی دو سال کی محنت ضائع ہو رہی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ نے تو آئین کی پاسداری کا حلف اٹھایا تھا۔ آپ نے سیاست میں مداخلت نہ کرنے کا حلف اٹھایا تھا پھر کیوں آپ نے ایسا کیا۔کیا آپ فیض آباد دھرنے کے ذمہ دار نہیں‘ سپریم کورٹ نے آپ کے خلاف کیا فیصلہ دیا‘ اس کے باوجود آپ کو لیفٹیننٹ جنرل کے عظیم الشان عہدے پر ترقی ملی اور آئی ایس آئی کے چیف بنے۔آپ نے بے دھڑک سیاست میں مداخلت کی۔ اگر یہی توانائی آپ نے اپنے کام پر خرچ کی ہوتی تو ہمارے کشمیری بھائی اس مشکل میں ہی نہ ہوتے جو وہ آج ہیں۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ عمران خان ہمارا مقابلہ تمہارے ساتھ نہیں ہے‘ہمارا مقابلہ تمہیں لانے والوں سے ہے‘تمہیں ثاقب نثار کا این آر او نہیں بچا سکے گا۔

جلسے سے اپنے خطاب کے آغاز پرمولانا فضل الرحمان نے فرانس اور ڈنمارک کی دیواروں پر پیغمبر اسلام کے خاکے چسپاں کرنے کیخلاف مذمتی قرارداد پیش کی‘ کراچی میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے ساتھ واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے اخلاقی دیوالیہ پن قرار دیا۔محسن داوڑ کا نام لیے بغیر انہوںنے کہا کہ ایک مہمان کو ایئر پورٹ پر روکا گیا جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا نام نہاد کابینہ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ایک ریفرنس جعلی صدر کو بھیجا کئی سماعتوں کے بعد اس ریفرنس کو بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے خارج کر دیاگیا۔ انہوں نے کہا اب حکومت کے پاس اخلاقی جواز نہیں رہا ہے۔

اہوں نے کہا آپ کس بنیاد پر وزیر اعظم اور صدارت کی کرسی پر بیٹھے ہوئے ہیں۔پی ڈی ایم کا موقف درست ہے ثابت ہوا کہ یہ حکمران جعلی تھے اور جعلی ہیں‘ ان کے مطابق ان حکمرانوں کے خلاف تحریک اب اور زور پکڑے گی۔انہوںنے کہا کہ اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہونے دیں گے‘سندھ کے جزائر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان پر وفاقی حکومت کو کنٹرول حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آج ہم نے چین اور سعودی عرب جیسے دوستوں کو ناراض کیا ہے۔ ان کے مطابق جب تم چیخ رہے تھے تو اس وقت پاکستان کے اکانٹس میں تین ارب ڈالر رکھے‘حکومت کی خارجہ پالیسی ہے ہی کوئی نہیں ہے۔ ان میں شعور ہے ہی نہیں کہ خارجہ پالیسی کسے کہتے ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نہ صرف عمران خان نے کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فارمولا دیا بلکہ دعا مانگی کہ خدا کرے کہ ہندوستان میں مودی جی کی حکومت آئے اور پھر جب انہوںنے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی تو پھر یہ گھر خاموش بیٹھے رہے سب ہوتا دیکھتے رہے‘یہ کشمیر فروش ہیں۔گلگت بلتستان کو آزادانہ صوبہ بنانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک حصے پر انڈیا اور دوسرے حصے پر انڈیا قابض ہے تو اس سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کیا حیثیت رہ جائے گی‘آج جو حشر پشاور بی آر ٹی کا ہوا ہے وہ حال پورے پاکستان کا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم اداروں کے دشمن نہیں ہیں‘ اداروں کا احترام کرتے ہیں، ادارے ملک کے لیے ضروری ہیں‘ ہم اداروں کے سربراہان کی عزت کرتے ہیں مگر جب وہ مارشل لا لگاتے ہیں اور من پسند حکومت کی پشت پناہی کرتے ہیں تو پھر ان سے شکوہ کرنا ہمارا حق بنتا ہے۔انہوںنے کہا کہ آج بھی اگر اسٹیبلشمنٹ اس حکومت کی پشت پناہی سے باز آجائے اور کہے کہ انھوں نے ان کو اقتدار میں لا کر غلطی کی تو پھر ان کی عزت ہو گی‘

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ این آر او اب تمہاری ضرورت ہو گی‘ کہتا ہے کہ ایک سال میں ایک کروڑ نوکریاں دوں گا۔ ان کے مطابق یہ تو 1947 سے لے کر آج تک نہیں ہوا اب یہ کہتا ہے کہ بھنگ پیو، چرس پیو میں آپ کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتا اور میں آپ کا انکار کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا میں نے پہلے دن سے اس حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے اور آج بھی اپنے موقف پر قائم ہوں۔یہ حکومت اب لوگوں کو بے روزگار کر رہی ہے‘ ریڈیو پاکستان اور پی آئی اے سے ملازمین کو نکالا گیا اور متعدد محکموں کے لوگ اسلام آباد کے ڈی چوک کا رخ کرتے اور چیخ و پکار کرتے نظر آتے ہیں۔انہوں نے لاپتہ افراد کے بارے میں بات کرتے ہوئے انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس معاملے میں مداخلت کا کہا ہے۔

انھوں نے ہیلری کلنٹن کے ایک حالیہ دنوں کے انٹرویو کے بارے میں کہا کہ انہوں نے بھی وضاحت کی کہ ڈیپ سٹیٹ ایک ایسی ریاست کو کہتے ہیں کہ جہاں ایجنسیوں کی لائی ہوئی حکومت ہو اور لوگوں کو لاپتہ کیا جائے مگر کوئی پوچھنے والا نہ ہو اور اس کے بعد انہوں نے کہا کہ جیسا کہ پاکستان‘

انہوں نے عوام کو باہر نکلنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ گھر بیٹھے آزادی نہیں ملا کرتی، اس کے لیے باہر نکلنا پڑتا ہے ان کے مطابق میرے نزدیک فوج کی حیثیت ایسی ہے جیسے آنکھوں کی پلکیں‘ یہ سرحدوں کی حفاظت کرتی ہیں اور یہ صرف سرحدوں پر ہی ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق جب ان پلکوں کا کوئی بال آنکھ میں آ جائے تو درد ہوتا ہے اور پھر اس بال کو نکالنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مذاق مت اڑاو اور ہماری وفاداریوں کو شک کی نگاہ سے نہ دیکھو۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب اس ملک کے قانون بنائے جارہے تھے اور ہم سے معاہدات کیے جا رہے تھے تو اس وقت یہ نہیں کہا گیا تھا کہ بلوچوں کی تاریخ خون سے لکھی جائے گی بلکہ یہ کہا گیا تھا کہ آپ کو برابری اور عزت سے پیش آیا جائے گا‘انہوںنے حاضرین جلسہ سے پوچھا کہ کیا آپ کو برابری اور عزت مل رہی ہے‘ کیا ان سڑکوں پر آپ کے لیے کوئی برابری کا سلوک کیا جا رہا ہے۔

‘اختر مینگل نے کہا کہ یہاں اب آپ کو اجتماعی قبریں ملیں گی۔ انہوںنے کوئٹہ پریس کلب کے باہر لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کے کیمپ اور ان کی کراچی اور اسلام آباد کی طرف پیدل احتجاجی مارچ کا بھی ذکر کیا۔ہم نے پاکستان کا قانون نہیں توڑا مگر ان لاپتہ افراد کو آپ دس دس سالوں تک عقوبت خانوں میں رکھا۔

ان کے مطابق لاپتہ افراد کی بیگمات ہم سے آ کر پوچھتی ہیں کہ کم از کم یہ تو معلوم ہو جائے کہ ہم بیوہ ہیں یا نہیں؟ان بچوں کا غائب کرنے والا کون ہے؟ بلوچستان میں پانچواں فوجی آپریشن کرنے والا کون ہے؟ اس کے بعد سردار اختر مینگل نے کہا کہ سیاست میں مداخلت بھی ہم ہی کرتے ہیں ناں، ڈبے ہم بھرتے ہیں۔ان کے بقول اس صوبے میں راتوں رات پارٹیاں بن جاتی ہیں۔ اب ایک پارٹی بنی جس کا نام باپ ہے۔ پہلے انہوں نے اس پارٹی کا نام پاپ (پاکستان عوامی پارٹی)رکھا تھا پھر کسی نے کہا کہ اس کا مطلب گنا ہے تو پھر باپ کے نام سے یہ گنا ہمارے ذمہ لگا دیا۔

انہوں نے کہا کہ سرحدوں کی حفاظت بھی ہم ہی کریں گے اور سیاست کی طرح اس میدان میں بھی تمہاری طرح ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ ہم اس سرزمین اور اس مٹی کے لیے پیدا ہوئے ہیں اور انشاللہ اسی سرزمین میں ہم دفن ہوں گے اور اسی میں مریں گے انہوں نے کہا کہ یہ جو باپ کے بٹیر آپ نے پال رکھے ہیں یہ ہمارے شیروں کا مقابلہ نہیں کر سکتے بھائی۔ یہ پھونک سے ہی اڑ جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں

اشرافیہ نے ملک میں اسلامی نظام کونافذ نہیں ہونے دیا‘سراج الحق

آئندہ الیکشن میں یوتھ کے ذریعے پولنگ بوتھ پر سرپرائز دیں گے، امیرجماعت اسلامی لاہور …