سینیٹ انتخابات ‘ جماعت اسلامی نے حکومتی آرڈیننس کو مسترد کردیا

شو آف ہینڈ کے ذریعے انتخابات سے متعلق آرٹیکل 89 کو غلط استعمال کرنے پر صدر کا مواخذہ ہونا چاہئے، سینیٹر مشتاق احمد خان

پشاور (سٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ سینیٹ کے انتخابات میں شو آف ہینڈ کے ذریعے انتخاب کیلئے حکومت کے جاری کردہ آرڈیننس کو مسترد کرتے ہیں۔ صدر کا آرٹیکل 89 کو غلط استعمال کرنے پر مواخذہ ہونا چاہئے۔حکومت سیاست سے پیسے کا خاتمہ چاہتی ہے تو اسٹوڈنٹ یونین کے الیکشن کروائے۔خود کو انقلابی اورآئین کا پابند کہنے والے آئین کا مذاق اڑا رہے ہیں۔

پارلیمنٹ کے اجلاس پر روزانہ 4کروڑ روپے کا خرچہ آتا ہے، اگر آرڈیننس کے ذریعے ہی حکومت چلانی ہے تو پارلیمنٹ کو تالے لگائے جائیں۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ تاریخ میں پہلی بار صرف ایک آدمی کی ملازمت کے لئے صدارتی آرڈیننس جاری کیا گیا ہے،دستورکے آرٹیکل 59(2)اور226 سینیٹ کے الیکشن میں خفیہ بیلٹ کی بات کرتا ہے۔کوئی صدارتی آرڈیننس یاسپریم کورٹ دستورمیں ترمیم نہیں کرسکتی۔اسکے لیے دستور پاکستان کے آرٹیکل239 کے تحت پارلیمنٹ کی دوتہائی اکثریت لازمی ہے۔

حکومت سیاسی مقاصد کے لئے فیڈریشن،آئین،پارلیمنٹ، اورجمہوریت سے کھیل رہی ہے۔حکومت اگر جائز کام کرنا چاہتی ہے تو اس کے لئے جائز طریقہ اختیار کرے۔جماعت اسلامی اس کی مذمت کرتی ہے اور پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اس ماورائے دستوری عمل کے خلاف مزاحمت کریں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینیٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ جب تک سیاست کو پیسے، مائیگریٹڈ برڈز، اے ٹی ایم مشینوں، پیرا ٹروپرز اور مافیا سے پاک نہیں ہوگی، اس وقت تک یہ عوام کی سیاست نہیں بن سکتی۔ 2018ء کے سینیٹ انتخابات میں حکومتی پارٹی کے بکنے والے 20ایم پی ایز کی ویڈیوز اور گورنر پنجاب چودھری سرور کے زیادہ ووٹ لینے کے معاملے پر جوڈیشل انکوائری ہونی چاہئے۔

وزیر اعظم کے پاس جتنے ثبوت ہیں اور پارٹی کے موجودہ اور سابقہ لوگوں کو بلا کر ان سے تحقیقات کرنی چاہئیں تاکہ پارلیمان کا تقدس بحال ہو۔ انہوں نے حکومت کو تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ اگر سیاست سے مائیگریٹڈبرڈز، اے ٹی ایم مشینوں، پیراٹروپرز اور چینی، آٹا، سیگریٹ اور آئی پی پیز مافیا ز کو ختم کرنا ہے تو سب سے پہلے اندرونی جمہوریت کی طرف آنا پڑے گا۔ پی ٹی آئی نے گزشتہ تین سال سے اپنی پارٹی کے اندر انتخابات کیوں نہیں کرائے۔

اگر سیاست کو عوام کی سیاست بنانی ہے تو سینیٹ کا ٹکٹ نظریاتی کارکنان کو دینا۔ ایسے لوگ جو ارب اور کھرب پتی ہوں، جو مافیا کے نمائندے ہوں اور اسی دن پیراشوٹ کے ذریعے اتریں، تو پاکستان کی سیاست سے پیسے کا عمل دخل ختم نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ تین سال ہوگئے طلبہ یونین بحال نہیں کئے گئے، طلبہ یونین نظریاتی سیاست کی نرسریاں ہیں، حکومتی پارٹی کے منشور میں بھی طلبہ یونین کی بحالی شامل ہے، بلدیاتی انتخابات تین سال سے نہیں کرائے جارہے۔ حکومت نے نظریاتی سیاست کی نرسریوں کو بند کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

حکومت کو بلدیاتی انتخابات سے بھاگنے نہیں دیں گے، مشتاق خان

موجودہ حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ، معیشت کی بینڈ بجادی گئی ، یومیہ …