ن لیگ، پی پی، جے یو آئی اکٹھ، لاہور سیاسی سرگرمیوں کا گڑھ بن گیا

بلاول بھٹو کی شہباز شریف، مولانا فضل الرحمان سے اہم ملاقات ،مجموعی صورتحال اور اے پی سی کے انعقاد پر تبادلہ خیال کیا گیا

لاہور( این این آئی )اپوزیشن جماعتوں نے عید الاضحی کے بعد حکومت کے خلاف محاذ گرم کرنے کیلئے سیاسی سر گرمیاں شروع کر دیں ، گزشتہ روز صوبائی دارالحکومت لاہور سیاسی سر گرمیوں کا گڑھ بنا رہا جہاں مسلم لیگ (ن ) ، پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کی قیادت کے درمیان اہم ملاقاتیں ہوئیں ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفد کے ہمراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے مقامی ہوٹل میں اہم ملاقات کی ۔

اس موقع پر قمرزمان کائرہ ،چوہدری منظور ،مولانا امجد خان، حاجی منظور آفریدی اور بلال میر بھی موجودتھے ۔ملاقات میں عید الاضحی کے بعد اے پی سی کے انعقاد ، ایجنڈا طے کرنے کے لئے راہبر کمیٹی کے اجلاس ،نیب قانون میں ترمیم اور ملک کی موجودہ معاشی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے بلاول بھٹو زرداری کو مسلم لیگ (ن) کے صدر و قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف سے ہونے والی ملاقات اور اس میں زیر بحث آنے والے نکات بارے بھی آگاہ کیا ۔

رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے اور اس کے مزید اقتدار میں رہنے سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ۔ وفود کی سطح پر ملاقات کے بعد دونوں رہنمائوں میں ون آن ون ملاقات بھی ہوئی ۔

مولانا فضل الرحمان نے بلاول بھٹو کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی یہ بات ہوئی تھی کہ اگر کسی ایک پارٹی کی تیاری کا لیول کچھ اور اور دوسری پارٹی کا کچھ اور ہوا تو ہم اسے مینج کریں گے ۔ آزادی مارچ کے موقع پر جو کچھ ہوا اس کے نتیجے میں میڈیا کا سوال کرنا بنتا ہے لیکن اب ہم اس کی تلافی کیلئے دوبارہ بیٹھ کر سوچ رہے ہیں اور اب زیادہ دیر نہیں ہے ۔ رہبر کمیٹی کی سطح پر ایجنڈا طے ہوگا اور پھر اسے اے پی سی میں لے کر جائیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ ہم دو سالوں سے یہ موقف اپنائے ہوئے ہیں کہ عام انتخابات میں عوام کا مینڈیٹ چوری ہوا ہے ،عوام کی امانت واپس کی جائے اور جسے حقیقی مینڈیٹ ملے وہ حکومت کرے ۔ اس حکومت نے دوسالوں میں کیا ہے بجٹ کا حجم کم کیا جارہا ہے ، معیشت کہاں چلی گئی ہے ، آج غریب کی کیا حالت ہے ، تاجرطبقہ چیخ رہا ہے ، ہماری معیشت انحطاط کا شکار ہے اور اگر ایسی صورتحال ہو تو پھر ریاست کی بقاء کا سوال پیدا ہوتا ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں جائز حکومت بنے اور حقیقی نمائندگی ہو اور پھر ہماری ترجیح معیشت کواٹھانا ہوگا ۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم اس حکومت کو جائز سمجھتے ہی نہیں اور دو سالوں سے اپنے موقف پر قائم ہیں ، اس حکومت کو ہر حال میں جانا ہوگا ، یہ نہ صرف ناجائز بلکہ نالائق او رنا اہل بھی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ جب اپوزیشن کا اتحاد بننے جارہا ہے تو ایسے سوال نہیں ہونے چاہئیں جس سے مسائل پیدا ہوں ۔ انہوں نے کہ میں اپوزیشن میں بطور ستون کردار ادا کر رہا ہوں ۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ملاقات میں مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا ہے ۔ جہاں تک وسط مدتی انتخابات یا ان ہائوس تبدیلی کی بات ہے تو متحدہ اپوزیشن اس کی حکمت عملی مرتب کرے گی ، ہم رہبر کمیٹی اور اے پی سی میں ان معاملات پر بات کریں گے اور مل کر چلیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو جانا پڑے گا کیونکہ اس کیلئے ملک کے عوام ایک پیج پر ہیں ۔ سلیکٹڈ نے عوام کی صحت زندگی اور معاشی صورتحال مشکل میں ڈال دی ہے ۔ اب اپوزیشن کو عوا م کی امیدوں پر جلد از جلد پورا اترتے ہوئے مسائل کا حل نکالنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ایسی کوئی ٹوئٹ نہیں کی جس پر معافی مانگوں ۔ انہوں نے شہباز شریف کی جانب سے ان سے ملاقات میں ہچکچاہٹ کے سوال کے جواب میں کہا کہ ایسی بات نہ کریں ، شہباز شریف کورونا وائرس میں مبتلا تھے اورپوری دنیا سے رہنماؤں نے ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ، شہباز شریف کینسر کے مرض سے بھی صحتیاب ہوئے ہیں

اب انہوں نے کورونا وائرس سے صحتیابی حاصل کر لی ہے تو مولانا فضل الرحمان کی ان سے ملاقات ہوئی ہے اور میری ملاقات کا شیڈول بھی طے ہوا ہے ۔ کچھ لوگ شہباز شریف کی بیماری پر سیاست کر رہے ہیں جو قابل مذمت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رحمان ملک کی ملاقات کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ اس حوالے سے وضاحت مانگوں گا لیکن انہوں نے شاید سینیٹ کی داخلہ کی کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے ملاقات کی ہے لیکن میں اس حوالے سے ان سے وضاحت مانگوں گا ۔

یہ بھی پڑھیں

مریم نواز پر حملہ، ن لیگ کا وزیراعظم کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ

ایف آئی آر کے اندراج کیلئے پولیس درخواست وصول نہیں کر رہی ،اگر درخواست وصول …

%d bloggers like this: