میاں افتخار حسین نے کوونا سے صحت یابی کے بعد سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کردیا

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری سے اپنے دفتر واقع باچاخان مرکز پشاور میں مختلف وفود نے ملاقاتیں اوربھائی کی وفات پر تعزیت کی
اے این پی اپوزیشن کا حصہ ہے اور اے پی سی میں شریک ہوگی،حزب اختلاف جماعتیں متحد ہیں، جلد حکومت کیخلاف فیصلہ کن تحریک کا آغاز ہوگا، وفود سے گفتگو

پشاور:عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخارحسین نے کورونا وائرس سے صحتیابی کے بعد سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کردیا اور بدھ کے روز باچاخان مرکز میں مختلف وفود سے اپنے دفتر میں ملاقاتیں بھی کیں۔

اس موقع پر انکے ساتھ بھائی کی وفات پر تعزیت کی گئی اور انکے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا۔ میاں افتخارحسین نے کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد خود کو قرنطین کیا تھا اور اسکے بعد کسی بھی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لیا۔

اے این پی رہنما کے بھائی میاں سریر بھی کورونا وبا کے باعث انتقال کرگئے تھے اور انکے جنازے میں میاں افتخارحسین کی طبعیت بگڑ گئی تھی۔اپنی بیماری کے دوران انہوں نے تمام احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے کسی سے ملاقاتیں نہیں کیں اور بد ھ کے روز مکمل صحتیابی کے بعد ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا۔

وفود سے گفتگو کرتے ہوئے میاں افتخارحسین نے کہا کہ بیٹے کے بعد بھائی کا غم بہت بڑا واقعہ تھا لیکن قوم انکے پیچھے کھڑی ہے جس سے انہیں بھی حوصلہ مل رہا ہے، آج اتنے بڑے سانحات کے باوجود بھی وہ اپنے عوام اور قوم کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر مشکل حالات میں میدان میں ہوں گے۔

موجودہ حکومت اور اپوزیشن کی نئی تحریک بارے میاں افتخارحسین نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کی وجہ سے عوام کا جینا مشکل ہوگیا ہے، اپوزیشن کی تمام جماعتوں کا فیصلہ ہے کہ عید الاضحیٰ کے بعد مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا جائیگا، اے این پی بھی اس اے پی سی کا حصہ ہوگی ۔

پی ٹی آئی کی ناکام حکومت کو مزید وقت دیا گیا تو دو سال میں جتنے بحران پیدا کیے گئے ، پھر اگلے دس سال تک اس ناکام حکومت کی کوتاہیوں کا مداوا ممکن نہیں ہوگا،۔ اپوزیشن کی تمام جماعتیں جس طرح متحد ہوچکی ہیں، حکومت کے خلاف بھی فیصلہ کن تحریک کا آغاز بہت جلد ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں

مریم نواز پر حملہ، ن لیگ کا وزیراعظم کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ

ایف آئی آر کے اندراج کیلئے پولیس درخواست وصول نہیں کر رہی ،اگر درخواست وصول …

%d bloggers like this: