پختون معاشرے کی اصلاح کیلئے باچا خان اور خدائی خدمتگاروں کی خدمات ناقابل فراموش ہیں، ثمرہارون بلور

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی ترجمان و رکن صوبائی اسمبلی ثمر ہارون بلور نے کہا ہے کہ پختون معاشرے کی اصلاحات کے لئے باچا خان اور خدائی خدمتگاروں کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔

صوبائی ترجمان نے کہا کہ باچا خان نے پختون خطے میں اصلاح کا آغاز انجمن اصلاح الافاغنہ کے پلیٹ فارم سے 1921 میں کیا تھا جس کو 1928 میں خدائی خدمتگارتحریک کا نام دیا گیا، باچا خان اور ان کے ساتھیوں نے جس تحریک کا آغاز کیا تھا آج عوامی نیشنل پارٹی ان کے مشن کو آگے لے جارہی ہے اور پختون قوم کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے۔

پشاور پریس کلب میں عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی انفارمیشن کمیٹی کے اراکین تیمور باز خان، حامد طوفان، میاں بابر شاہ اور ڈاکٹر زاہد خان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ثمر ہارون بلور نے کہا کہ باچا خان نے اس زمانے میں پختون قوم کو تعلیم سے روشناس کرانے کا بیڑا اٹھایا تھا جس زمانے میں تعلیم کا حصول گناہ گردانا جاتا تھا، اس مقصد کے لئے انہوں نے 100 سے زائد آزاد سکولوں کی بنیاد رکھی تھی اور لوگوں کو بچوں اور بچیوں کی تعلیم کی طرف راغب کرنے کے لئے اپنے بیٹوں اور بیٹی کو بھی انہی آزاد سکولوں میں داخل کروایا تھا، انہوں نے کہا کہ باچا خان نے 1928 میں پشتو زبان کے پہلے میگزین "پختون” کا آغاز کیا تھا جو آج بھی باقاعدگی سے باچاخان ٹرسٹ ریسرچ سینٹر کے زیر اہتمام چھپتا ہے، باچا خان نے پختونوں کے لئے حق رائے دہی اور ووٹ کا اختیار جیتا۔

انہوں نے کہا کہ باچا خان کے بعد غنی خان اور ولی خان ان کے نظرئیے کو آگے لے جاتے ہوئے اگلی نسلوں تک پہنچایا، خان عبدالولی خان نے باچا خان کے فلسفہ عدم تشدد اور خدائی خدمتگاری کو سیاسی شکل دی، ساری دنیاولی خان کے نظریاتی اور اصولی سیاست کی معترف ہے،پاکستان کی ساری جمہوریت پسند اور ترقی پسند پارٹیوں کو نیشنل عوامی پارٹی کے پلیٹ فارم پر اکھٹا کیا، ان کی دور اندیشی کا آج سارا زمانہ معترف ہے، 1973 کے آئین، ووٹ کے تقدس اور ملک میں جمہوریت کی بحالی میں ولی خان کا کردار نہ بھولنے والا ہے، ولی خان وہ شخصیت ہیں جو پاکستان کے ہر آمر کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغان جنگ کو انہوں نے فساد قرار دیا تھا اور پیشنگوئی کی تھی کہ اس جنگ کی آگ پورے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے گی، اس وقت ان کی باتوں کوسنجیدگی سے نہیں لیا گیا اور ان پر غداری اور ملک دشمنی کے فتوے لگائے گئے لیکن وہ عوام کے حقوق کی خاطر اپنے موقف پر ڈٹے رہے، صوبائی خودمحتاری اور قومیتوں کے حقوق کے لئے سب سے پہلے آواز ولی خان نیاٹھائی تھی جس کو اسفندیار ولی خان نے اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے عملی شکل دی اور پختونخوا کو اس کی شناخت دی۔

انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی رہی اور کبھی اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹی۔ ایسے وقت میں جب صوبہ دہشت گردی کی لپیٹ میں تھا اے این پی نے نا صرف قانون کی عملداری ممکن بنائی بلکہ ان علاقوں سے بے گھر ہونے والی عوام کو عزت اور احترام کے ساتھ آباد کروایا، ان تمام مشکلات کے باوجود اے این پی نے اپنے دور حکومت میں عوامی فلاح کے ریکارڈ ترقیاتی کام کئے۔

انہوں نے اے این پی دور حکومت میں کئے گئے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی نے نئی یونیورسٹیوں اور ڈگری کالجز کا قیام عمل میں لایا، صوبہ بھر میں سڑکوں اور انفراسٹرکچر کا جال بچھایا، نوجوانوں کے لئےباچا خان خپل روزگار سکیم شرع کی، طلبا وطالبات کے لئے ستوری د پختونخوا کے نام سے سکالرشپس اور نوے سحر لیپ ٹاپ سکیم شروع کی، سپورٹس کمپلیکسز کا قیام عمل میں لایاگیا، علاقائی زبانوں کی ترویج کے لئے پختونخوا لینگوج اتھارٹی قائم کی، مادری زبانوں کو نصاب کا حصہ بنایا، تورغر کو ضلع کا درجہ دیا، شوکت خانم ہسپتال کے لئے مفت زمین فراہم کی اور صوبائی حکومت کے زیر اہتمام خیبرپختونخوا آئیل اینڈ گیس کمپنی قائم کی۔

انہوں نے تمام مکتبہ فکر کے لوگوں کو ہفتہ باچا خان اور انجمن اصلاح الافاغنہ کی صد سالہ تقریبات میں شرکت کی دعوت دی جس کا آغاز20 جنوری کو باچا خان مرکز سے کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں

نیب کو وزیراعظم کے اختیارات کے غلط استعمال کا نوٹس لینا چاہیے‘عطاء اللہ تارڑ

لاہور (این این آئی)مسلم لیگ(ن)کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے …