ریاست چھوٹی اقوام کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے، ایمل ولی خان

لاپتہ افراد کی مجبور مائیں بہنیں سڑکوں پر رل رہی ہیں لیکن کوئی پرسان حال نہیں

چارسدہ(نمائندہ شہباز) عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ ریاست چھوٹی اقوام کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے، لاپتہ افراد کی مجبور مائیں بہنیں سڑکوں پر رل رہی ہیں لیکن کوئی پرسان حال نہیں، اے این پی بلوچستان کے ترجمان اسد خان اچکزئی پچھلے 5 مہینوں سے لاپتہ ہیں،ریاست ان کی بازیابی میں ناکام رہی ہے

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 6 ہزار سے زائد لوگ لاپتہ ہیں اورصرف جنوری کے مہینے میں 23 شہری لاپتہ ہوئے۔ چارسدہ پریس کلب کے سامنے عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام لاپتہ افراد کی باحفاظت بازیابی کے لئے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ آئین پاکستان شہریوں کو یہ ضمانت فراہم کرتا ہے کہ ہر شخص کو اپنے خلاف آزادانہ سماعت اور اپنے دفاع کا حق حاصل ہے،

عوامی نیشنل پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ اے این پی بلوچستان کے ترجمان اسد خان اچکزئی سمیت تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائے، لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کیا جائے، جو قصوروار ہیں ان کو قانون کے مطابق سزا دی جائی اورجو بے گناہ ہیں ان کوباعزت بری کیا جائے، ورنہ عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنان کی ہاتھ ان مقتدر قوتوں کے گریبانوں میں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ قوم کو وضاحت دی جائے کہ یہ کون سیطاقتور ادارے ہیں جو قانون کو جوتے کی نوک پر رکھ شہریوں کو لاپتہ کر رہے ہیں، امن و امان کا قیام اور دیگر جرائم کو روکنا پولیس کی ذمہ داری ہے، نہ کہ دوسرے اداروں کی۔ عام عوام سے یہ توقع کرنا کہ یہ پاکستان کے وفادار رہیں گے ضروری ہے کہ دیگر ادارے اور ان کے اہلکار بھی قانون پر من و عن عملدرآمد کرے، دن دیہاڑے سادہ کپڑوں میں ملوث مقتدر قوتوں کے اہلکار شہریوں کو اٹھا کر لے جارہے ہیں، روزانہ عام عوام کی عزت نفس اور چادر وچاردیواری کا تقدس پامال کیا جارہا ہے، آئین پاکستان کسی بھی فرد یا ادارے کو شہری لاپتہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا، عام عوام کو قانون اور آئین کا سبق پڑھانے والے پہلے خود قانون و آئین پر عمل کرنا سیکھیں۔

پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے والے اس کی تنخواہ وصول کرتے ہیں لہذا قوم پر احسان نا کیا جائے اور یہ تنخواہ عام عوام کے ٹیکسوں سے ان کی جیبوں میں جاتی ہے۔ تمام اداروں کو اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کرنا ہوگا تب ہی ہم آگے بڑھ سکیں گے۔

احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ پاکستان کی مجبور عدالتیں لاپتہ افراد کی بازیابی میں بری طرح ناکام رہی ہیں، پاکستان کے بدنام ترین جج کو مسنگ پرسن کمیشن کا سربراہ بنایا گیا تھا، قوم کو بغاوت پر اکسایا جارہا ہے،لاپتہ افراد کے معاملے کو سنجیدگی سے لینا ہوگا اور لوگوں میں احساس محرومی کو ختم کرنا ہوگا۔

فخر افغان باچا خان کے پیروکار ہونے کے ساتھ ساتھ خان عبدالولی خان کے سپاہی بھی ہیں، ہمارے عدم تشدد کے فلسفے کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ دھاندلی کے زور پر مسلط حکومت کی حیثیت یہ ہے کہ پارلیمان سے ایک قانون تک پاس نہیں کرواسکتے،ضمنی انتخاب میں سلیکیٹڈ حکمرانوں کی حیثیت کھل کر عوام کے سامنے آگئی ہے،عوامی نیشنل پارٹی مظلوم قومیتوں کے حقوق اور ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لئے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

احتجاجی مظاہرے میں ضلعی صدر شکیل بشیر عمرزئی، جنرل سیکرٹری فاروق خان سمیت کثیر تعداد میں کارکنان اور عام عوام نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں

پاک افغان تجارتی راستوں کی بندش نے اقتصاد کو تباہ کردیا، سردار بابک

راستوں کے کھلنے سے برآمدات میں اضافہ ،روزگار کے لاکھوں مواقع پیداہوں گے،صوبہ خیبرپختونخواتجارت کی …