ضم اضلاع سمیت صوبہ بھر میں دہشت گرد دوبارہ منظم ہورہے ہیں، میاں افتخار

چارسدہ(نمائندہ شہباز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ بابڑے سے لے کر آج اس خطے میں دہشت گردی جاری ہے، خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد ایک بار پھر منظم ہورہے ہیں۔ اس وقت اطلاعات یہی ہیں کہ ضم اضلاع کے ساتھ ساتھ صوبہ کے دیگر علاقوں (دیر، ملاکنڈ، نوشہرہ، مردان، چارسدہ وغیرہ) میں بھی دہشت گرد اپنی تیاریاں کررہے ہیں، حکومت اور سیکیورٹی ایجنسیاں حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے فوری کارروائیاں کریں۔

سانحہ بابڑہ کے 72سال مکمل ہونے پر شہداء کی یاد میں ختم القرآن اور یادگار شہداء پر پھول رکھنے کی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں افتخارحسین نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان ایک متفقہ لائحہ عمل تھا لیکن بدقسمتی سے اس پر من و عن عمل نہیں کیا گیا۔آج بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان کے تمام 20نکات پر من و عن عمل کرایا جائے تاکہ دہشتگردوں کی حقیقت میں بیخ کنی ہو۔

اس موقع پر اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان اور ضلع چارسدہ کے عہدیداران و اراکین بھی موجود تھے۔

میاں افتخارحسین نے کہا کہ احسان اللہ احسان کے فرار ہونے کے بعد بیانات حالات کی سنگینی کی طرف اشارہ کررہی ہے، اگر دہشتگرد دوبارہ منظم ہوئے تو اس بار روکنا ناممکن ہوگا۔ہمیں خدشہ ہے کہ حالات مزید سنگین ہونے جارہے ہیں۔ حکومت اور ذمہ دار ادارے فوری طور پر ان دہشتگردوں کے خلاف عملی کارروائیاں کرے تاکہ عوام کی جان و مال کی حفاظت یقینی بنائی جاسکے۔

ایک سوال کے جواوب میں میاں افتخارحسین نے کہا کہ حکومت نیب کے ذریعے اپوزیشن کو دبانے کی کوشش کررہی ہے اور اسکی تازہ ترین مثال لاہور میں ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز کے قافلے پر پتھرائو، آنسو گیس اور تشدد ہے۔ ہم اس عمل کی مذمت کرتے ہیں کیونکہ سیاسی رہنمائوں کو سیکیورٹی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ نیب کے ذریعے انتقامی احتساب کا عمل جاری ہے، اب تشدد کا عنصر بھی شامل ہوگیا ہے۔ اس ڈرامے کو فوری طور پر بند کردینا چاہیے۔ نیب ناکام ہوچکا ہے، سپریم کا فیصلہ بھی موجود ہے، اب وقت آگیا ہے کہ نیب چلانے والوں کے خلاف کارروائیاں کی جائیں۔

سانحہ بابڑہ بارے این پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہاکہ گذشتہ اے این پی دور حکومت میں دہشتگردی عروج پر تھی۔ پانچ سال تک حکومت دہشتگردوں کے خلاف لڑتی رہی، اگر اس بار موقع ملا تو سانحہ بابڑہ کا کیس دوبارہ کھولیں گے اور منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ سانحہ بابڑہ میں نہتے خدائی خدمتگاروں پر گولیاں برسائی گئیں اور 600سے زائد افراد کو شہید کیا گیا۔اس واقعے کا سرکاری ایف آئی آر درج کیا گیا لیکن ابھی تک ہمارا ایف آئی آر درج نہیں ہوا ہے۔

افغان امن عمل بارے ایک سوال کے جواب میں میاں افتخارحسین نے کہا کہ افغان لویہ جرگہ کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ امن کے قیام کیلئے قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ جرگے نے کیا ہے اور اے این پی اس کی مکمل حمایت کرتی ہے۔

پاک افغان سرحد پر تجارت کیلئے سہولیات کی فراہم کا مطالبہ کرتے ہوئے اے این پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ بھارت کے ساتھ سرحدات کھولنا خوش آئند ہے لیکن طورخم، چمن اور دیگر پاک افغان سرحدات بھی آمد ورفت اور تجارت کیلئے کھولنے چاہیے اور انہیں بھی وہی سہولیات فراہم کی جائیں جو پاک بھارت سرحد پر تجارت اور آمدورفت کیلئے فراہم کی جارہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

نیب نے شہباز شریف کو گرفتار کر لیا

لاہور: لاہورہائی کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کی درخواست ضمانت مسترد کر …

%d bloggers like this: