مظاہرین کیخلاف طاقت کا استعمال’سینیٹ میں قرارداد جمع کرادی گئی

پشاور(آن لائن) امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے فرانس میں توہین رسالت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے خلاف ملک میں حالیہ احتجاج کے دوران پیدا ہونے والی صورت حال کے رد عمل میں حکومت پاکستان کی جانب سے مسئلہ کو افہام و تفہیم سے حل نہ کرنے کے بجائے مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے جا استعمال اور تشددکیخلاف قرارداد سینیٹ سیکرٹریٹ میں جمع کرادی ہے۔ قرارداد کے ابتداء میں کہا گیا ہے کہ سینیٹ کا یہ ایوان فرانس میں توہین رسالت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے خلاف ملک میں حالیہ احتجاج کے دوران پیدا ہونے والی صورت حال کے ردعمل میں حکومت پاکستان کی جانب سے مسئلہ کو افہام و تفہیم سے حل نہ کرنے کے بجائے بے جا طاقت اور تشدد کے استعمال پر انتہائی افسوس اور دُکھ کا اظہار کرتا ہے۔ جس کے نتیجے میں متعدد لوگ اور پولیس کے ملازمین شہید اور سینکڑوں زخمی ہو گئے۔

قراردادکے مطابق یہ معزز ایوان تحفظ ناموس رسالت اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کے قانون پر دل وجان سے عملدرآمد اور مکمل احترام کا اعادہ کرتا ہے اور اپنے عقیدے کے تحفظ کے لیے اسے اپنے ایمان کے لئے جزولاینفک سمجھتا ہے ۔قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ حکومت تحفظ ختم نبوت اور ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کو خارجہ اور داخلہ پالیسیوں کا محور بناتے ہوئے ہر اس ملک جو سرکاری طور پر توہین رسالت کے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، کے ساتھ سفارتی تعلقات پر نظر ثانی کرے۔ 

اسی طرح یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ حضرت محمد رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم کی ناموس کے تحفظ کے لیے وفاقی حکومت ناموس رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قانون کے حقیقی نفاذ کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے موثر اقدامات کرے۔قرارداد میں حکومت پر زور دیا گیا کہ وفاقی حکومت ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کے لئے قوانین پاکستان کی دفعات ”295سی” اور”298بی” سمیت 1973ء کے آئین میں کی جانے والی 17ستمبر1974ء کی دوسری ترمیم (Second Amendment to the Constitution of Pakistan) کے متن یا طریقہ کار میں کسی بھی قسم کی تبدیلی نہ کرے، ان قوانین کے نفاذ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ان قوانین کے خلاف اقدامات کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کرے۔ قرارداد میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ فرانس سمیت تمام ممالک پر واضح کیا جائے کہ حضرت محمد رسول اللہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم کی شان اقدس کے خلاف کسی بھی قسم کے گستاخانہ اقدام امت مسلمہ کے لئے نا قابل برداشت ہیں۔

اُن پر یہ بھی واضح کیا جائے کہ انبیاء کرام، آسمانی صحیفوں کی توہین اور اربوں انسانوں کے دینی جذبات کے خلاف تعصب اور گستاخانہ اقدامات اظہار رائے نہیں بلکہ ایک سنگین جرم ہے، اور جو ریاست ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی کرے گی حکومت پاکستان اس کے ساتھ سفارتی تعلقات پر نظرثانی کرے گی۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت پاکستان بھر پور سفارت کاری کے ذریعے او آئی سی اور اقوام متحدہ سمیت دیگر بین الاقوامی سفارتی پلیٹ فارمز کی سطح پر گستاخانہ اقدامات کے تدارک کے لیے قانون سازی کے لئے اقدامات کرے۔

حکومت پاکستان او آئی سی کے ساتھ مل کر فکری، تحریری، تقریری، اور علمی سطح پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ اور انسانیت کے لیے مساوات، انصاف، امن اور اخوت پر مبنی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی تعلیمات کو دنیا سے متعارف کروانے کے لئے دنیا کی بڑی زبانوں میں کتابوں کی اشاعت، عالمی سطح پر سرگرمیوں کے انعقاد اور دیگر ابلاغ کے ذرائع کو استعمال میں لائے تا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ سے دنیا کو روشناس کروایا جا سکے۔

قرارداد میں حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ حکومت پاکستان نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کی تحفظ کے حوالہ سے اس ایوان کی منظور کردہ قراردادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ ختم نبوت اور ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی حالیہ تحریک کے دوران گرفتار ہونے والے افراد کو بلا تاخیر رہا کیا جائے اور ان کے خلاف مقدمات ختم کیے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں

پی ٹی آئی کی نااہل حکومت کا دور ختم ہونے والا ہے’امیر مقام

صوابی ( محمد شعیب سے) پاکستان مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کے صدر اور سابق …