’کسی کےذاتی ایجنڈے کا ساتھ نہیں دے سکتے‘، اے این پی کا پی ڈی ایم کو الوداع

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی نے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوا یوسف رضا گیلانی کو سپورٹ کرنے پر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی جانب سے شوکاز نوٹس پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اپوزیشن اتحاد سے راہیں جدا کرنے کا اعلان کردیا۔

باچا خان مرکز میں سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین، مرکزی ترجمان زاہد خان، چاروں صوبوں کے صدور اور جنرل سیکرٹریز کے ہمراہ طویل اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ پی ڈی ایم کی جانب سے شوکاز نوٹس کے ذریعے اے این پی کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ شو کاز نوٹس سیاسی جماعتوں کے اندر دیئے جاتے ہیں، پی ڈی ایم ایک سیاسی جماعت نہیں سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہے۔

امیر حیدر خان ہوتی کا کہنا تھا کہ کسی جماعت یا فرد کو اختیار نہیں کہ وہ اے این پی کو شوکاز نوٹس دے، یہ اختیار صرف پارٹی سربراہ اسفند یار ولی کو ہے۔

امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ طویل مشاورت کے بعد اے این پی اس نتیجے پر پہنچی کہ موجودہ صورتحال میں ہم پی ڈی ایم کے ساتھ نہیں چل سکتے۔ مخصوص جماعتیں اے این پی اور پیپلز پارٹی کو دیوار سے لگانا چاہتی ہیں، پی ڈی ایم ہائی جیک ہوچکی ہے،دو جماعتیں مل کر پی ڈی ایم کو ذاتی مفاد کے لئے استعمال کرکے فیصلے کرنا چاہتی ہیں اور اس کو دیگر اپوزیشن جماعتوں پر بھی مسلط کرنا چاہتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ استعفوں کے معاملے میں عوامی نیشنل پارٹی میں کوئی اختلاف نہیں تھا۔ پی ڈی ایم سربراہی اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ لانگ مارچ سے پہلے استعفے دیں گے،استعفوں کے بغیر لانگ مارچ کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔

سابق وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں لیڈر آف اپوزیشن کے لئے پی ڈی ایم میں تلخی پیدا ہوئی، پاکستان پیپلز پارٹی کو مسلم لیگ ن کے امیدوار پر تحفظات تھے۔اس سلسلے میں پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس بلانا چاہیئے تھا اور پیپلز پارٹی کے تحفظات کو دور کرنا چاہیئے تھا، لیکن نہ اجلاس بلایا گیا اور نہ تحفظات دور کئے گئے۔انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دیا ہے اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی سے پیپلزپارٹی کے امیدوار کو ووٹ دینے کے حوالے سے پوچھا جاتا تو اے این پی اپنا موقف سامنے رکھتی۔ لیکن مسلم لیگ ن کی جانب سے شوکاز نوٹس دیا گیا۔

انہو نے مزید کہا کہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کو ووٹ دینے پر اگر اے این پی سے جواب طلبی کی جاتی ہے تو پنجاب میں سینیٹ انتخابات میں مسلم لیگ ن کے پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ق کے ساتھ اتحاد پر بھی جواب طلبی ہونی چاہیئے تھی۔خیبر پختونخوا میں جنرل نشستوں کا فیصلہ ہو چکا تھا مسلم لیگ ن کی جانب سے تیسرا امیدوار لایاگیا، اس پر بھی جواب طلبی اور وضاحت ہونی چاہیئے۔لاڑکانہ کے ضمنی انتخاب میں جمعیت علما اسلام اور پی ٹی آئی کے اتحاد پر بھی جواب طلبی ہونی چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اپوزیشن جماعتوں کے متفقہ میثاق کے نتیجے میں وجود میں آئی تھی اوراے این پی آج بھی متفقہ میثاق اور چارٹر کے اصولوں پر قائم ہے۔ پورے پاکستان میں پی ڈی ایم کے زیر اتمام احتجاجی مظاہرے ہوئے جس میں اے این پی نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا لیکن موجودہ حالات میں جنہوں نے شوکاز نوٹس بھیجا انہوں نے بغیر بتائے پی ڈی ایم کو توڑ دیا۔سلیکٹڈ حکومت کے خلاف عوامی نیشنل پارٹی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

امیرحیدر ہوتی نے کہا کہ ہم طویل مشاورت کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پی ڈی ایم کو شاید کسی اور طرف لے کر جانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اس موقع پر امیر حیدرخان ہوتی نے پی ڈی ایم کے نائب صدر، میاں افتخار حسین نے پی ڈی ایم کے ترجمان اور زاہد خان نے پی ڈی ایم کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری کے عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان بھی کیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے لیے بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) سے ووٹ لینے کے معاملے پر پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے پیپلز پارٹی اور اے این پی کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے تھے جس میں دونوں جماعتوں کو جواب کے لیے 7 دن دیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ترقیاتی فنڈز کی 100 فیصد یوٹیلائزیشن کو یقینی بنایا جائے،وزیراعلیٰ

پشاور(نیوز رپورٹر)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ …