تاریخی مسجد مہابت خان کی بحالی کا کام شروع

پشاور(اے پی پی)محکمہ آثار قدیمہ خیبر پختونخوانے پشاور کی تاریخی مسجد مہابت خان کی بحالی کا کام شروع کردیا ہے۔تفصیلات کے مطابق مغلیہ دور (1660-1670)میں تعمیر ہونے والی مسجد کا نام اس وقت کے مغلیہ گورنر محبت خان سے منسوب ہے، مسجد مہابت خان کا شمار خطے کے قدیم ترین مساجد میں ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی عمارت فن تعمیر کا ایک بہترین نمونہ بھی ہے،عمارت کی تاریخی حیثیت ہونے کے ساتھ مسجد تاریخی معاہدوں اور علاقائی مشاورت کی وجہ سے بھی اہمیت کا حامل ہے۔

مسجد کو قدیم اسلامی اور مغلیہ طرز تعمیر کے اصولی کے مطابق اصلی حالت میں بحالی کی منظوری وزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے دی تھی۔واضح رہے کہ پشاور کی یہ مشہور اور قدیم ترین مسجد 1670 میں کابل کے گورنر مہابت خان نے شاہی مسجد لاہور کی طرز پر تعمیر کروائی اور اسی کے نام سے منسوب ہے ۔اس کا صحن 35میٹر لمبا اور تقریبا 30میٹر چوڑا ہے۔ صحن کے درمیان میں ایک بہت بڑا حوض ہے۔ مسجد کی دیواروں اور گنبدوں کاشی کاری کے علاوہ نقش نگاری اور مرقع نگاری سے مزین کیا گیا ہے۔ مسجد کے 34میٹر بلند و بالا میناروں کے درمیان 6چھوٹے چھوٹے مینار بھی ہیں۔

اس کی چھت پر کل 7گنبد تعمیر کیے گئے ہیں جن میں 3گنبد کافی بڑے ہیں۔مسجد مہابت خان پشاور قلعہ بالا حصار سے 50فٹ کے فاصلے پر اندرون شہر میں واقع ہے اور اس میں داخل ہونے کے لیے دو دروازے ہیںایک آساماہی روڈ پرجبکہ دوسرا اندرون شہرمیں کھلتا ہے۔مسجد مہابت 1660 کو مغلیہ دور میں تعمیر کی گئی۔ مسجد کا نام مغل شہنشاہ اورنگزیب کے دور میں لاہور کے گورنر نواب دادن خان کے پوتے اورمغل گورنر پشاور نواب مہابت خان کے نام پر رکھا گیاہے۔1834 میں پشاور پر سکھوں کے دورِ حکومت میں مسجد مہابت خان پر سکھوں کا قبضہ تھا جنہوں نے مسجد کے میناروں کو پھانسی گھاٹ کے طورپربھی استعمال کیا، جبکہ برطانیہ کے دور حکمومت میں مسجد کو دوبارہ مسلمانوں کی عبادات کے لیے بحال کیاگیا۔

مسجد کی دیواروں پر کیے جانے والے نقش و نگار مغلیہ دور کے فن تعمیر کی عکاسی کرتے ہیں،تین سو سال قبل مغلیہ دورمیں تعمیرکی جانے والی مسلمانوں کی اس عبادت گاہ مسجد مہابت خان کوحکومت نے سن 1982 میں قومی ورثہ قرار دیا اور محکمہ اوقاف کے حوالے کیا، جس نے اس کی تزین و آرائش کے مشکل کام کا بیڑا اٹھایا۔26 اکتوبر 2015کو دوپہر 2بجکر 39منٹ پرکوہ ہندو کش کی جانب سے آنے والا زلزلہ ،جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.5ریکاڈ کی گئی تھی کہ باعث مسجد مہابت خان کے ایک مینار کو شدید نقصان پہنچا۔

یہ بھی پڑھیں

چترال اورشمالی وزیرستان میں زعفران کی کاشت کاکامیاب تجربہ

پشاور(نیوز رپورٹر)گورنرخیبرپختونخواشاہ فرمان کی زیرصدارت زعفران کی کاشت منصوبہ سے متعلق منگل کے روز گورنرہاؤس …