ترقیاتی فنڈز کی 100 فیصد یوٹیلائزیشن کو یقینی بنایا جائے،وزیراعلیٰ

پشاور(نیوز رپورٹر)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں شامل کرنے کیلئے صوبائی حکومت کے تمام مجوزہ منصوبوں کے پی سی ونز ایک ہفتے کے اندر اندر صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی سے منظور کرکے وفاقی حکومت کو ارسال کئے جائیں اور وفاقی سطح پر ان پی سی ونز پر مزید پیشرفت کو یقینی بنانے کیلئے ہر محکمہ ایڈیشنل سیکرٹری کی سطح کا ایک فوکل پرسن مقرر کرے جو اس سلسلے میں پلاننگ ڈویژن کے ساتھ قریبی روابط رکھے اور کسی بھی پی سی ون میں تکنیکی خامیوں اور اعتراضات کو موقع پر ہی دور کرکے اُن کی متعلقہ فورم سے بروقت منظوری کو یقینی بنائے۔

یہ ہدایات انہوں نے وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں پی ایس ڈی پی 2021-22 کے مجوزہ منصوبوں سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔اجلاس کو آئندہ پی ایس ڈی پی میں شامل کرنے کے لیے تجویز کیے گئے منصوبوں پر پیشرفت سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اگلے پی ایس ڈی پی میں شامل کرنے کیلئے صوبائی حکومت کی طرف سے مختلف شعبوں میں کل 36 ترقیاتی منصوبے تجویز کیے جائیں گے جن کا مجموعی تخمینہ لاگت 443 ارب روپے سے زائد ہے۔ مجوزہ منصوبوں میں سے 8 منصوبوں کے پی سی ون صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی سے منظور کر کے وفاقی حکومت کو بھیج دیے گئے ہیں، 13 منصوبوں کے پی سی ون صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی سے منظور ہو چکے ہیں جو بہت جلد وفاق کو بھیج دیے جائیں گے جبکہ 13 منصوبے ایک ہفتے کے اندر صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی سے منظور ہو جائیں گے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے آئندہ اڑھائی سالوں میں غیر معمولی کار کردگی دکھانی ہے جس کے لیے تمام محکموں کو روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر کام کر نا ہوگا اور تمام جاری منصوبوںکی بروقت تکمیل کے لیے غیر معمولی اقدامات اٹھانے ہونگے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ پی ایس ڈی پی کے تحت جاری تمام ترقیاتی منصوبوں پر عملی پیشرفت کی کڑی نگرانی کی جائے تاکہ تمام ترقیاتی فنڈز کی 100 فیصد یوٹیلائزیشن کو یقینی بنایا جا سکے۔ اجلاس کو پی ایس ڈی پی میں شامل کرنے کے لیے تجویز کیے جانے والے منصوبوں کے بارے میں بتایا گیا کہ مواصلات کے شعبے میں کل 4 منصوبے تجویز کیے جائیں گے جن کا تخمینہ لاگت 326 ارب روپے ہے۔ ان منصوبوں میں 360 کلو میٹر طویل پشاور۔

ڈی آئی خان موٹر وے، 30 کلو میٹر دیر موٹر وے، 149 کلو میٹر مستوجـبروغل روڈ کی تعمیر اور صوابی بائی پاس روڈ شامل ہیں۔ آبپاشی کے شعبے میں 15 منصوبے تجویز ہیں جن کاتخمینہ لاگت 21 ارب روپے سے زائد ہے۔زراعت کے شعبے میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 4 منصوبے، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے شعبے میں 10 ارب روپے کے 4، توانائی کے شعبے میں 53 ارب روپے سے زائد رقم کے 3 منصوبے آئندہ پی ایس ڈی پی کے لیے تجویز کیے جائیں گے۔چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں نے اجلاس میں شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں

چترال اورشمالی وزیرستان میں زعفران کی کاشت کاکامیاب تجربہ

پشاور(نیوز رپورٹر)گورنرخیبرپختونخواشاہ فرمان کی زیرصدارت زعفران کی کاشت منصوبہ سے متعلق منگل کے روز گورنرہاؤس …