ضم اضلاع میں نان ٹیکنیکل آسامیوں پر مقامی اُمیدواروں کو ترجیح دی جائے، محمود خان

ریسکیو 1122کے تحت نئے اضلاع کیلئے 1816 نئی آسامیاں تخلیق ،اب تک 1193آسامیوں پر بھرتی کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے، بریفنگ

پشاور(نیوز رپورٹر)ریسکیو 1122کے تحت ضم شدہ اضلاع میں مختلف نوعیت کی 1816 نئی آسامیاں تخلیق کی گئیں ہیں جن میں سے اب تک 1193آسامیوں پر بھرتی کا عمل بھی مکمل کیا جا چکا ہے جبکہ باقی ماندہ آسامیوں پر بھرتی کے لئے تحریری امتحانات کا شیڈول جاری کردیا گیا اور اگلے چند ہفتوں کے اندر محکمانہ بھرتی کا عمل مکمل کر لیا جائیگا۔ ان نئی آسامیوں میں گریڈ ایک سے لیکر گریڈ 18 تک کی مختلف آسامیاں شامل ہیں۔

یہ بات وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت تیز رفتار ترقیاتی پروگرام کے تحت ضم شدہ قبائلی اضلاع میںمحکمہ ریلیف کے ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے منعقد ہ ایک اجلاس میں بتائی گئی۔ محکمے کے تحت ضم شدہ اضلاع کے لئے تخلیق کردہ نئی آسامیوں کی تفصیلات پر بریفنگ دیتے ہوئے اجلاس کو بتایا گیا کہ ان آسامیوں میں گریڈ اٹھارہ کی سات، گریڈ سترہ کی تیرہ، گریڈ سولہ کی 222، گریڈ چودہ کی چھبیس، گریڈ بارہ کی 476، گریڈ گیارہ کی 140، گریڈ چھ کی 508، گریڈ پانچ کی 20، گریڈ دو کی 26اور گریڈ ایک کی 160آسامیاں شامل ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ قبائلی اضلاع کے لئے نئے بھرتی کئے گئے ریسکیو اہلکاروں کی تربیت کا عمل اگلے دو دنوں کے اندر شروع کیا جائیگا۔ ضم شدہ اضلاع میں ریسکیو 1122 اسٹیشنز کے قیام پر پیش رفت کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ ان اضلاع میں تحصیل کی سطح پر ریسکیو 1122کے اسٹیشنزقائم کرنے کے لئے 2450 ملین روپے لاگت ایک منصوبے کے تحت قبائلی اضلاع کے پندرہ تحصیلوں میں ریسکیو اسٹیشنز کے قیام پر کام جاری ہے۔

تحصیل جمرود، باڑہ، غلنئی اورخار میں ریسکیو سروسز کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، تحصیل کلایا، یکہ غنڈ، نواگئی، میران شاہ، رزمک، وانا، لدھا اور سدھا میں ریسکیو اسٹیشنز پر تعمیراتی کام کا آغاز کردیا گیا ہے جبکہ لنڈی کوتل ، غلجواور پاڑہ چنار میں ریسکیو اسٹیشنز کی عمارت کے لئے زمین کی خریداری کا عمل جاری ہے۔ شمالی وزیرستان میں تباہ شدہ کاروبار کے لئے معاوضے کی رقم کی ادائیگی کے بارے میں بتایا گیا کہ اس مد میں اب تک 6765 ملین روپے کی رقم جاری کی جاچکی ہے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ ان ترقیاتی منصوبوں کے لئے زمین کی خریداری کے عمل کو اب تیز کیا جائے تاکہ ان منصوبوں پر بلا تاخیر عملی کام کا آغاز کیا جاسکے۔ وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ ضم شدہ اضلاع کیلئے منظور کر دہ نان ٹیکنکل آسامیوں پر بھرتی کیلئے مقامی اُمیدواروں کو ترجیح دی جائے ۔

دریں اثناء وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ضلع کوہاٹ میں ڈھوک حسین گیس فیلڈ کو سوئی ناردرن گیس پائپ لائن سے منسلک کر دیا گیا ہے، اس سلسلے میں مذکورہ گیس فیلڈسے ایس این جی پی ایل مین سپلائی لائن تک چودہ کلومیٹر پائپ لائن بچھانے کا کام مکمل کر لیا گیا ہے اوراس گیس فیلڈ سے ایس این جی پی ایل کو روزانہ کی بنیادوں پر 12 ملین کیوبک فیٹ گیس کی فراہمی شروع ہو گئی ہے۔

وزیراعلیٰ نے اس منصوبے کی تکمیل کو نہ صرف علاقے بلکہ صوبے اور پورے ملک کے لئے انتہائی خوش آئند اور اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے صوبائی حکومت کو رائیلٹی کی مد میں سالا نہ 800 ملین روپے ملیں گے، پیداواری بونس کی مد میں صوبائی حکومت کو 100 ملین روپے جبکہ خیبرپختونخوا آئل اینڈ گیس کمپنی کو 150 ملین روپے سالانہ ملیں گے اور مجموعی طور پر صوبائی حکومت کو ایک ارب روپے سے زائد کی آمدن ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں

ملگری لیکوالان کی آرگنائزنگ کمیٹی کا پہلا اجلاس،آئین و منشور کیلئے کمیٹی تشکیل

صدارت خادم حسین نے کی ،کمیٹی میں حیات روغانی، روخان یوسفزے، بیدار اصلزے اور طارق …