عمران خان کی قیادت میں حکومت اپنی میعاد پوری کریگی،محمود خان

صوابی(این این آئی)وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے واضح کر دیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت وفاق اور صوبوں میں نہ صرف اپنی معیاد پوری کریگی بلکہ 2023کے عام انتخابات میں ملک کے عوام ایک بار پھر پی ٹی آئی کو بھاری مینڈیٹ دے کر اس کے نتیجے میں عمران خان دوسری بار ملک کا وزیر اعظم بنیں گے۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے شاہ منصور میڈیکل کمپلیکس میں 160بستروں پر مشتمل نو تعمیر شدہ وارڈ، نرسنگ ، پیرا میڈیکل انسٹیٹیوٹ اور بعد ازاں صوبائی وزیر تعلیم شہرام خان ترکئی کے حجرہ ترکئی ہائوس میں صحت انصاف کارڈ پلس کے افتتاح کے موقع پر بڑی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔ جس سے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے علاوہ صوبائی وزیر صحت و فنانس تیمور جھگڑا ، صوبائی وزیر تعلیم شہرام خان ترکئی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

وزیر اعلی محمودخان نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں اپوزیشن کا حساب آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔ احتجاجی جلسوں میں عوام کو ورغلانے کے لئے اپوزیشن رہنماء ویسے چیخ رہے ہیں کیونکہ ملک کے عوام آئندہ انتخابات میں دوبارہ پی ٹی آئی کے حق میں بھاری اکثریت سے اپنا فیصلہ دینگے ۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے وژن اور وعدے کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے ہر فرد کو صحت انصاف کارڈ ان کے شناختی کارڈ کی شکل میں میسر ہو گیا ہے۔ اس کارڈ سے چارسدہ کے اے این پی سے تعلق رکھنے والے سید معصوم شاہ کے علاوہ جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمان اور مسلم لیگ کے صدر امیر مقام بھی محروم نہیں رہیں گے جبکہ امیر مقام کو ڈبل کارڈ جاری کیا جائیگا کیونکہ ان کا علاج ایک کارڈ سے ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جہاں بھی کے پی کے کا باشندہ مقیم ہو گا ان کو صحت کارڈ پلس کی سہولت کے مطابق دس لاکھ روپے تک مفت علاج اور آپریشن کی سہولت میسر ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ اسلام کا لبادہ اوڑھنے والوں نے اپنے دور حکومت میں اسلام کے لئے کوئی بھی عملی کام نہیں کیا تھا جب کہ ہماری حکومت نے اقتدار میں آکر مساجد کے آئمہ کرام اور علماء کے لئے ماہانہ دس ہزار روپے تنخواہ مقرر کی اور یکم جولائی سے ہر مسجد کے پیش امام کو ماہانہ دس ہزار روپے اعزازیہ حکومت کی جانب سے ملنا شروع ہو جائیگا۔مسجدوں میں فیصلے کرنے والوں نے اسلام کے نام پر لوگوں سے ووٹ لے کر کچھ بھی نہیں کیا بلکہ اپنے دور حکومت میں جیبیں بھر کر پراپرٹی اور جائیدادیں بنائی اور جب اسی قیادت کو نیب طلب کر تی ہے تو وہ پیش ہونے سے جان چھڑاتے ہیں حالانکہ میں بحیثیت صوبائی وزیر اعلی اپنے آپ کو نیب کے سامنے پیش کر تاہوں تو پھر آپ کیوں پیش نہیں ہو تے ۔

انہوں نے کہا کہ صحت انصاف کارڈ پلس کے حوالے سے صوبے کو چار زونز میں تقسیم کیا گیا ہے یکم جولائی سے زون تھری پر کام شروع ہو چکا ہے اور اکتیس جنوری تک پورے خیبر پختونخوا میں یہ عمل مکمل ہو جائیگا ہم نے نئے ضم شدہ اضلا ع کو بھی دس لاکھ روپے تک صحت انصاف کارڈ کے پروگرام میں شامل کیا ہے کیونکہ وہاں کے لوگ بھی ہمارے بھائی اور اس صوبے کا حصہ ہے۔

وزیر اعلیٰ محمود خان نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت پر یہودیت کا الزام لگانے والے خود اپنا ایمان کھو چکے ہیں ۔ وزیر اعظم نے تبدیلی کا جو نعرہ کیا تھا وہ عملاً موجودہ دور میں پورا ہو جائیگا انہوں نے کہا کہ ان کے دور حکومت میں کسی اضلاع کو تر قیاتی کاموں کے حوالے سے نظر انداز نہیں کیا جائیگا جتنا فنڈ ان کے آبائی ضلع سوا ت کو ملے گا اتنا ہی صوابی ، ڈی آئی اور پشاور کو ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی حکومتوں نے ترقیاتی منصوبوں پر اپنے باپ دادا کی تختیاں لگائی ہے اگر یہ منصوبے انہوں نے اپنے جیبوں سے منظور کرائے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ ان منصوبوں پر قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کے ناموں کی تختیاں لگانی چاہئے تھی جنہوں نے قر بانیاں دے کر اس ملک کو بنایا ہے ۔انہوں نے کہا کہ عوام کو فوڈ سیکیورٹی میں تھریڈ ہے ہماری حکومت نے فوڈ سکیورٹی کا اعلان کرئے گی جس کے نتیجے میں صوبہ گندم اور دیگر اجناس میں خود کفیل ہو جائیگا اس منصوبے کے تحت لاکھوں ایکڑ اراضی کو پانی مل کر سیراب ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے وعدوں کا مذاق اُڑانے والے اپوزیشن کہہ رہی تھی کہ عمران حکومت نے پچاس لاکھ مفت گھر اور ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ پورا نہیں کیا لیکن ہماری حکومت نے رشکئی اکنامک زون سمیت ہری پور خطار ، ڈیرہ اسماعیل خان ، سوات اور دیگر اضلاع میں مختلف زونز قائم کر رہی ہے جس کے نتیجے میں لاکھوں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر ہو نگے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے عہدہ ملنے پر تین منصوبے رشکئی اکنامک زون، بی آر ٹی اور سوات ایکسپریس وے ملے تھے جو اب مکمل ہو چکے ہیں ہماری خواہش ہے کہ صوبے میں مکمل ہونے والے بڑے بڑے میگا پراجیکٹ کی افتتاح کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے مجھے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ جب آ پ صبح اُٹھتے ہیں تو صوبے کے عام اور غریب عوام کے لئے سوچا کریں اسی حوالے سے میں نے صحت کی سہولت کے حوالے سے جو کہ ایک مہنگا علاج بھی ہے اور مہنگائی بھی ہے کا سوچا اوراس پر عملی تجربہ بھی کیا سابق وزیر شہرام خان ترکئی اور بعد ازاں موجودہ وزیر صحت تیمور جھگڑا نے اس پر عملی کام کیا۔

انہوں نے کہا کہ پشاور ، ڈی آئی خان ایکسپریس وے کے علاوہ تورخم تک موٹر وے بن رہی ہے وسطی ایشیاء سے موٹر وے تک لنک جانے سے تجارت کو فروغ ملے گاجب کہ خیبر ، تورخم روڈ چوبیس گھنٹے کھلا رہتا ہے ۔ ہزارہ موٹر وے مکمل ہو چکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان سے کسی نے پوچھا کہ 2021کے لئے آپ کی پالیسی کیا ہو گی جس پر انہوں نے جواب دیا اس سال کسی کو بھوکا سونے نہیں دونگا۔جب کہ ہر فرد کو صحت کی سہولیات سے آراستہ کرونگا۔

محمود خان نے کہا کہ عمران خان ہر وقت پاکستان کے مستقبل ، ترقی اور خوشحالی اور معاشرے کے ہر فرد کی بہتری کے لئے سوچ رہے ہیں انہوں نے کہا کہ باچا خان میڈیکل کمپلیکس کے لئے بیس کروڑ روپے دینے کا اعلان کر تے ہوئے کہا کہ صحت کے حوالے سے پی ٹی آئی کی حکومت نے عملی ، انقلابی کام کئے۔ جس کے تحت ہر غریب مریض کو صحت کے مفت اور جدید سہولیات میسر ہو نگے غربت کا خاتمہ وزیر اعظم عمران خان کا وژن ہے کرونا میں سب سے بہتر کر دار خیبر پختونخوا کی حکومت نے ادا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فاٹا سٹوڈنٹس فیڈریشن کی 3دن بعد پشاور میں دھرنا دینے کی دھمکی

مطالبات منظور نہ ہوئے تو دھرنے سمیت عدالت سے بھی رجوع کردیں گے، مرکزی صدر …