جنوبی وزیرستان میں جاری منصوبوں کیلئے مقررہ ٹائم لائن پرعملدرآمد کی ہدایت

ترقیاتی سکیموں کی نشاندہی، ڈیزائننگ، نفاذ اور نگرانی کا مجموعی عمل شفاف و مؤثر ہونا چاہیئے، انضمام کے ثمرات عوام کو ملنے چاہئیں، محمود خان

پشاور(نیوز رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوامحمود خان نے صوبائی محکموں کے سربراہان اور اعلیٰ حکام کو ہدایت کی ہے کہ جنوبی وزیرستان میں جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کیلئے مقررہ ٹائم لائن پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنوبی وزیر ستان کیلئے ترقیاتی سکیموں کی نشاندہی ، ڈیزائننگ ، نفاذ اور نگرانی کا مجموعی عمل شفاف اور مؤثر ہونا چاہیئے اور انضمام کے ثمرات عوام کو ملنے چاہئیں۔

وزیراعلیٰ نے خصوصی طور پر جنوبی وزیرستان کے شعبہ تعلیم ، صحت اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کا تفصیلی پلان وضع کرنے ، نقصانات کے ازالہ کے لئے شہریوں میں معاوضے کی تقسیم کا پہلے سے جاری عمل جلد مکمل کرنے اور ضلع میں انتظامی مسائل کے وقتی طور پر حل کیلئے نئی قائم کی گئی تحصیلوںکا سیٹ اپ قائم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

انہوں نے مسائل کے کل وقتی حل کے طور پر جنوبی وزیرستان میں ہیڈ کوارٹر کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور اس مقصد کے لئے کمشنر اور دیگر اعلیٰ حکام پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو مقامی قبائل کے ساتھ مشاورت کے بعد حتمی سفارشات پیش کرے گی۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں امن عامہ ، حکمرانی کے نظام اور ترقیاتی عمل کے حوالے سے ٹاسک فورس کے اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔

صوبائی وزراء تیمور سلیم جھگڑا، شہرام ترکئی، شوکت یوسفزئی،وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی کامران بنگش، چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز،ایڈیشنل چیف سیکرٹری شکیل قادر،پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ شہاب علی شاہ، کمانڈر ہیڈ کوارٹر11کور، انسپکٹر جنرلز پولیس اور فرنٹیئر کور کے علاوہ دیگر عسکری و سول حکام اور متعلقہ محکموں کے نمائندوں نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو جنوبی وزیرستان میں امن عامہ کی صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اب صورتحال کافی بہتر ہے اورمزید بہتری کی طرف جارہی ہے۔

انگور اڈہ بارڈر فعال بنایا جا چکا ہے ۔اجلاس کو آگاہ کیاگیا کہ 836.1کلومیٹر طویل بارڈر ایریا میں سے 739.6کلومیٹر بارڈر کی فینسنگ کی جا چکی ہے۔ محمود خان نے باقی ماندہ بارڈر کی فینسنگ کے لئے بھی متعلقہ حکام سے تجاویز طلب کیں۔اجلاس کو آگاہ کیا گیاکہ جنوبی وزیرستان میں پولیس سٹیشنز ، پولیس چیک پوسٹس، سپیشل برانچ اور سی ٹی ڈی کی بلڈنگز کے لئے پی ڈی ڈبلیو پی کی طرف سے ایک امبریلا سکیم منظور کی گئی ہے جس کی لاگت 1.01ارب روپے ہے۔ وزیراعلیٰ نے مذکورہ عمارتوں کی تعمیر کے لئے زمین کا مسئلہ جلد حل کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ تقریباً چا ر ہزار پولیس اہلکار، لیویز اور خاصہ دار کی تربیت کا پلان بنایا گیا ہے ، جن میں سے 900لیویز اور خاصہ دار کی تربیت کا عمل جاری ہے۔ اس کے علاوہ لیویز اور خاصہ دار کی خالی آسامیوں پر بھرتی کا عمل بھی جاری ہے۔ اجلاس کو جنوبی وزیرستان کی معاشی اور پیداواری استعداد سے بھی آگاہ کیا گیااور بتایا گیا کہ ضلع میں سیاحت ، معدنیات، فارمنگ، آبی ذخائر، لائیو سٹاک اور افغانستان کے ساتھ تجارت کی استعداد موجود ہے۔ شہریوں کے نقصانات کے ازالے کے لئے معاوضے کی ادائیگی کے پروگرام کے تحت 40ہزار سے زائدچیک تقسیم کئے جا چکے ہیں جبکہ 36ہزارمزید چیکس تقسیم کئے جائیں گے۔

وزیراعلیٰ نے معاوضوں کی تقسیم کا عمل تیز رفتاری سے مکمل کرنے اور اس مقصد کے لئے ٹائم لائن وضع کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے جنوبی وزیرستان میں جوڈیشری کے لئے انتظامات کے حوالے سے ایک قابل عمل پلان پیش کرنے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ اس مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے جنوبی وزیرستان میں لوگوں کو روزگار کے مواقع دینے کے لئے شعبہ معدنیات اور سیاحت پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ضلع میں مقامی سیاحت کے فروغ کے لئے متعلقہ سائٹس کا دورہ کریں اور قابل عمل تجاویز پیش کریں۔

انہوں نے جنوبی اضلاع کے سیاحتی مقامات تک رسائی کے لئے سڑکوں کی تعمیر کے منصوبے کو سیاحت کے فروغ کے حوالے سے مجموعی پلان میں ڈالنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے جنوبی وزیرستان میں جنگلات کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے جنگلات کی درجہ بندی کا عمل جلد مکمل کرنے اور جنگلات کے تحفظ کے لئے اقدامات کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو اس بات پر آمادہ کرنا ہوگا کہ جنگلات ان کے محفوظ مستقبل کے ضامن ہے، جن کا تحفظ سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

وزیراعلیٰ نے ایگریکلچر پارک وانا کی ترقی کے لئے ایک ماہ کے اندر قابل عمل ماڈل پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ 45انجینئرنگ ڈویژن کے تحت جنوبی وزیرستان کے تعلیم ، صحت ، واٹر سپلائی اور سڑکوں کے شعبوں میں 33منصوبے مکمل کئے گئے ہیں جبکہ صحت اور روڈ کے شعبوں میں پانچ نئے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع کی ترقیاتی منصوبہ بندی کے تحت جنوبی وزیرستان کے لئے 49.2ارب روپے رکھے گئے تھے، جن کا بڑھا حصہ خرچ کیا جاچکا ہے۔ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں جنوبی وزیرستان کو سب سے زیادہ حصہ دیا گیا ہے ۔

جنوبی وزیرستان کیلئے موجودہ ترقیاتی پروگرام میں 121 سکیمیں شامل ہیں جن میں سڑکوں ، صحت ، تعلیم اور آبنوشی وغیر ہ کے شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔ اجلاس کو آگاہ کیاگیا کہ جنوبی وزیرستان میں سکولوں کی اپگریڈیشن اور نئے سکولوں کے قیام کے لئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں متعدد منصوبے شامل ہیں جن کی مجموعی لاگت 2619 ملین روپے ہے۔ پلان میں 27نئے سکولوں کا قیام ، 11 سکولوں کی تعمیر نو اور 89سکولوں کی اپگریڈیشن شامل ہے۔

وزیراعلیٰ نے جنوبی وزیرستان میں شعبہ تعلیم کے لئے تفصیلی پلان 15دنوں کے اندر پیش کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ ضم اضلاع میں تعلیم کا فروغ ترجیح ہونا چاہئیے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی پلان میں ترجیحات کا تعین کیا جائے ۔ پہلے مرحلے میں موجودہ سکولوں میں ناپید سہولیات فراہم کی جائیں ، دوسرے مرحلے میں غیر فعال سکولوں کو فعال بنایا جائے اور پھر ضرورت کے تحت نئے سکولوں کے قیام پر کا م کیا جائے۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ جنوبی وزیرستان میں لوکل گورنمنٹ کا باضابطہ سٹرکچر قائم کیا گیا ہے ۔ ضلع میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کا دفتر فعال ہے جبکہ ٹی ایم ایز کو فعال بنانے کا عمل شروع ہے۔ ویلج کونسل اور نیبر ہوڈ کونسل کی خالی آسامیوں پر بھرتی کی جارہی ہے۔ محکمہ مواصلات و تعمیرات کی طرف سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ جنوبی وزیرستان کے لئے رواں ترقیاتی پروگرام میں سڑکوںکی تعمیر کے لئے 45سکیمیں شامل ہیں جن میں سے 35پر کام شروع ہے ۔ سڑکوں کی 8سکیمیں تکمیل کے مراحل میںہیں جن پر کام کی پیش رفت 80سے 95فیصد ہے۔

وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا گیا کہ جنوبی وزیرستان کے شعبہ آبنوشی میں تمام سکیموں پر پیش رفت جاری ہے ۔ وزیراعلیٰ نے شعبہ آبنوشی کے لئے ماسٹر پلان وضع کرنے جبکہ منصوبوں کی ڈیزائننگ اور نگرانی کے لئے اچھی استعداد کا حامل کنسلٹنٹ ہائیر کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے تمام ضم اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر نگرانی کے طریقہ کار کے حوالے سے ایک علیحدہ سے اجلاس طلب کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کورونا وبا کی وجہ سے ترقیاتی عمل متاثرہوا تاہم اب حالات بہتری کی طرف جارہے ہیں اور ترقیاتی سرگرمیاں پھر سے بحال کی گئی ہیں۔ انہوںنے کہا کہ مکمل شدہ منصوبوں کا افتتاح یقینی بنایا جائے اور قبائلی عوام کے ساتھ مشاورتی نظام بھی دوبارہ شروع کیا جائے۔

محمود خان نے کہا کہ صوبائی وزراء ضم اضلاع میں جائیں ، مقامی لوگوں سے ملیں اور ان کے مسائل کا جائزہ لیں۔ ترقیاتی عمل کی مسلسل نگرانی یقینی بنائی جائے تاکہ مقررہ ٹائم لائن کے اندر منصوبے مکمل کئے جاسکیں۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ حکومت کی مجموعی کاوشوں کا حتمی مقصد قبائلی عوام کی توقعات اور خواہشات کے مطابق ان کے مسائل حل کرنا اور قبائلی علاقوں کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

پی ڈی ایم کا ہر جلسہ دوسرے جلسے کا ریکارڈ توڑے گا، مولانا فضل الرحمن

حکومت نے پی ڈی ایم میں پھوٹ ڈالنے کی کو شش کی،مسلمان نہیں مغربی دنیا …

%d bloggers like this: