خیبرپختونخوا اپوزيشن نے سينيٹ کی 2نشستوں کی پيشکش مسترد کردی

پشاور: خیبرپختونخوا میں متحدہ اپوزیشن نے بلامقابلہ سینیٹرز منختب کرنے کیلئے صوبائی حکومت کی جانب سے 12 میں سے دو نشستیں لینے کی پیشکش مسترد کردی۔

عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر و ڈپٹی اپوزیشن لیڈر سردار حسین بابک نے کہ میں حکومت سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ 45، 46 اپوزیشن ممبران کو 2 نشستیں دے رہے ہیں۔ کیا وہ صحیح پیشکش کر رہے ہیں؟ انہوں نے جو پیشکش کی اسے مسترد کرنا ہی تھا۔

دوسری جانب صوبائی معاون خصوصی اطلاعات کامران بنگش نے کہا کہ جو نمبر ہیں اس کے مطابق ہم نے اپنے امیدوار کھڑے کیے، اپوزیشن نے زیادہ کھڑے کیے ہیں۔ اس پر بھی خیال رکھنا چاہیے کہ کل اگر نقصان ہوا کسی بھی طرف سے تو یہ جمہوریت کے لیے نیگ شگون نہیں ہوگا۔

تین مارچ کو ہونے والے سینیٹ انتخابات میں خیبر پختونخوا کے 12نشتوں میں 7 کو عام نشستوں پر ، 2 نشستوں پر خواتین، 2 نشستوں پر ٹیکنوکریٹس کو چُنا جائے گا جبکہ ایک اقلیتی نشست پر الیکشن کا انعقاد ہوگا۔
اس الیکشن میں 145 اراکین اسمبلی اپنا حق رائے دہی استعمال کریں خیبر پختونخوا اسمبلی کی پارٹی پوزیشن کا جائزہ لیاجائے تو تحریک انصاف 94 نشستوں کیساتھ سر فہرست ہے ۔

خیبر پختونخوا اسمبلی میں حکمران اتحاد کو 99 اور اپوزیشن اتحاد کو 43 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ ایوان میں موجود 3 آزاد اراکین کی حمایت اپوزیشن حاصل بھی کرلے تو 2 سے زیادہ سینیٹر نہیں بنا سکتی۔

اگر سات جنرل نشستوں کی بات کی جائے تو 21 ایم پی ایز کے ووٹ ایک سینیٹر منتخب کرسکیں گے۔ووٹوں کے اعدادوشمار کے مطابق تحریک انصاف ممکنہ طور پر پانچ نشستیں اپنے نام کرے گی۔ اپوزیشن کی کل ملاکر 46 نشستیں بنتی ہیں لیکن اگر فرض کریں آزاد بھی اپوزیشن کے ساتھ نہیں جاتی تو پھر بھی پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی ممبران کی تعداد 43 بنتی ہے جو دو جنرل نشستیں اپنے نام کرنے کیلئے کافی ہیں ۔جس میں ایک عوامی نیشنل پارٹی اور ایک جمعیت علماء اسلام ف کو ملی گی۔ جبکہ پانچ پی ٹی آئی کے حصے میں آجائیگی۔

اسی طرح دو خواتین اور ٹیکنوکریٹ نشستوں کی بات کی جائے تو ایک سینیٹر کو اسمبلی کے 73 ووٹوں کی ضرورت ہے جو بظاہراپوزیشن کل ملا کر بھی کوئی نشست حاصل نہیں کرسکے گا کیونکہ تحریک انصاف کے پاس 94 ووٹ ہیں جبکہ اتحادی باپ کے 4 اور مسلم لیگ ق کے ایک ملا کر یہ تعداد 99 بن جاتی ہے یوں حکومتی جماعت تحریک انصاف کی ممکنہ پالیسی ہوگی کہ کل 99 ووٹوں کو دونوں نشستوں میں تقسیم کرے اور 49 ووٹ فی نشست کے حساب سے دونوں نشستوں کو اپنے نام کرلے گی۔

بظاہر تو اپوزیشن کل ملا کر بھی کوئی نشست حاصل نہیں کرسکے گا لیکن اپوزیشن کیلئے ٹیکنوکریٹ اور خواتین کے ایک ایک نشست حاصل کرنے کیلئے ممکنہ صوتحال یہ ہوگی کہ اپوزیشن بنچوں پر براجمان تین آزاد اراکین اپوزیشن کے ساتھ آجائیں اور ساتھ ہی حکومت کے4 ایم پی ایز کو اپنی طرف راغب کرے جس کے بعد اس کی مجموعی تعداد 50 ہوجائے گی جس کے بعد خواتین اور ٹیکنوکریٹ کی ایک نشست اپوزیشن حاصل کرسکے گی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل صوبہ پنجاب میں تمام سینیٹرز بلامقابلہ منتخب ہوچکے ہیں جس کے بعد اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ اگر پنجاب میں تمام سینیٹرز بلامقابلہ منتخب ہوسکتے ہیں تو خیبرپختونخوا میں کیوں نہیں ہوسکتے؟ ہمارے صوبے کو بھی مثال بننے کیلئے پی ڈی ایم، پی ٹی آئی اور دیگر سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر بلامقابلہ انتخاب یقینی بنانے کیلئے سنجیدگی ظاہر کرنی چاہئیے۔

یہ بھی پڑھیں

ترقیاتی فنڈز کی 100 فیصد یوٹیلائزیشن کو یقینی بنایا جائے،وزیراعلیٰ

پشاور(نیوز رپورٹر)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ …