پشاور کے 868 سرکاری اسکولوں میں سہولیات کا فقدان

پشاور:خیبر پختونخوا کے  دارالحکومت پشاور کے 868 اسکولوں میں سہولیات کے فقدان کا انکشاف ہوا ہے۔

یہ انکشاف انڈپینڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کی رپورٹ میں کیا گیا ہے جس میں”تعلیمی ایمرجنسی“ کا نعرہ لگانے والی تحریک انصاف کی حکومت کا بھانڈا پھوٹ گیا ہے۔

انڈپینڈنت مانیٹرنگ یونٹ کی رپورٹ کے مطابق پشاور میں 868 اسکولوں کا سروے کیا گیا جن میں پانی کی

کمی، بجلی اور ٹائیلٹس سمیت  مختلف سہولیات کا فقدان پایا گیا جبکہ 277 اسکولوں کی بحالی کے لیے منصوبہ منظور کر لیا گیا ہے۔

انڈپینڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ نے اسکولوں میں سہولیات کے فقدان سے متعلق سروے خیبرپختونخوا حکومت کوارسال کر دی۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلہ میں 277 اسکولوں کی حالت زار بہتر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں صفائی، پینے کے صاف پانی، واش رومز کی کمی اورعمارت کے خستہ حالی کی نشاندہی کی گئی ہے۔

سروے کیے گئے اسکولوں میں سے 302 اسکول ٹاؤن ٹو پشاور، 283 اسکول ٹاؤن فور، 176 اسکول ٹاؤن تھری اور 107 اسکولز ٹاؤن میں موجود ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 43 لڑکیوں اور 234 لڑکوں کے اسکول بحالی منصوبے میں شامل ہیں اور ایک ارب روپے کا یہ منصوبہ رواں مالی سال میں ہی شروع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اسکولوں میں سہولیات سے متعلق یہ منصوبہ 2023 تک مکمل کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں

ملاکنڈ ڈویژن میں لینڈ سیٹلمنٹ سے متعلق پیچیدگیوں کے خاتمے کیلئے کمیشن قائم

محکمہ آبنوشی مختلف اداروں کی طرف سے بنائے گئے غیر فعال ٹیوب ویلز کو تحویل …