پچھلے 40 سال سے پختونوں کا خون ناحق بہہ رہا ہے، غلام بلور

پشاور(وقائع نگار)عوامی نیشنل پارٹی کے بزرگ رہنما اور سابق وفاقی وزیرحاجی غلام احمدبلور نے کہا ہے کہ کوہاٹ میں شانگلہ کے غریب کان کنوں کے خون کا حساب کون دے گا؟ کیا کوئی وضاحت کرے گا کہ سولہ غریب پختون مزدورکاروں کا قتل کس نے کیا اور کیوں کیا؟ یہ ایک معمہ ہے جو اس ملک میں نا پہلے حل ہوا اور نا اب حل ہوسکے گا۔

کوہاٹ میں شانگلہ کے کان کنوں کے دلخراش قتل کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئیانہوں نے کہا کہ پچھلے چالیس سال سے پختونوں کا خون ناحق بہہ رہا ہے۔ چالیس سال قبل ملک میں دہشت گردی کا نام ونشان تک نہیں تھا لیکن اسٹیبلشمنٹ کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے اس خطے پر پرائی جنگ مسلط کی گئی۔ بیرونی قوتوں کی ایما پر ایسی دہشتگرد تنظیمیں بنائی گئی جس کوملک کے اندراور باہر استعمال کیاگیا۔

اس پرائی جنگ میں کھودنیاور دہشتگرد تنظیموں کے نتیجے میں ہزاروں کی تعداد میں پختونوں کا قتل عام کیا گیا۔ پاکستان کے اندر اس کو کولیٹرل ڈیمج اورباہر نام نہاد جہاد کانام دیاگیا۔ ان تنظیموں کی آڑمیں کراچی میں پاکستانیوں کوپاکستانیوں کے ہاتھوں مروایا گیا۔ شیعہ سنی فسادات کروائے گئے اورہر گھر سے جنازے نکلے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں جاری دہشتگردی اورانتہا پسندی مقتدر قوتوں کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ اگراسٹیبلشمنٹ اپنے کام سے کام رکھتی اورسیاست میں مداخلت سے گریز کرتی تو ہمیں اتنا جانی اور مالی نقصان نہیں اٹھانا پڑتا۔ان 16شہیدوں کا خون ان لوگوں کے ہاتھوں پرہے جو اس سارے کھیل میں ملوث رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلی خیبر پختونخوا نے شہید ہونے والوں کے لواحقین کے لئے دس لاکھ فی کس دینے کا اعلان کیا ہے۔ پیسے ان کے زخموں کا مداوا نہیں کرسکتے لیکن حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس رقم میں پانچ گناہ اضافہ کیا جائے کہ ان کے اہل خانہ کی احساس محرومی میں کمی کی جاسکے اور ان کے بچوں کے مستقبل کو تاریک ہونے سے بچایا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں

چترال اورشمالی وزیرستان میں زعفران کی کاشت کاکامیاب تجربہ

پشاور(نیوز رپورٹر)گورنرخیبرپختونخواشاہ فرمان کی زیرصدارت زعفران کی کاشت منصوبہ سے متعلق منگل کے روز گورنرہاؤس …