پختونوں کا قتل عام روکنا ہوگا، ریاست اپنی ذمہ داری نبھائے،ایمل ولی

پشاور(سٹاف رپورٹر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری ریاست کی ہوتی ہے بدقسمتی سے پختونوں کے معاملے میں ریاست اپنی یہ ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔دیگر بنیادی اور انسانی حقوق کے ساتھ پختونوں سے جینے کا حق بھی چھینا جارہا ہے۔

اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھا اٹھا کر تھک چکے ہیں مزید اس سلسلے کو روکا جائے۔ کوہاٹ میں شانگلہ سے تعلق رکھنے والے 16لاپتہ کان کنوں کی اجتماعی قبرسے لاشیں ملنے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ سانحہ جانی خیل کے زخم ابھی مندمل نہیں ہوئے تھے کہ پختونوں کو مزید لاشوں کا تحفہ دیا گیا۔ وضاحت کی جائے کہ کون ہیں یہ لوگ جو عوام کو دن دیہاڑے لاپتہ کردیتے ہیں اور پھر ان کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں۔وضاحت کی جائے کہ کیا یہ لوگ اتنے طاقتور ہیں کہ ریاست بھی ان کو لگام ڈالنے میں ناکام ہے؟، ریاست کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی اور پختونوں کے قتل عام کو روکنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پختون اس ملک کے وہ بدقسمت باشندے ہیں جو دس سال پہلے غائب ہوتے ہیں،پھر دس سال بعد ان کی لاشیں ملتی ہیں۔ کیا دنیا میں کسی نے ایسا ظلم ہوتے ہوئے دیکھا ہے؟ایک اسلامی جمہوری ریاست کے شہریوں کا دن دیہاڑے اغوا ہونااور پھر دس سال بعد ان کی لاشیں ملنا ،کیا کسی اور ریاست میں اس طرح ہوسکتا ہے؟

ایمل ولی خان نے کہا کہ ان مزدور شہدا کے ماں باپ بیوی بچوں پر ان دس سالوں کے دوران کیا گزری ہوگی؟کیا شہدا پیکیج اس مسئلے کا حل ہے؟ ان مزدوروں کے یتیم ہونے والے بچے کل بڑے ہوکر کیا بنیں گے۔ایمل ولی خان نے کہا کہ جس مقتول کا قاتل معلوم نہ ہو اس کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ یہ سانحہ اور غم صرف شانگلہ کے عوام اور متاثرہ خاندانوں کا نہیں پورے پختونخوا کے غم ہے۔

اے این پی دکھ کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اورمتاثرہ خاندانوں کے فیصلے پر لبیک کہتے ہوئے اس ظلم و بربریت کے خلاف ہر فارم پر آواز اٹھائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں

سلیم راز کی وفات سے پیدا ہونے والا خلاء کبھی پر نہیں ہوسگے گا، سردار حسین بابک

چارسدہ: عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے جنرل سیکرٹری و ڈپٹی اپوزیشن لیڈر سردا ر …