ٹاسک فورس اجلاس، باجوڑمہمند سرحدی تنازعہ کے حل کیلئے جرگہ تشکیل دینے کا فیصلہ

سرکاری دفاترکے قیام پر پیشرفت یقینی، درکار اراضی کی ڈیمانڈ فراہم نہ کرنے والے اداروں کو ریڈلیٹر جاری کئے جائیں، وزیراعلیٰ محمود خان

پشاور(نیوز رپورٹر)ضم اضلاع کے حوالے سے قائم صوبائی ٹاسک فورس کا اہم اجلاس وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں منعقدہوا۔ اجلاس میں ضلع شمالی وزیرستان میں سکیورٹی کی صورتحال، ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت، انضمام سے متعلق اُمور اور انتظامی معاملات کا جائزہ لینے کے علاوہ ضم اضلاع جنوبی وزیرستان، باجوڑ اور کرم کے حوالے سے ٹاسک فورس کے سابقہ اجلاسوں میں کئے گئے فیصلوں پر عمل درآمدکے سلسلے میں پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

صوبائی وزراء شاہرام خان ترکئی، تیمور سلیم جھگڑا، اکبر ایوب،اقبال وزیرا وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی کامران بنگش، کورکمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود، چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شکیل قادر، آئی جی پی ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی کے علاوہ متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز، متعلقہ ضم اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور دیگر سول و عسکری اداروں کے اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس میں شمالی وزیرستان کی مجموعی صورتحال پر اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے کردار کو سراہا گیا اور ہدایت کی گئی کہ دیگر ضم شدہ اضلاع میں بھی شمالی وزیرستان کی طرز پر پیشرفت یقینی بنائی جائے۔ وزیراعلیٰ نے اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضم اضلاع کی ترقی و خوشحالی موجودہ حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔

ضم اضلاع میں امن و امان کی بحالی اور ان علاقوں کی تعمیر و ترقی میں پاک فوج سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کا کردار قابل تعریف ہے اور اس سلسلے میں پاک فوج اور سول اداروں کے درمیان مثالی روابط قائم ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ضم اضلاع میں سرکاری دفاتراور دیگر انفراسٹرکچر کے قیام پر تیز رفتار پیشرفت یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ جن محکموں نے ابھی تک اس مقصد کیلئے درکار اراضی کی ڈیمانڈ فراہم نہیں کی اُنہیں ریڈلیٹر جاری کئے جائیں۔

اُنہوں نے ضم اضلاع کے ہسپتالوں میں طبی آلات کی فراہمی پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے، ضم اضلاع میں تعلیم اور صحت کے اداروں کی ریشنلائزایشن کا عمل جلد مکمل کرنے اور ضم اضلاع میں سیاحت کے فروغ کیلئے تین انٹگریٹڈ ٹوارزم زونز قائم کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے تمام ضم اضلاع میں پولیس کو مستحکم بنانے کیلئے پولیس اہلکاروں کی تربیت، اسلحے اور گاڑیوں کی خریداری کیلئے درکار مالی وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ اُنہوں نے مزید ہدایت کی کہ ضم اضلاع میں دو سالوں سے ایک ہی عہدے پر تعینات تمام کلریکل سٹاف کا تبادلہ کیا جائے۔

اجلاس کو شمالی وزیرستان کیلئے مجموعی ترقیاتی حکمت عملی اور اب تک مختلف شعبوں میں پیشرفت کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ شمالی وزیرستان کیلئے مجموعی طور پر 84 ارب روپے کے منصوبے رکھے گئے ہیں۔ تیز رفتار ترقیاتی پروگرام کے تحت شمالی وزیرستان کیلئے 26 ارب روپے کے منصوبے جبکہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 28 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے پروگرام کا حصہ ہیں۔

تیزرفتار عمل درآمد پروگرام کے تحت شمالی وزیرستان میں تعلیم کے شعبے کیلئے رواں ترقیاتی پروگرا میں 1.5 ارب روپے جبکہ صحت کے شعبے کیلئے اے آئی پی کے تحت 1.9 ارب روپے مختص ہیں۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ شمالی وزیرستان میں محکمہ پولیس مکمل طور پر فعال ہے اور محکمہ کی کارکردگی میں وقت کے ساتھ مزید بہتری لائی جارہی ہے۔

گزشتہ سال شمالی وزیرستان میں 77 ایف آئی آر درج کی گئی تھیں جبکہ اس کے مقابلے میں رواں سال ضلع میں 255 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور ضروری کاروائیاں عمل میں لائی گئی ہیں۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ 900 پولیس اہلکاروں کی تربیت کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے جبکہ مزید 1000 اہلکاروں کی تربیت کا عمل جلد شروع کیا جائے گا۔

شمالی وزیرستان میں نو پولیس سٹیشنز قائم کئے جا چکے ہیں اس کے علاوہ ضلع میں انسداد دہشت گردی کے ادارے (سی ٹی ڈی) باقاعدہ طور پر کام شروع کر دیا ہے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ شمالی وزیرستان میں لوگوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے ایک منصوبہ تیار کیا گیا ہے جس کے تحت روزگار کے چھ سے سات ہزار ذرائع پیدا کئے جائیں گے۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ شمالی وزیرستان میں گزشتہ تین مہینوں کے دوران 52 غیر فعال سکولوں کو فعال بنایا گیا ہے۔ اجلاس میں شمالی وزیرستان میں جوڈیشل سیٹ اپ کے قیام سے متعلق مسائل کے حل کیلئے سیکرٹری داخلہ اور ایڈوکیٹ جنرل ضروری اقدامات اُٹھانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں شمالی وزیرستان میں محکمہ معدنیات اور خوراک کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کے علاوہ درکار اسسٹنٹ کمشنرز کی فوری تعیناتی کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

اجلاس کو ٹاسک فور س کے سابقہ اجلاسوں میں کئے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کے حوالے سے بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ضم اضلاع میں ترقیاتی و اصلاحاتی اقدامات کے فالو اپ کیلئے طریقہ کار وضع کیا گیا ہے جس کے تحت چیف سیکرٹری کی سربراہی میں ماہانہ جائزہ اجلاس منعقد کیا جائے گاجبکہ صوبائی محکموں کے سربراہان اورڈپٹی کمشنرز کی طرف سے بھی ہر پندرہ روز کے بعد فیصلوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ جنوبی وزیرستان سے متعلق کئے گئے 70 فیصد فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنایا گیا ہے۔ اسی طرح ضلع کرم کے حوالے سے 40 فیصد جبکہ باجوڑ کے حوالے سے 45 فیصد فیصلوں پر عمل درآمد کرلیا گیا ہے جبکہ باقی ماندہ فیصلوں پر عمل درآمد جاری ہے۔جنوبی وزیرستان میں سب ڈویژن ہیڈکوارٹر تعمیر کیلئے زمین کی نشاندہی کرلی گئی ہے۔

علاوہ ازیں ضم اضلاع میں سرکاری عمارتوں کیلئے زمین کی خریداری سے متعلق قانون منظور کرلیا گیا ہے۔ اس موقع پر تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی گئی کہ صوبائی محکموں کیلئے درکار زمینوں کی خریداری کا تفصیلی پلان تیار کریں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ضم اضلاع میں آپس کے تنازعات کو حل کرنے کیلئے قانون کا مسودہ کابینہ سے منظور کروایا گیا ہے جو جلد حتمی منظوری کیلئے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ اجلاس میں تمام اضلاع کیلئے اکنامک ڈویلپمنٹ پلان تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ہدایت کی گئی ہے کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں ان اضلاع کیلئے قلیل مدتی، وسط مدتی اور طویل مدتی اکنامک سرگرمیوں پر مشتمل پلان تیار کیا جائے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ باجوڑ میں ایک نئے سب ڈویژن کے قیام کیلئے سمری کابینہ کے اگلے اجلاس میں پیش کی جائے گی۔ اس کے علاوہ باجوڑ اور مہمند کے درمیان سرحدی تنازعات کو حل کرنے کیلئے رواں ہفتے ہی غیر جانبدار جرگہ تشکیل دیا جائے گا۔

اجلا س کو آگاہ کیا گیا کہ تمام ضم اضلاع میں پولیس لائنز کے قیام کا منصوبہ سالانہ ترقیاتی پروگرا م میں شامل کیا گیا ہے جبکہ ضم اضلاع میں بڑے بازاروں کی تزئین و آرائش کیلئے پی سی ون تیار کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

خیبرپختونخوا میں سینئر سٹیزن ایکٹ کا نفاذ نہ ہوسکا،بزرگ پریشان

قانون پاس ہوئے 6سال مکمل ہوگئے ، صوبے کے 8 لاکھ سے زائدرجسٹرڈبزرگ افراد تاحال …