تسکین کا متلاشی شاعر

تسکین کا متلاشی شاعر

؎ چہ خہ خوشے صحرا وے
زہ ستا وے تہ زما وے
زمونگ بیلہ دنیا وے
یہ مشہور گیت اب بھی کوئی سنتا ہے تو ہمہ تن گوش ہو جاتا ہے کیوں کہ مذکورہ گیت میں جو فطری موڈ، منظر کشی اور کیفیت بیان کی گئی ہے اس کی تازگی آج بھی اسی طرح برقرار ہے جیسی ماضی میں تھی۔ اس کے علاوہ ان کی جتنی بھی غزلیں اور نظمیں پشتو کے معروف گلوکاروں نے گائی ہیں وہ لوگوں کے دلوں میں اتر چکی ہیں اور سب کو ازبر ہیں لیکن بہت کم لوگ ہوں گے جو ان گیتوں کے تخلیق کار سے ملے ہوں گے کیوں کہ وہ ایک تنہائی پسند اور گوشہ نشین شخصیت ہیں۔ دیکھنے میں عام سے انسان لگتے ہیں لیکن جب بات کی جائے تو کھل جاتا ہے کہ ان کے اندر علم کا سمندر بھی موج زن ہے کیوں کہ وہ صرف شاعر ہی نہیں بلکہ ماہر تعلیم بھی ہیں اور ساتھ ہی اپنے اس شعر کی تصویر بھی ہیں کہ
؎’’تا بے کارہ کڑمہ یارہ
گنی خہ د کار سڑے اوم‘‘
(میرے محبوب آپ ہی نے کسی کام کا رہنے نہ دیا ورنہ میں اچھا بھلا کام کا آدمی تھا) ساتھ ہی وہ میر کی طرح سادہ بھی ہیں اور حسن پرستی میں بھنورے کے طرف دار بھی۔ کسی زمانے میں بہت یارباش اور محفل آراء قسم کے انسان تھے لیکن پھر زندگی کے کسی موڑ پر انہوں نے ایسی چوٹ کھائی کہ دنیا کے لوگوں سے تو ان کا جی بھرگیا مگر زندگی کے بارے میں ان کی سوچ اور فلسفہ اس قدر رجائی ہے کہ اپنے ایک شعرمیں کہتے ہیں ،
؎ جوند دے نور تریخ شی خو خبرے د مرگی مہ وایہ
سہ مے پوختے سومرہ خوگہ دا زندگی مہ وایہ
( چاہے جیون مزید تلخ ہو جائے لیکن موت کی بات نہ کرو، مت پوچھ کہ زندگی کتنی حسین اور میٹھی ہے) جو لوگ ہمارے ممدوح کو قریب سے جانتے ہیں وہ اس بات کی تصدیق کریں گے کہ منفرد لب ولہجہ کے اس شاعر کی زندگی کا ہر پل ایک کرب اوراضطراب سے گزرتا ہے مگر دوسروں کے لیے ہمیشہ باعث تسکین رہتے ہیں تاہم مامتا کی شفقت و محبت سے محرومی ان کے دل کا ایک ایسا روگ بن چکی ہے جو انہیں اندر اندر سے کھائے جا رہا ہے، والدہ کے ذکر پر وہ اب بھی آب دیدہ ہو جاتے ہیں۔ محمد تسکین صوابی کے تاریخی گاؤں مانیرئی میں ہیڈ ماسٹر محمد یامین کے ہاں پندرہ ستمبر1949ء کو پیدا ہوئے جبکہ ان کے والد کی ڈائری میں سن پیدائش 1948درج ہے۔ مانیروال کا تخلص انہوں نے اپنے گاؤں کے نام کی مناسبت سے رکھا ہے ویسے ان کا نام محمد تسکین ہے جو ان کے مرحوم بھائی کا نام تھا لیکن جب وہ پیدا ہوئے تو والد نے ان کے لیے بھی یہی نام چنا۔ تسکین مانیروال بطور شاعر اور ماہر تعلیم ایسا مقبول نام ہے جس سے پشتو ادب سے تعلق رکھنے والا ہر کوئی بخوبی واقف ہے۔ ان کی شاعری کا اپنا ایک منفرد انداز ہے۔ اگر وہ اپنی کسی غزل یا نظم کے ساتھ اپنا نام نہ بھی لکھیں تو بھی جاننے والے جان جاتے ہیں کہ یہ تخیلق تسکین مانیروال کے علاوہ کسی اور کی نہیں ہوسکتی۔ چھوٹا قد، مخمورآنکھیں، آئن سٹائن مارکہ مونچھوں کے مالک کے ساتھ چند لمحے بیٹھ کر مخاطب پر یہ راز خود ہی کھل جاتا ہے کہ وہ علم وادب کی کتنی بڑی شخصیت سے مل رہے ہیں۔ تسکین مانیروال کی تین بہنیں اور تین بھائی ہیں۔ ان کا بچپن عام بچوں کی طرح ہی گزرا 1953ء میں پرائمری سکول میں داخل کرائے گئے، ہائی سکول صوابی سے1965 میں میٹرک کیا، ایف گوہاٹی کالج میں 1967ء میں کیا اور بی اے پرائیویٹ 1977ء میں کیا جب کہ بی ایڈ (1980ئ) کی ڈگری بھی بعد ازاں حاصل کی۔ انہوں نے 1969ء میں بطور مدرس خدمات انجام دینا شروع کیے اور 1999ء میں ہیڈ ماسٹر کی حیثیت سے ریٹائرڈ ہوئے۔ بچپن میں وہ بالکل شرارتی نہیں تھے جس کی وجہ سے کبھی والدین سے مار کھانے کی نوبت نہیں آئی۔ لڑکپن میں کسی حد تک شکار کے شوقین رہے اور شاہین کے ذریعے شکار کیا کرتے تھے۔ موسیقی سے رغبت رہی اور اب بھی ہے جبکہ شعر و شاعری کی طرف رجحان تو بچپن سے ہی ہو گیا تھا اور وہ ابھی چوتھی پانچویں میں ہی تھے کہ شعر کہنا شروع کر دیا تھا۔ بقول ان کے وہ فطری طور پر شاعر ہیں۔ سکول کے دنوں میں شاعری کا چلنے والا سلسلہ کالج دور میں بھی چلتا رہا اور جب وہ ایف اے کر رہے تھے تو ان دنوں گوہاٹی کالج سے ’’نیلاب‘‘ نام سے ایک رسالہ نکالا جس کی وجہ سے وہ شعراء کی نظر میں آ گئے اور ادبی حلقوں میں ان کی پہچان بنتی گئی۔ غنی خان، اشرف ملتون، حمید خان، مستری خان کیکیانی، قابل خان حیدر، کامگار خان خٹک کے ساتھ اٹھک بیٹھک رہی، اسی طرح خوشحال خٹک اور رحمان بابا کے فلسفے سے بھی بہت متاثر ہیں۔ ادب سے گہرے لگاؤ کے باوجود سیاست ان کو قطعی پسند نہیں اسی وجہ سے سیاست میں ان کا کوئی آئیڈیل بھی نہیں ہے۔ وہ زندگی میں اس حد تنہائی پسند ہیں کہ رشتہ ازدواج میں بھی نہیں بندھے جس کا احساس کبھی کبھی ان کو ہوتا ہے لیکن والدین کی کمی کا احساس بہت زیادہ ان کو ہوتا ہے۔ تسکین مانیروال انجمن ترقی پسند کے فلسفے سے متاثر ہیں، ماہیے کی صنف پشتو شاعری میں متعارف کرانے کا سہرا انہی کے سر ہے جبکہ پنجابی کی یہ صنف اردو میں امجد اسلام امجد نے متعارف کرائی۔ ’’چی خہ خوشے صحرا وے‘‘ 1973ء میں لکھا جس کو بہت سے گلوکاروں نے گایا بلکہ کچھ شاعروں نے تو اپنے نام کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ تسکین مانیروال تصوف کو پسند کرتے ہیں اور وہ شاعری شوق سے پڑھتے رہے ہیں جس میں تصوف کی جھلک ہو۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ تنقید کا شاعری میں کتنا رول ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ تنقید اہم کردار ادا کرتی ہے کیوں کہ اس کی وجہ سے اصلاح ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے کھرے کھوٹے کا پتہ چلتا ہے۔ پشتو گلوکاروں سرفراز، سردار علی ٹکر، ظفر اقرار، کفایت شاہ، کرن خان کی آوازیں بہت پسند ہیں۔ 1964ء میں جب وہ نویں جماعت میں تھے اس وقت مردان جا کر پہلی فلم دیکھی تھی جس میں راج کپور اور نرگس نے کردار ادا کیے تھے۔ اگرچہ ان کی طبعیت سے لطیفے میل نہیں کھاتے لیکن پھر بھی کبھی کبھی سنتے ہیں۔ اس وقت زندگی میں سب سے زیادہ کمی والدہ کی محسوس کرتے ہیں۔ وہ چوہے اور آسمان کی گڑگڑاہٹ سے خوف محسوس کرتے ہیں۔ وہ مشاعروں وغیرہ میں بہت کم جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شہرت کے پیچھے نہیں بھاگنا چاہیے بلکہ اچھا کام کیا جائے تو یہ خود بندے کے پیچھے آتی ہے۔ عشق کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ عشق کیا بلکہ اب بھی کرتا ہوں اور ناکام بھی نہیں۔کھانے میں سادہ خوراک پسند کرتے ہیں اور بھنڈی شوق سے کھاتے ہیں جبکہ پھلوں میں آم اور خربوزے کو پسند کرتے ہیں۔آسمانی رنگ ان کو بہت بھلا لگتا ہے جبکہ قدرتی مناظر اور خاص طور پر بے ترتیبی سے اگے ہوئے درختوں پر مشتمل مناظر پسند ہیں۔ سیر و سیاحت کے شوقین رہے ہیں اور مشرق بعید دیکھا ہے اب بھی سیروسیاحت کرنے کو جی چاہتا ہے لیکن اب ان کی جیب اجازت نہیں دیتی۔ پاکستان میں صرف پنڈی اور منگلا تک گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کو ایک روز کے لیے اقتدار ملے تو وہ سارے سیاست دانوں کو کوئلے کی کان میں بھجوا دیں گے۔ نشے کی لت میں بھی گرفتار رہے بلکہ اب بھی ہیں۔ اس حوالے سے کہتے ہیں کہ اس کی وجہ سے بہت نقصان اٹھایا، مالی طور پر اور جسمانی طور پر بھی، دوسروں کو اس سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں۔ قرآن پاک کی تلاوت سننا ان کو بہت اچھا لگتا ہے اور قاری باسط کی آواز سے بہت متاثر ہی۔ اپنے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے جیسی بھی زندگی گزاری لیکن زندگی میں بہت پیار ملا ہے، آج بھی شاگرد ملتے ہیں تو بہت قدر کرتے ہیں ہاتھ پاؤں چومتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نشے کی وجہ سے زندگی میں بہت مسائل آئے، علاج بھی کرایا لیکن نہیں چھوڑ پایا، والدہ کی وفات کے بعد نشہ چھوڑ دیا تھا لیکن پھر بہک گئے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار بہرحال ضرور کیا کہ اس بار رمضان سے قبل نشہ وغیرہ چھوڑ دیں گے۔ پشتو لٹریری سوسائٹی صوابی نے ان کی کتاب ’’خہ خوشے صحرا وے‘‘ شائع کردی ہے۔