طورخم بارڈر بندش سے 5ہزارمزدور بیروزگار،یونین کا احتجاجی دھرنا جاری

گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑگئے، کورونا کی سنگینی میں خاصی نرمی آئی ہے ، طورخم بارڈر پر ایکسپورٹ امپورٹ کو بحال کیاجائے، شرکاء

لنڈیکوتل(نمائندہ شہباز)پاک افغان بارڈر طورخم پر مزدور یونین کا احتجاجی دھرنا ساتویں روز بھی جاری رہا،مظاہرے میں بڑی تعداد میں مقامی افراد نے شرکت کی جس میں سیاسی اتحاد کے رہنماؤں کے علاوہ ایم پی اے شفیق شیر آفریدی بھی موجود تھے مزدور یونین کے صدر فرمان شنواری نے اس موقع پر کہا کہ کورونا وائرس کی وباکی وجہ سے طورخم بارڈر 7ماہ سے بند ہے جس سے تقریباً 5 ہزار مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں

انہوں نے کہا کہ اب چونکہ کورونا کی سنگین صورتحال میں خاصی نرمی آئی ہے اس لئے طورخم بارڈر پر ایکسپورٹ امپورٹ کو بحال کیاجائے انہوں نے کہا کہ جب سے بارڈر بند کیاگیا ہے تب سے تمام مزدور بہت مشکل سے دوچار ہیں ان کے گھروں میں چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں ان کے خاندان فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔مقررین نے کہا کہ بارڈر بندش سے مزدور طبقہ مالی مشکلات سے دوچار ہوا ہے بے روزگاری کے اس عالم میں وہ نفسیاتی بیمار ہو گئے ہیں اسلئے حکومت مزدور طبقہ سے روزگار چھیننے کے بجائے انہیں مزید مواقع مہیا کرے مزدور یونین اور سیاسی اتحاد کے مشران نے مذاکراتی کمیٹی بنا کر سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کیساتھ مزاکرات کا عمل جاری کر دیا

مزدوروں کا موقف تھا کہ وہ اس وقت تک ا حتجاجی دھرنا جاری رکھیں گے جب تک ان کو طورخم بارڈر پر سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی، کامیاب مذاکرات کے بعد انہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ ہفتے میں 3 دن یعنی منگل، جمعرات اور ہفتے کو طورخم بارڈر آمدورفت کیلئے کھلارہے گا جبکہ 2 ہفتے بعد باقاعدگی سے ہفتے میں پانچ دن کھلا رہے گا جس پر مظاہرین منتشر ہوئے اور ریڈ زون سے پنڈال چلے گئے ۔

یہ بھی پڑھیں

کورونا پھیلاو، حکومت کا پشاور میں 30 بازاروں کو سیل کرنیکا فیصلہ

پشاور (آن لائن) خیبر پختونخوا حکومت نے کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے خطرات …

%d bloggers like this: