شمالی وزیرستان کے کالجز میں میرٹ پر مقامی افراد کی بھرتی کا مطالبہ

اگر غیر مقامی افراد کو بھرتی یا میرٹ کی پامالی کی گئی تو احتجاج کا راستہ اپنانے سمیت عدالت سے بھی رجوع کریں گے، قدرت اللہ

حالیہ بھرتیوں میں ڈاکٹر کامولاجان کی صاحبزادی کو نظر انداز کیا گیا ، صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم نوٹس لے، محمد علی اور دیگر کی گفتگو

بنوں(نمائندہ شہباز)شمالی وزیرستان کے عمائدین اور عوامی نمائندوں نے محکمہ تعلیم سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر شمالی وزیرستان کے کالجوں میں حالیہ بھرتیوں میں غیر مقامی افراد کو بھرتی کیا گیا یا میرٹ کی پامالی کی گئی تو احتجاج کا راستہ اپنائیں گے .

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قدرت اللہ،محمد علی اور دیگر نے کہاکہ چند دن پہلے شمالی وزیرستان میں محکمہ تعلیم نے اخبار میں اشتہار دیا تھا کہ مختلف کالجوں میں مر د اور خواتین کی نشستیں خالی ہیں جس کیلئے مختلف مرد اور خواتین نے درخواستیں جمع کی ہیں

اب ہمیں مختلف ذرائع سے یہ معلوم ہوا ہے کہ غیر مقامی افراد اور میرٹ کی بنیاد پر بھرتیاں نہیں کی جارہی ہے ڈاکٹر کامولا جان کی صاحبزادی میرٹ کی بنیاد پر آتی ہے لیکن اس کی تعیناتی نہیں کی گئی ہے

جو کہ کھلم کھلا میرٹ کی خلاف ورزی ہے اُنہوں نے صوبائی حکومت، محکمہ تعلیم اور شمالی وزیرستان کے پارلیمینٹرینز سے مطالبہ کیا کہ عوام کے خدشات کا نوٹس لیا جائے اگر غیر مقامی افراد کی بھرتی یا میرٹ کی بنیاد پر بھرتیاں نہیں کی گئیں تو ہم مجبوراً احتجاج کے ساتھ ساتھ عدالت سے بھی رجوع کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں

مہنگائی کا جن بے قابو‘ تخت بھائی میں یوٹیلیٹی سٹورز پر آٹا‘ چینی اور گھی نایاب

مارکیٹ میں تاجروں نے من مانے ریٹ مقرر کردیئے ‘ مقامی انتظامیہ غائب ‘ ڈپٹی …