لکی،گرینڈ ہیلتھ الائنس کی کال پر سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی ہڑتال

فائرنگ سے 2افراد کی موت کا ذمہ دار گورنمنٹ سٹی ہسپتال کے ڈاکٹروں کو ٹھہرانا اور ان کیخلاف مقدمات کا اندراج ناقابل قبول ہے

لکی مروت(نمائندہ شہباز) گرینڈ ہیلتھ الائنس کی اپیل پرلکی مروت فائرنگ واقعہ میں زخمی افراد کی مبینہ طور پر بروقت طبی امدادنہ ملنے سے جاں بحق ہونے پر لواحقین کی طرف سے گورنمنٹ سٹی ہسپتال کے 2 ڈاکٹروں کے خلاف مقدمے کے اندراج پر احتجاجاً ضلع بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹر اور طبی عملے کے ارکان 2 دن سے ہڑتال پر ہیں اور انہوں نے او پی ڈی سروس اور نجی کلینکس بند کردیئے ہیں، 20جنوری کو محلہ باغبان میں فائرنگ واقعہ میں پانچ افراد جاں بحق ہوگئے تھے

اس واقعہ میں زخمی ہونے والے دو افراد ہسپتال میں دم توڑ گئے تھے جس پر لواحقین نے الزام لگایا تھا کہ ہسپتال میں ڈاکٹر ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے اور بعد میں انہوں نے اہل علاقہ کے ہمراہ لاشیں لاری اڈے پرقاضی اشفاق چوک میں رکھ کر بنوں میانوالی شاہراہ کو بند کردیا تھا۔

واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس نے سٹی ہسپتال کے ڈاکٹر ذاکر اور ڈاکٹر عبدالوحید زکوڑی سمیت طبی عملے کے خلاف ڈیوٹی سے غیر حاضری، غفلت برتنے اور علاج میں تاخیر کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا جبکہ ڈپٹی کمشنر عبدالحسیب نے پانچ رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی۔

گرینڈ ہیلتھ الائنس نے ڈاکٹروں کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج اور ڈپٹی کمشنر کی تحقیقاتی کمیٹی کو مسترد کرتے ہوئے ہسپتالوں میں او پی ڈی سروس اور نجی کلینکس بند کردیئے، ڈاکٹروں کی ہڑتال سے شہریوں کو علاج معالجے کے حصول میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

شہری اور دیہی علاقوں سے لائے گئے مریض دن بھر انتظار کے باوجود گھروں کو مایوس واپس لوٹ گئے، بعض مریضوں کے ساتھ آئے ہوئے ان کے رشتہ داروں کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں کی ہڑتال کا کوئی جواز نہیں بنتا وہ ہسپتالوں اور کلینکس میں مریضوں کے معائنے سے انکار کی بجائے قانونی جنگ لڑیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت انہیں بتائے کہ وہ اپنے مریضوں کو کہاں لے کر جائیں۔

ادھر ہیلتھ الائنس کے رہنمائوں کا کہنا ہے کہ ہڑتال کے دوران ایمرجنسی سروس اور لیبر روم اور دیگرسروسز بحال رہیں گی ، انہوں نے ڈاکٹروں کے خلاف درج مقدمہ واپس لینے اور غیر جانبدار انکوائری کمیٹی کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ مطالبات پورا نہ ہونے پر احتجاج کو صوبہ بھر میں وسعت دی جائے گی ۔

انہوں نے ضلعی انتظامیہ کے رویئے کی مذمت کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال میں ڈاکٹروں کی رہائش گاہیں غیر متعلقہ افسران سے فی الفور خالی کرانے، ڈاکٹروں کو سیکورٹی کی فراہمی اور واقعہ کی تحقیقات کے لئے صوبائی سطح پر انکوائری کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ کیا ۔

ادھر گرینڈ ہیلتھ الائنس نے فائرنگ واقعہ کی آڑ میں ڈاکٹروں کے ساتھ غیر مناسب رویے رکھنے، کار سرکار میں مداخلت اور عوام کو ڈاکٹروں کے خلاف اکسانے پر حماد اور ان کے ساتھیوں کے خلاف مقدمے کے اندراج کے لئے تھانہ لکی مروت میں درخواست جمع کرادی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں

لنڈیکوتل‘ خوگہ خیل قوم کا این ایل سی حکام کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

طور خم بارڈر پر قوم کیساتھ ہونے والے معاہدے کو عملی شکل‘زمین پر مبینہ ناجائز …