جندول، اراضیات کی تقسیم پر اقوام کے مابین خونریز تصادم کا خدشہ

اسسٹنٹ کمشنر کے ایماء پر ضلعی انتظامیہ کے اہلکار اراضی کی پیمائش کرکے اسے سابق خان کے بچوں کو حوالے کرنا چاہتے ہیں، مظاہرین کا الزام

جندول(نمائندہ شہباز) تحصیل ثمر باغ کے اقوام جندول نے اراضیات تنازعہ میں انتظامیہ کی جانب داری کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقامی قومی مشران عابد خان ،اسفندیار خان ، ملک حضرت خان ،سعید احمد پاچا، روح اللہ شاکر ،نگین خان ایڈوکیٹ و دیگر نے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر کی ایماء پر ضلعی انتظامیہ کے اہلکار اراضیات کی پیمائش کرکے اقوام جندول کے پدری و جدی جائیداد کو سابق خان جندول کے بچوں کو حوالہ کرنا چاہتے ہیں جو کہ کسی صورت انہیں قابل قبول نہیں ۔

قومی مشر مست خیل عابد خان اور اسفندیار خان نے کہا کہ مذکورہ آراضیات سینکڑوں سالوں سے اقوام شاہی خیل، مست خیل ، علی بی خیل و دیگر اقوام کی جائیدادیں تھیں تاہم سابق حکمران دیر نے ان پر جبری قبضہ کیا تھا، اگر سابق نواب دیر کے پاس اراضیات کے اسناد یا بائع نامہ ہو یا ان کے پاس کوئی ٹھوس ملکیتی ثبوت ہو تو قوام جندول کے پاس آکر ثبوت پیش کریں ۔

ان کا کہنا تھا کہ سابق حکمران دیر ضلع دیر پائین کا رہائشی نہیں تھا بلکہ ضلع دیر بالا سے اس نے جندول کے اراضیات پر قبضہ جمالیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر پہلے فریقین کو طلب کرکے ان سے اراضیات کی حدودات اور اثبات ثبوت طلب کریں اس کے بعد اقدام اٹھائیں ۔

مقامی عمائدین نے کہا کہ مذکورہ اراضیات اب سابق سٹیٹ ملازمین اور مقامی اقوام کے زیر قبضہ ہیں تاہم حکومت قوم پر ایک خاص شخص کو ترجیح دیکر علاقہ میں خونریزی برپاں کرنا چاہتی ہے ۔انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر حکومت نے دوبارہ انتظامیہ کے اہلکاروں یا پٹواریوں کو بھیجا تو کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعہ کی ذمہ داری موجودہ انتظامیہ کے افسران پر ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں

شانگلہ، نامعلوم افراد کی فائرنگ سے باپ تین بیٹوں سمیت قتل

شانگلہ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے باپ اور اس کے تین بیٹوں کو …