اقوام جانی خیل کا گرینڈ جرگہ،ایک بار پھر دھرنا دینے کا عندیہ

بنوں (نما ئندہ شہباز )جانی خیل کے عوام نے ایک بار پھر دھرنا دینے کا عندیہ دے دیا اور کہا کہ ہمارے مطالبات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا ، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے مذاکرات سے واپسی پر جانے کے بعد پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور نہ ہی قوم کے حال احوال کیلئے رابطہ کیا، ہم نے دھرنا ختم نہیں بلکہ صرف ملتوی کیا ہے غیر سنجیدگی دکھانے پر دوبارہ میدان لگائیں گے۔

اقوام جانی خیل کا منڈی کے مقام پر اظہار تشکر کیلئے جرگہ بلایا گیا ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں عوام شریک ہوئے جرگہ کی صدارت ملک مویز خان کر رہے تھے جبکہ 60 ہزار وزیر کے ملک ڈاکٹر گل عالم خان اور ایپی فقیر کے پوتے شیر محمد خان وزیر نے خصوصی شرکت کی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے ملک مویز خان، ڈاکٹر گل عالم خان وزیر ، ملک عدنان خان ودیگر مشران نے کہا کہ21مارچ کو جانی خیل میں ملنے والی چار نو عمر بچوں کی لاشوں کو انصاف مانگنے اور علاقہ میں امن کے قیام کیلئے قوم نے آٹھ روز تک دھرنا دیا جس میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے کارکنوں وزیر، بنوچی ،داوڑ ، خٹک، مروت ، بیٹنی ، شیرانی احمد زئی و اتمانزئی کے تمام شاخوں نے بھر پور شرکت کرتے ہوئے جانی خیل قوم کے ساتھ دکھ کی اس گڑھی میں شریک ہوئے جس کے ہم نہایت مشکور ہیں

شرکاء نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور دیگر وزراء جانی خیل دھرنا کے مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کیلئے بنوں آ ئے تو ہم نے صرف اور صرف ایک بڑا مطالبہ امن کے قیام کا پیش کیا اسی طرح دیگر تین مطالبات پیش کئے لیکن ضرورت پہلے امن کی ہے صوبائی حکومت نے ہم سے مذاکرات کئے اور آٹھ نقاطی معاہدہ قوم کو دیا کہ امن کا قیام ، لاپتہ آفراد کی بازیابی ، تمام مسلح گروپوں کا خاتمہ ، شہداء پیکج ، واقعہ کی انکوائری ، کسی کے گھر کو نہ مسمار کرنے کے اقدامات شامل تھے اب حکومت نے صرف شہداء پیکیج دیا ہے اور ایک لاپتہ نوجوان کو قوم کے سامنے پیش کیا اس سے بعد حکومت نے معاہدے میں کوئی پیش قدمی نہیں کی ہے ملک مویز خان نے کہا کہ علاقہ میں ترقی امن سے مشروط ہے جب امن نہ ہو ہماری جان محفوظ نہ ہو سکول، ہسپتالوں اور سڑکوں کا ہم کیا کریں گے ہمارا امن کا مطالبہ ہے اور یہ ہماری مطالبہ نہیں بلکہ ہماری حق ہے ، اس موقع پر جانی خیل دھرنا میں شرکت نہ کرنے اور قومی پابندیوں کے بر خلاف اقدامات اُٹھانے پر جرمانے وصول کئے گئے ، ڈاکٹر گل عالم خان نے دھرنے میں اعلان کیا کہ اگر دوبارہ ایسا کیا گیا تو ایک کروڑ جرمانہ ادا کرنا ہو گا

اُنہوں نے منشیات کا مکروہ دھند ا کرنے والوں کے خلاف بھی اعلا ن کیا کہ منشیات فروش کو پانچ لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے گا کیونکہ یہی لوگ ہماری نئی نسل کی تباہی کے ذمہ دار ہیں لہذا منشیات سے اجتناب کیا جائے اُنہوں نے حکومت سے علاقہ میں نیٹ سروس شروع کرنے کا بھی مطالبہ کیا شرکاء نے فیصلہ کیا کہ جیسے اعلان ہو گا تمام جانی خیل اقوام یک زبان ہو کر اسلا م آباد کی طرف مارچ کریں گے ۔

یہ بھی پڑھیں

شانگلہ، نامعلوم افراد کی فائرنگ سے باپ تین بیٹوں سمیت قتل

شانگلہ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے باپ اور اس کے تین بیٹوں کو …