اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں کے قول و فعل میں تضاد ہے، مولانا گل نصیب

آئندہ انتخابات تک ہم بھر پور تیاری کریں گے،38 سال جمعیت کی خدمت کی اور دودھ سے بال کی طرح ہمیں نکالے جانے کا اعلان کیا گیا


بنوں(نمائندہ شہباز)جمعیت علماء اسلام پاکستان کے رہنما وسابق سینیٹر مولانا گل نصیب خان نے بنوں پریس کلب میں سوشل میڈیا ورکشاپ سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت ملک میں ایسی فضا چل رہی ہے کہ اسٹبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں کے قوم و فعل میں واضح تضاد ہے اور اس وقت پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں اپنے ذاتی مفادات کیلئے یکجا ہوئی ہیں جس میں جمہوریت نہیں بلکہ بد ترین امریت ہے پی پی پی، مسلم لیگ ن سمیت جمعیت علماء اسلام ف میں موروثی سیاست آچکی ہے کارکن کی کوئی قدر نہیں ،وہ 60 سال بھی نعرے لگائے جیلیں کاٹے کارکن ہی رہے گا،

جمعیت علما اسلام کسی زمانے میں ان چیزوں سے آزاد تھی ہم بھی ان کے ساتھ تھے اور ان پر جان نچھاور کرنا معمولی بات سمجھتے تھے جمعیت علماء اسلام ایک دستوری جماعت ہے جبکہ جمعیت میں فضل الرحمن کی کوئی آئینی حیثیت نہیں اور ان کے تمام فیصلے غیر ائینی غیر جمہوری اور امریت پر مبنی ہیں جب تک جمعیت علام اسلام کے اندر فیصلے آئینی تھے تو ہم بھی ساتھ تھے لیکن جب غیر آئینی ترمیمات ہونے لگے تو ہم نے 15 سال پارٹی آئین کو بچانے کے لئے عملی جدوجہد کی اور اسی وجہ سے ہم پارٹی کی نظروں میں کانٹا بن گئے پارٹی میں ایسی تبدیلیاں کی گئیں کہ پارٹی میں کسی کے ساتھ زیادتی ہوجائے وہ کسی کو اپیل بھی نہیں کر سکتا ضلع اور صوبے کی تنظیموں کو بے اثر کر دیا گیا ہے ہمیں نکالا گیا لیکن ہم نکلے کب ہیں ہم تو اپنی پارٹی میں ہیں اور اس کی حفاظت کر رہے ہیں

انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلا م کے قائدین الیکشن کمیشن کو 4 درخواست دے چکے ہیں کہ پارٹی نام کے ساتھ ف لکھا جائے جو دستوری اور آئینی نہیں جب پارٹی کے دستور میں نام کے ساتھ ف نہیں ممبر شپ فارم پر ف نے لیٹر پیڈ پر ف نہیں تو یہ دستوری عمل کیسے ہوسکتا ہے

انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں اگر ہم دستوری لوگوں کے حق میں فیصلہ ہوا اور پارٹی حوالے ہوئی تو ف کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی اور انتخابات میں اگر ان لوگوں نے ہمیں ٹکٹ کے لئے درخواست دی تو ہم ان پر سوچ سکتے ہیں کیونکہ جمعیت علماء اسلام اپنے آئین کے اندربدستور برقرار ہے اور سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ہم تمام آئینی ناراض کارکنوں کو راضی کریں گے اور ان کو آگے بھی لائیں گے آئندہ انتخابات تک ہم بھر پور تیاری کریں گے

انہوں نے کہا کہ 38 سال جمعیت کی خدمت کی اور دودھ سے بال کی طرح ہمیں نکالے جانے کا اعلان کیا گیا اور ہمیں اپیل کا حق تک نہیں دیا گیا انہوں نے اعلان کیا کہ بہت جلد ہم بنوں میں ورکر کنونشن کا انعقاد کریں گے تمام ناراض اور نظر انداز ارکان جمعیت کو راضی کریں گے اور بھر پور طاقت کا مظاہرہ کریں گے ناراض کارکنوں اور قائدین کو جماعت کے اندر اپنا اہم مقام دینگے قبل ازیں انہوں نے سوشل میڈیا ورکشاپ سے بھی خطاب کیا جس سے سابقہ ایم این اے اور سابقہ جنرل سیکرٹری مولاناشجاع الملک ، مفتی عبدالغنی ایڈوکیٹ، حافظ محمد اسماعیل فرمان اللہ میراخیل،مولانا فضل الرحمن بارکزئی سمیت دیگر رہنمائوں نے بھی خطاب کیا۔

یہ بھی پڑھیں

شانگلہ، نامعلوم افراد کی فائرنگ سے باپ تین بیٹوں سمیت قتل

شانگلہ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے باپ اور اس کے تین بیٹوں کو …