پی ٹی ایم کا جنوبی وزیرستان میں جلسہ، علی وزیر کی رہائی کا مطالبہ

حقوق کے حصول کیلئے آواز اٹھانے والوں کو جیل میں ڈالنا ظلم ہے، منظور پشتین

وانا(نمائندہ شہباز) صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان کے ہیڈکوارٹر وانا میں پشتون تحفظ موومنٹ کے زیر اہتمام ہونے والے جلسے میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور ضم اضلاع میں جاری زمینی تنازعات، جبری گمشدگیوں اور بارودی سرنگوں کے خاتمے اور ممبر قومی اسمبلی علی وزیر سمیت گرفتار کارکنوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔اس جلسے سے تحریک کے بانی منظور پشتین، شمالی وزیرستان سے ممبر قومی اسمبلی محسن داوڑ سمیت پی ٹی ایم کے دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا اور گذشتہ چار مہینوں سے گرفتار رہنما اور جنوبی وزیرستان سے ممبر قومی اسمبلی علی وزیر کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

پشتون تحفظ مومنٹ کے سربراہ منظور احمد پشتین نے کہا کہ علاقے کے لوگ امن چاہتے ہیں اور یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کی جان ومال کی حفاظت کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اداروں کی عدم دلچسپی کے باعث ضم اضلاع کے لوگ مختلف مسائل سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب یہی لوگ حکومت کے ظلم و ستم اور ناروا سلوک کیخلاف آواز اٹھاتے ہیں تو ان کو جیلوں میں بند کردیا جاتا ہے۔

انہوں نے گرفتار پی ٹی ایم رہنماؤں، کارکنوں کی رہائی اور لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔علاقے میں جاری دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے محسن داوڑ نے کہا کہ علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے دعوؤں کے بعد ہم اپنی سرزمین میں قتل وغارت گیری، بدآمنی، ظلم وجبر، ناانصافیاں، ٹارگٹ کلنگ، کالے شیشے کے گاڑی میں گھومنا، لوٹ گھسوٹ اور قوموں کے آپس میں لڑائی کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہم ہر حالت میں امن چاہنے والے لوگ ہیں۔ اور ہم ان لوگوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ علاقہ کے جتنے لیڈرز ہے وہ اس کی روک تھام میں اپنا کردار ضرور ادا کریں۔ ایک کہاوت مشہور ہے۔ ”کہ ایک ہاتھ سے تالی نہیں بجتی”۔ اگر ہم لوگ ایک دوسرے کا ہاتھ بٹھائے تو لوگ خوشحال زندگی بسر کرینگے۔

یہ بھی پڑھیں

سلیم راز کی وفات سے پیدا ہونے والا خلاء کبھی پر نہیں ہوسگے گا، سردار حسین بابک

چارسدہ: عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے جنرل سیکرٹری و ڈپٹی اپوزیشن لیڈر سردا ر …