اپنی سرزمین پر مزید بدامنی کے متحمل نہیں ہو سکتے، ہم امن چاہتے ہیں، منظور پشتین

ایک بے گناہ کو بغیر کسی جرم کے اٹھانا اور پھر کچھ دن بعد اسے جعلی مقابلے میں قتل کرنا آئینی اور قانونی طور پر نا قابل قبول ہے، سربراہ پی ٹی ایم

باڑہ (نمائندہ شہباز) ہم اپنی سرزمین پر امن چاہتے ہیں، عرفان اللہ آفریدی کو انصاف ملنے تک پشتون تحفظ مومنٹ کے کارکن ان کے لواحقین کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔ ان خیالات کا اظہار پشتون تحفظ مومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے عرفان اللہ آفریدی کی ماورائے عدالت قتل کے خلاف احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

احتجاجی دھرنے میں جمعیت علماء اسلام ضم اضلاع کے امیر وایم این اے مفتی عبدالشکور، ایم این اے مولانا جلال الدین، ایم این اے علی وزیر اور ایم پی اے شفیق آفریدی کے علاوہ دیگر سیاسی پارٹیوں اور سماجی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے قائدین سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔عرفان اللہ آفریدی کی ماورائے عدالت قتل کے خلاف احتجاجی دھرنے کے چھٹے روز مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے شرکاء نے کہا کہ ہم اپنی سرزمین پر مزید بدامنی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

ہم امن چاہتے ہیں، ہمیں مزید ذلیل و خوار نہ کیا جائے۔مقررین نے کہا کہ انضمام کے باوجود قبائلی عوام کے ساتھ پرانے فرسودہ نظام جیسے مظالم جاری ہیں انہوں نے کہا کہ ایک بے گناہ کو بغیر کسی جرم کے اٹھایا جاتا ہے اور کچھ دن بعد اسے مقابلے میں قتل کیا جاتا ہے جو آئینی اور قانونی طور پر نا قابل قبول ہے

مقریرین نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ضم اضلاع بالخصوص خیبر میں دوسرے اضلاع کی پولیس کاروائیاں نہ کریں اور اگر دوبارہ اس طرح کی غلطی کی گئی تو اس کے نتائج بہت ہی خراب ہوں گے۔آخر میں مقتول کے ورثاء کو انصاف ملنے تک احتجاج کا سلسلہ جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں

دتہ خیل قبیلے کی معاوضوں کی عدم فراہمی کیخلاف احتجاجی تحریک شروع کرنیکی دھمکی

دہشت گردوں کیخلاف آپریشن سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کیلئے فوری طور پر سروے …