چاند رویت اختلافات ، مفتی منیب اور پوپلزئی اجلاس میں شریک نہ ہوئے

اسلام آباد(آن لائن) چاند کی رویت کے معاملے پر اختلافات کے خاتمے کے لیے بلائے گئے اہم اجلاس میں چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان اور مفتی شہاب الدین پوپلزئی پیش نہ ہوئے۔سینیٹ و قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی ہم آہنگی کا اجلاس ہوا جس میں وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی جانب سے قمری سائنسی کلینڈر سے متعلق ممبران کو بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان اور مسجد قاسم خان پشاور کے مہتمم مولانا شہاب الدین پوپلزئی کو بھی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی تاہم دونوں شریک نہ ہوئے۔وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ رویت ہلال کمیٹی نے 3 مہینوں کی تاریخیں غلط دیں، ذی القعد، صفر اور رجب کی تاریخیں غلط دی گئیں۔فواد چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب اور ایران میں رویت کا فیصلہ سائنسی بنیاد پر کیا جاتا ہے، گروہ بندیاں نظریاتی طور پر نقصان پہنچاتی ہیں۔

وفاقی وزیر نے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کونسل کا کام عوام کے معیار کے مطابق نہیں ہے۔چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل مولانا طاہر اشرفی کا قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی مشکل کام کرنے جا رہی ہے، یہ مسئلہ چاند کا نہیں شخصیات کا ہے، قوم ایک متفقہ چاند چاہتی ہے اور پوری قوم آپ کے ساتھ ہے۔حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ کون کہہ سکتا ہے کہ سائنس کی مدد کے بغیر چاند دیکھا جاسکتا ہے، دوربین سے دیکھ کر ہی ہم چاند کی تصدیق کرتے ہیں، ہمیں وحدت کی بہت ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ مفتی منیب الرحمان اور مفتی شہاب الدین پوپلزئی کو بار بار بلانا چاہیے، مفتی منیب الرحمان حکومت کے ادارے کے سربراہ ہیں، انہیں سرکاری اداروں کی جانب سے بلانے پر آنا چاہیے، اگر مفتی منیب نہیں آنا چاہتے تو عہدے سے استعفیٰ دے دیں۔طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ ضد کا ہے، ضد کو چھوڑا جائے، اگر وہ ضد کر رہے ہیں تو آپ نہ کریں، آپ بار بار انہیں بلائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کو ہمیشہ سیاسی ٹول کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا، ڈی این اے کو ایک اجلاس میں ناقابل قبول قرار دیا گیا، دنیا ڈی این ایکو قبول کر رہی ہے، ہم ڈی این اے کی شہادت ماننے سے انکار کرتے رہے۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان میں خدمات دینے پر افغان خاتون ڈاکٹر کے چرچے

اسلام آباد(ویب ڈیسک)پاکستان میں اس وقت اگرچہ 30 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین رہائش پذیر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔